مسلمانوں کو ایذا دینے والے کافر کی سزا
بسم اللہ الرحمن الرحيم
جو کافر مسلمانوں کو ایذا دیتا ہو، اسے دوسرے کافروں کے مقابلے سخت سزا ہوگی
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
جواب
ایسا کافر، جو مسلمانوں کو دنگا، فساد، قتل و غارت گری وغیرہ سے پریشان کرتا ہو، وہ اپنے جرمِ کفر کے ساتھ ساتھ ایذائے مسلم کے سنگین گناہ کا مرتکب بھی ہوتا ہے، لہٰذا وہ کفرکی سزاکے ساتھ ساتھ ایذائے مسلم کی سزاکابھی حق دارہے۔
قرآن پاک میں ہے ﴿رَبَّنَاۤ اَخْرِجْنَا مِنْهَا فَاِنْ عُدْنَا فَاِنَّا ظٰلِمُوْنَ (107) قَالَ اخْسَــٴُـوْا فِیْهَا وَ لَا تُكَلِّمُوْنِ (108) اِنَّهٗ كَانَ فَرِیْقٌ مِّنْ عِبَادِیْ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَاۤ اٰمَنَّا فَاغْفِرْ لَنَا وَ ارْحَمْنَا وَ اَنْتَ خَیْرُ الرّٰحِمِیْنَﭕ (109) فَاتَّخَذْتُمُوْهُمْ سِخْرِیًّا حَتّٰۤى اَنْسَوْكُمْ ذِكْرِیْ وَ كُنْتُمْ مِّنْهُمْ تَضْحَكُوْنَ (110)﴾ ترجمہ کنز الایمان: اے ہمارے رب ہم کو دوزخ سے نکال دے پھر اگر ہم ویسے ہی کریں تو ہم ظالم ہیں، رب فرمائے گا دُتکارے (ذلیل ہو کر) پڑے رہو اس میں اور مجھ سے بات نہ کرو، بے شک میرے بندوں کا ایک گروہ کہتا تھا اے ہمارے رب ہم ایمان لائے تو ہمیں بخش دے اور ہم پر رحم کر اور تو سب سے بہتر رحم کرنے والا ہے، تو تم نے انہیں ٹھٹھا بنالیا یہاں تک کہ اُنہیں بنانے کے شُغل میں میری یاد بھول گئے اور تم اُن سے ہنسا کرتے۔ (پارہ 18، سورۃ المؤمنون، آیت 107 تا 110)
اس کے تحت تفسیر رازی میں ہے ”فوصف تعالى أحد ما لأجله عذبوا وبعدوا من الخير، و هو ما عاملوا به المؤمنين“ ترجمہ: پس اللہ تعالیٰ نے ان اسباب میں سے ایک سبب بیان فرمایا جس کی وجہ سے انہیں عذاب دیا گیا اور بھلائی سے دور کر دیا گیا، اور وہ ان کا وہ سلوک تھا جو انہوں نے مؤمنوں کے ساتھ کیا تھا۔ (تفسیر رازی، ج 23، ص 298، دار إحياء التراث العربي، بيروت)
مزید قرآن مجیدمیں ہے ﴿ثُمَّ اِنَّكُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ عِنْدَ رَبِّكُمْ تَخْتَصِمُوْنَ﴾ ترجمہ کنز الایمان: پھر تم قیامت کے دن اپنے رب کے پاس جھگڑو گے۔ (پارہ 23، سورۃ الزمر، آیت 31)
اس کے تحت تفسیر طبری میں ہے ”يقول: ثم إن جميعكم المؤمنين والكافرين يوم القيامة عند ربكم تختصمون فيأخذ للمظلوم منكم من الظالم، و يفصل بين جميعكم بالحق“ ترجمہ: فرماتا ہے: پھر تم سب، مومن اور کافر، قیامت کے دن اپنے رب کے حضور باہم مقدمہ پیش کرو گے، پھر تم میں سے مظلوم کو ظالم سے اس کا حق دلوایا جائے گا، اور تم سب کے درمیان حق کے ساتھ فیصلہ کیا جائے گا۔ (تفسیر طبری، ج 21، ص 287، مؤسسة الرسالة)
مزید ایک مقام پر مسلمانوں کو تکلیف دینے کے متعلق ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ﴿وَ الَّذِیْنَ یُؤْذُوْنَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ بِغَیْرِ مَا اكْتَسَبُوْا فَقَدِ احْتَمَلُوْا بُهْتَانًا وَّ اِثْمًا مُّبِیْنًا﴾ ترجمہ کنز العرفان: اور جو ایمان والے مردوں اور عورتوں کو بغیر کچھ کئے ستاتے ہیں تو انہوں نے بہتان اور کھلے گناہ کا بوجھ اٹھا لیا ہے۔ (پارہ 22، سورۃ الاحزاب، آیت: 58)
اس آیت کےتحت تفسیر صراط الجنان میں ہے ایک قول یہ ہے کہ یہ آیت ان منافقوں کے بارے میں نازل ہوئی جو حضرت علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم کو ایذا دیتے تھے اور اُن کی شان میں بدگوئی کرتے تھے ۔ ۔ ۔ آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ جولوگ ایمان والے مردوں اور عورتوں کے ساتھ ایسا سلوک کرتے ہیں جس سے انہیں اَذِیَّت پہنچے حالانکہ انہوں نے ایسا کچھ نہیں کیا ہوتا جس کی وجہ سے انہیں اذیت دی جائے توان لوگوں نے بہتان اور کھلے گناہ کا بوجھ اٹھالیا اور خود کوبہتان کی سزا اور کھلے گناہ کے عذاب کا حق دار ٹھہرا لیا ہے۔ (صراط الجنان، جلد 8، صفحہ 88، مکتبۃ المدینۃ، کراچی(
فتاوی رضویہ میں ہے ”ایذائے مسلم بے وجہ شرعی حرام قطعی۔ قال اللہ تعالی: ﴿وَ الَّذِیْنَ یُؤْذُوْنَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ بِغَیْرِ مَا اكْتَسَبُوْا فَقَدِ احْتَمَلُوْا بُهْتَانًا وَّ اِثْمًا مُّبِیْنًا﴾ آنانکہ آزار دہند مردان مومن و زنان مومنہ را بے جرم پس بہ تحقیق کہ بہتان و گناہ آشکارابرخود برداشتند۔سیدِ عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم فرماید :من اٰذی مسلما فقد اٰذانی ومن اٰذانی فقد اٰذی اللہ ۔ہر کہ مسلمانے را آزار داد مرا اذیت رسانید و ہرکہ مرا اذیت رساند حق تعالیٰ را ایذا کرد ،اے وہر کہ او سبحانہ را ایذا کرد پس سر انجام ست کہ بگیرد اورا
(یعنی مسلمان کو بغیر کسی شرعی وجہ کے تکلیف دینا قطعی حرام ہے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَ الَّذِیْنَ یُؤْذُوْنَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ بِغَیْرِ مَا اكْتَسَبُوْا فَقَدِ احْتَمَلُوْا بُهْتَانًا وَّ اِثْمًا مُّبِیْنًا﴾ وہ لوگ جو ایماندار مردوں اور عورتوں کو بغیر کسی جرم کے تکلیف دیتے ہیں، بے شک انہوں نے بہتان اور کھلا گناہ اپنے ذمے لے لیا۔ سیدِ عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں: من اٰذی مسلما فقد اٰذانی و من اٰذانی فقد اٰذی اللہ‘‘ جس نے مسلمان کو تکلیف دی اس نے مجھے تکلیف دی اور جس نے مجھے تکلیف دی اس نےاللہ تعالیٰ کو تکلیف دی۔ یعنی جس نے اللہ تعالیٰ کو تکلیف دی بالآخر اللہ تعالیٰ اسے عذاب میں گرفتار فرمائے گا)۔ (فتاوی رضویہ، جلد 24، صفحہ 425، 426، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا عبد الرب شاکر عطاری مدنی
فتوی نمبر: WAT-5288
تاریخ اجراء: 02 صفر المظفر 1448ھ / 17 جولائی 2026ء