logo logo
AI Search

کیا مرتد کی توبہ قبول ہوتی ہے؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

مرتد کی توبہ قبول ہونے کے متعلق وضاحت

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا مرتد کی توبہ قبول ہوتی ہے؟۔ ۔ ۔ ۔ سورۂ آلِ عمران کی آیت 90 میں یہ بیان ہوا ہے کہ جو لوگ ایمان لانے کے بعد کفر اختیار کریں، اور پھر اسی کفر پر قائم رہیں، ان کی توبہ قبول نہیں ہوگی۔ براہِ کرم اس بارے میں رہنمائی فرمائیں۔

جواب

اگر مرتد، توبہ کے تقاضوں پر عمل کرتے ہوئے، سچی توبہ کرے، تو اس کی توبہ بھی قبول ہے، کیونکہ سچی توبہ اللہ عزوجل نے وہ نفیس شے بنائی ہے، جو ہر گناہ کو مٹا دیتی ہے، سورہ آل عمران کی مذکورہ بالا آیت (آیت نمبر 90) سے پچھلی آیات میں یہی بیان ہوا ہے کہ اگر ایمان کے بعد کفر کرنے والا، توبہ کر کے اپنی اصلاح کرلے، تو اللہ تعالی بخشنے والا، مہربان ہے۔ چنانچہ سورہ آل عمران آیات نمبر 86 تا 89میں ارشاد خداوندی ہے: ﴿كَیْفَ یَهْدِی اللّٰهُ قَوْمًا كَفَرُوْا بَعْدَ اِیْمَانِهِمْ وَ شَهِدُوْۤا اَنَّ الرَّسُوْلَ حَقٌّ وَّ جَآءَهُمُ الْبَیِّنٰتُؕ- وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ (۸۶) اُولٰٓىٕكَ جَزَآؤُهُمْ اَنَّ عَلَیْهِمْ لَعْنَةَ اللّٰهِ وَ الْمَلٰٓىٕكَةِ وَ النَّاسِ اَجْمَعِیْنَۙ (۸۷) خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۚ- لَا یُخَفَّفُ عَنْهُمُ الْعَذَابُ وَ لَا هُمْ یُنْظَرُوْنَ (۸۸) اِلَّا الَّذِیْنَ تَابُوْا مِنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ وَ اَصْلَحُوْا فَاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ(۸۹)﴾ ترجمہ: کیونکر اللہ ایسی قوم کی ہدایت چاہے جو ایمان لا کر کافر ہوگئے اور گواہی دے چکے تھے کہ رسول سچا ہے اور انہیں کھلی نشانیاں آچکی تھیں اور اللہ ظالموں کو ہدایت نہیں کرتا۔ ان کا بدلہ یہ ہے کہ ان پر لعنت ہے اللہ اور فرشتوں اور آدمیوں کی سب کی۔ ہمیشہ اس میں رہیں نہ ان پر سے عذاب ہلکا ہو اور نہ انہیں مہلت دی جائے۔ مگر جنہوں نے اس کے بعد توبہ کی اور آپا (خود کو) سنبھالا تو ضرور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔ (القرآن الکریم، پارہ 3، سورہ آل عمرٰن، آیات 86 تا 89)

جبکہ سورہ آل عمران کی آیت نمبر 90 میں جو فرمایا گیا ہے کہ ان کی توبہ ہرگز قبول نہ ہوگی، تو اس سے مراد یا تو یہ ہے کہ:

(1) جب روح گلے تک پہنچے، اس وقت یہ کفر سے توبہ کریں، تو اس وقت کی توبہ مقبول نہیں۔

(2) یا پھر یہ مراد ہے کہ اگر یہ اسی کفر کی حالت میں مر گئے، تو ان کی کفر سے توبہ مقبول نہیں، کیونکہ انہوں نے کفر سے توبہ کی ہی نہیں۔ جیساکہ قرآن پاک میں ہی ایک مقام پر ارشاد خداوندی ہے:

﴿وَ لَیْسَتِ التَّوْبَةُ لِلَّذِیْنَ یَعْمَلُوْنَ السَّیِّاٰتِۚ- حَتّٰۤى اِذَا حَضَرَ اَحَدَهُمُ الْمَوْتُ قَالَ اِنِّیْ تُبْتُ الْــٴٰـنَ وَ لَا الَّذِیْنَ یَمُوْتُوْنَ وَ هُمْ كُفَّارٌؕ- اُولٰٓىٕكَ اَعْتَدْنَا لَهُمْ عَذَابًا اَلِیْمًا (۱۸)﴾ ترجمہ: اور وہ توبہ ان کی نہیں جو گناہوں میں لگے رہتے ہیں یہاں تک کہ جب ان میں کسی کو موت آئے تو کہے اب میں نے توبہ کی اور نہ اُن کی جو کافر مریں اُن کے لیے ہم نے دردناک عذاب تیار کررکھا ہے۔ (القرآن الکریم، پارہ 4، سورۃ النسآء، آیت 18)

تفسير خازن میں ہے "قال ابن عباس: يريد الشرك" ترجمہ: حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما نے فرمایاکہ یہاں گناہوں سے مراد شرک ہے۔ (تفسير الخازن لباب التأويل في معاني التنزيل، جلد 1، صفحہ 355، مطبوعہ: بیروت)

تفسیر جلالین میں ہے ونزل في اليهود {اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا} بعيسى {بَعْدَ اِیْمَانِهِمْ} بموسى {ثُمَّ ازْدَادُوْا كُفْرًا} بمحمد {لَّنْ تُقْبَلَ تَوْبَتُهُمْ} إذا غرغروا أو ماتوا كفارا" ترجمہ: یہ آیت یہودیوں کے بارے میں نازل ہوئی کہ بیشک جنہوں نے حضرت موسیٰ علیہ السلام پر ایمان لانے کے بعد حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا انکار کیا، پھر انہوں نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا انکار کرکے اپنے کفر میں مزید اضافہ کیا، ان کی توبہ اس وقت قبول نہیں ہوگی جب ان کی روح حلق تک پہنچ جائے یا وہ کفر پہ ہی مر جائیں۔ (تفسیر جلالین، صفحہ 215، 216، مکتبۃ المدینۃ، کراچی)

تفسیر نسفی میں ہے {لَنْ تُقْبَلَ تَوْبَتُهُمْ} أي إيمانهم عند البأس لأنهم لا يتوبون إلا عند الموت قال اللہ تعالى ﴿فَلَمْ یَكُ یَنْفَعُهُمْ اِیْمَانُهُمْ لَمَّا رَاَوْا بَاْسَنَاؕ-﴾ ترجمہ: ان کی توبہ یعنی ایمان موت (عذاب) کے وقت قبول نہیں ہوگا، کیونکہ یہ لوگ موت کے وقت کر ہی توبہ کرتے ہیں۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: تو ان کے ایمان نے انہیں کام نہ دیا جب انہوں نے ہمارا عذاب دیکھ لیا۔ (تفسیر نسفی، صفحہ 172، دار المعرفۃ، بیروت)

فتاوی رضویہ میں ہے مرتد اگر توبہ کرے تقبل و لا یقتل (قبول کی جائے گی اور اسے قتل نہیں کیا جائے گا)۔ (فتاوی رضویہ، جلد 15، صفحہ 152، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

توبہ کے متعلق امامِ اہل سنت، امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ ارشاد فرماتے ہیں: سچی توبہ اللہ عزوجل نے وہ نفیس شے بنائی ہے کہ ہر گناہ کے ازالے کو کافی ووافی ہے، کوئی گناہ ایسا نہیں کہ سچی توبہ کے بعد باقی رہے یہاں تک کہ شرک وکفر۔ سچی توبہ کے یہ معنی ہیں کہ گناہ پراس لئے کہ وہ اس کے رب عزو جل کی نافرمانی تھی، نادِم وپریشان ہو کر ‏فوراً چھوڑ دے اور آئندہ کبھی اس گُناہ کے پاس نہ جانے کا سچے دِل سے پُورا عزم کرے، جو چارۂ کار اس کی تلافی کا اپنے ہاتھ میں ہو بجا لائے۔ مثلاً نماز روزے کے ترک یا غصب، سرقہ، رشوت، رباسے توبہ کی تو صرف آئندہ کے لیے ان جرائم کا چھوڑ دینا ہی کافی نہیں بلکہ اس کے ساتھ یہ بھی ضرور ہے جو نماز روزے ناغہ کیے ان کی قضا کرے، جو مال جس جس سے چھینا، چرایا، رشوت، سود میں لیا انہیں اور وہ نہ رہے ہوں تو ان کے وارثوں کو واپس کردے یا معاف کرائے، پتا نہ چلے تو اتنا مال تصدق کردے اور دل میں نیت رکھے کہ وہ لوگ جب ملے اگر تصدق پر راضی نہ ہوئے اپنے پاس سے انہیں پھیر دوں گا۔ (فتاوی رضویہ، جلد 21، صفحہ 121، 122، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: ابو حفص مولانا محمد عرفان عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4708
تاریخ اجراء: 16 محرم الحرام 1448ھ / 02 جولائی 2026ء