غیر مسلم سے دوستی کرنا کیسا؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
غیر مسلم سے دوستی کا حکم
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا غیر مسلم سے دوستی کی جا سکتی ہے؟
جواب
غیر مسلموں سے دوستی کرنا ناجائز ہے، قرآن مجید میں واضح لفظوں میں اس سے منع کیا گیا ہے، غیر مسلموں کی دوستی، مسلمان کے ایمان کے لیے زہر قاتل ہے، لہذا غیر مسلموں کے ساتھ دوستانہ تعلقات رکھنا ہر گز جائز نہیں۔
قرآن مجید میں ہے:
(یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوا الْیَهُوْدَ وَ النَّصٰرٰۤى اَوْلِیَآءَ۔بَعْضُهُمْ اَوْلِیَآءُ بَعْضٍؕ- وَ مَنْ یَّتَوَلَّهُمْ مِّنْكُمْ فَاِنَّهٗ مِنْهُمْؕ- اِنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ)
ترجمہ کنز العرفان: اے ایمان والو! یہود و نصاریٰ کو دوست نہ بناؤ، وہ (صرف) آپس میں ایک دوسرے کے دوست ہیں اور تم میں جو کوئی ان سے دوستی رکھے گا تو وہ انہیں میں سے ہے بیشک اللہ ظالموں کو ہدایت نہیں دیتا۔ (پارہ6، سورۃ المائدۃ، آیت: 51)
اس آیت مبارکہ کے تحت تفسیر صراط الجنان میں ہے ”اس آیت میں یہود و نصارٰی کے ساتھ دوستی و موالات یعنی اُن کی مدد کرنا، اُن سے مدد چاہنا اور اُن کے ساتھ محبت کے روابط رکھنا ممنوع فرمایا گیا۔ یہ حکم عام ہے اگرچہ آیت کا نزول کسی خاص واقعہ میں ہوا ہو۔ چنانچہ یہاں یہ حکم بغیر کسی قید کے فرمایا گیا کہ اے ایمان والو! یہودیوں اور عیسائیوں کو دوست نہ بناؤ، یہ مسلمانوں کے مقابلے میں آپس میں ایک دوسرے کے دوست ہیں، تمہارے دوست نہیں کیونکہ کافر کوئی بھی ہوں اور ان میں باہم کتنے ہی اختلاف ہوں، مسلمانوں کے مقابلہ میں وہ سب ایک ہیں "اَلْکُفْرُ مِلَّۃٌ وَّاحِدۃٌ" کفر ایک ملت ہے۔ لہٰذا مسلمانوں کو کافروں کی دوستی سے بچنے کا حکم دینے کے ساتھ نہایت سخت وعید بیان فرمائی کہ جو ان سے دوستی کرے وہ انہی میں سے ہے، اس بیان میں بہت شدت اور تاکید ہے کہ مسلمانوں پر یہود و نصاریٰ اور دینِ اسلام کے ہر مخالف سے علیحدگی اور جدا رہنا واجب ہے۔ اور جو کافروں سے دوستی کرتے ہیں وہ اپنی جانوں پر ظلم کرتے ہیں۔اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اسلامی حکومت میں کفار کو کلیدی آسامیاں نہ دی جائیں۔ یہ آیتِ مبارکہ مسلمانوں کی ہزاروں معاملات میں رہنمائی کرتی ہے اور اس کی حقانیت روزِ روشن کی طرح عیاں ہے۔ پوری دنیا کے حالات پر نظر دوڑائیں تو سمجھ آئے گا کہ مسلمانوں کی ذلت و بربادی کا آغاز تبھی سے ہوا جب آپس میں نفرت و دشمنی اور ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوکر غیر مسلموں کو اپنا خیرخواہ اور ہمدرد سمجھ کر ان سے دوستیاں لگائیں اور انہیں اپنوں پر ترجیح دی۔ اللہ تعالیٰ ہمیں عقلِ سلیم عطا فرمائے۔“ (صراط الجنان، جلد 2، صفحہ 448، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
امام اہل سنت الشاہ امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن فرماتے ہیں: ”موالات ہر کافر سے مطلقاً حرام ہے۔۔۔ حاش ﷲ کسی قسم کفار سے محبت کرنے کا اسلام نے حکم نہ دیا، باپ بیٹے کافر ہوں تو ان سے بھی محبت کو صریح حرام فرما دیا اور دلی محبت واخلاص و اتحاد کرنے کو تو جا بجا صاف صاف ارشاد واعلام فرمادیا کہ وہ انہیں کافروں میں سے ہیں، انہیں ﷲ وقیامت پر ایمان نہیں، انہیں ﷲ ورسول وقرآن پر ایمان نہیں، بالجملہ وہ کسی طرح مسلمان نہیں، ہاں کافروں میں فرق ہوگا تو یہ کہ جس کا کفر اشد اس سے معاملات کا حرام و کفر ہونا اشد و زائد کہ علتِ حرمت کفر ہے علت جتنی زیادہ حکم سخت تر۔ “ (فتاوی رضویہ، جلد 14، صفحہ 153، 155، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
قرآن مجید میں ایک دوسرے مقام پر ہے:
(وَ لَا تَتَّخِذُوْا مِنْهُمْ وَلِیًّا وَّ لَا نَصِیْرًاۙ)
ترجمہ کنز العرفان: اور ان میں کسی کو نہ دوست بناؤ اور نہ ہی مددگار۔ (پارہ5، سورۃ النساء، آیت: 89)
اس آیت مبارکہ کے تحت فتاوی رضویہ میں ہے ”اس آیہ کریمہ میں ولی کے ساتھ لفظ نصیر خود ہی صاف ارشاد ہےکہ انھیں دوست ٹھہرانا بھی حرام اور مددگار بنانا بھی حرام ہے۔“ (فتاوی رضویہ، جلد 14، صفحہ 494، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا محمد آصف عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4734
تاریخ اجراء: 24 شعبان المعظم1447ھ/13 فروری 2026ء