غیر مسلم کو قرض کے بدلے نفع دینا
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
غیر مسلم کو قرض کے بدلے نفع دینے کا حکم
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کسی مسلمان کا کسی غیر مسلم کے پاس، اپنا سونا گروی رکھوا کر اس سے رقم لینا، اور اصل رقم کی ادائیگی کے ساتھ ماہانہ اس پر نفع یا بیاج دینا کیسا؟
جواب
سونا گروی رکھوا کرلی گئی رقم، قرض ہے، اور اس پر نفع دینا سود ہے، اور سود دینا اگرچہ کافر کو ہو، مطلقا ناجائز و حرام ہے۔ فتاوی رضویہ میں ہے "(غیر مسلم نے) مسلمان کو اگر سو روپیہ کا نوٹ قرض دیا اور شرط کرلی کہ مہینہ بھر بعد بارہ آنے یا ایک پیسہ زائد لوں گا تو حرام اور سود ہے، لان کل قرض جرمنفعۃ فھو ربٰو( کیونکہ جو قرض نفع کو کھینچے وہ سود ہے)۔" (فتاوی رضویہ، ج 17، ص 350، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
فتاوی رضویہ میں ارشاد فرماتے ہیں: "سود دینا اگرچہ کافر کو ہو قطعاً حرام و استحقاق نار ہے۔" (فتاوی رضویہ، جلد17، صفحہ 336، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مفتی محمد حسان عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4712
تاریخ اجراء: 17 شعبان المعظم1447ھ/06 فروری 2026ء