غیر مسلم کی وفات کے وقت ملی رقم کیا کریں؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

غیر مسلم شخص مسلمانوں کے علاقہ میں فوت ہوگیا، اس کی کچھ رقم ملی ہے، اس کا کیا کیا جائے؟

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کوئی غیر مسلم مسلمانوں کے علاقہ میں فوت ہو گیا، مسلمانوں نے اس کے مذہب کے ماننے والوں کو لاش دینا چاہی مگر انہوں نے لاش لینے سے انکار کردیا۔ اب مسلمانوں نے اسے ایک کپڑے میں لپیٹ کر دفن کر دیا، مرنے والے کی کُچھ رقم مسلمانوں کو ملی، کیا اس رقم کو مسلمان استعمال کرسکتا ہے یا اس کی قوم کے کسی فرد کو دی جائے؟

جواب

پوچھی گئی صورت میں وہ رقم اسی کے غیرمسلم ورثاء کو دی جائے کہ غیر مسلم آپس میں وارث ہوتے ہیں۔ ہاں اگر اس کے کسی بھی غیر مسلم وارث کا علم نہیں، نہ ان کی کچھ معلومات ہو سکیں تو جیسے اس صورت میں مسلمان کے مال سے متعلق حکم ہوتا ہے کہ وہ مال مسلمان شرعی فقیر (جسے زکوٰۃ دینا جائز ہے) کو دے دیا جائے اسی طرح غیر مسلموں کے مال سے متعلق بھی یہی حکم ہے، کیونکہ اب اس مال کا مستحق بیت المال ہے اور بیت المال کے ایسے اموال کے حقدار فقراء و مساکین ہیں۔

خیال رہے کہ ایسا مال فقراء و مساکین کو دینے میں اس غیر مسلم کے لیے ثواب کی نیت نہیں کی جا سکتی کیونکہ غیر مسلم ثواب کا اصلاً اہل نہیں۔

فتاویٰ رضویہ میں سوال ہوا: کیافرماتے ہیں علمائے دین عظام شرع نبی، اس مسئلہ میں کہ ہندوکفار سے کسی اہل اسلام نے قرض لیاتھا، اور قضاء عند اللہ وہ قرضخواہ واصل جہنم ہوا اور اس کاکوئی ورثہ باقی نہیں تو اس کے قرضہ کے اداکی کیاصورت ہے؟ سیدی اعلیٰ حضرت امام اہلسنت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ نے اس سوال کے جواب میں ارشاد فرمایا: جوشخص مرجائے اورکوئی وارث نہ چھوڑے نہ کسی کے نام وصیت کی ہوتو اس کے مال کامستحق بیت المال ہے اوربیت المال کے ایسے مال کے مستحق مذہب جمہورپر فقراء مساکین عاجزین ہیں کہ ان کے کھانے پینے،دوا دارُو، کفن دفن میں صرف کیاجائے۔۔۔۔ اور یہ حکم جیسامال مسلم کے لئے ہے یونہی مال کافر کے لئے بھی۔۔۔ پس ایسی صورت میں وہ مال فقراء کو دے دے نہ اس نیت سے کہ اس صدقہ کاثواب اس کافر کو پہنچے کہ کافر اصلاً اہل ثواب نہیں بلکہ اس وجہ سے کہ خبیث مرگیا اورموت مزیل ملک ہے تو اب وہ اس کامالک نہ رہا بلکہ حق بیت المال ہوا تو فقراء کو بذریعہ استحقاق مذکور دیا جاتا ہے۔ و اللہ سبحٰنہ و تعالیٰ اعلم۔ (فتاویٰ رضویہ، ج 25، ص 53 - 54، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

ایک اور مقام پر فرماتے ہیں: جبکہ بنیا (ایک کافر) اور اس کا بیٹا بھی مرگیا اور اس کے وارث کاپتہ نہیں یہ مال فقراء کے لئے ہوا۔ (فتاویٰ رضویہ، ج 25، ص 73، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا محمد کفیل رضا عطاری مدنی

فتویٰ نمبر: Web-2339

تاریخ اجراء: 18 محرم الحرام 1447ھ / 14 جولائی 2025ء