غیر مسلم ہسپتال سے علاج کروا سکتے ہیں؟

غیر مسلموں کے ہسپتال سے علاج کروانے کا حکم

دارالافتاء اہلسنت عوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ میں ایک مسلمان ہوں اور اس وقت ملک سے باہر رہ رہا ہوں۔ یہاں ایک عیسائیوں کا ہسپتال ہے جہاں فری علاج کی سہولت ہے، جبکہ دوسرے ہسپتالوں میں علاج بہت مہنگا ہے۔ کیا میرے لیے اس عیسائی ہسپتال سے علاج کروانا جائز ہے؟برائے مہربانی رہنمائی فرمائیں۔

جواب

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ

صورتِ مسئولہ میں اگر اس غیر مسلم ہسپتال میں مفت (Free) علاج کی سہولت کے لیے کچھ شرائط مقرر ہوں، اور آپ ان شرائط پر سچائی اور دیانت کے ساتھ پورا اُترتے ہوں، کسی قسم کا دھوکا، فریب نہ ہو، نیز وہاں سے علاج کروانے میں اسلام یا مسلمانوں کی تذلیل و تحقیر نہ پائی جاتی ہو، اور کسی دینی و دنیوی نقصان کا اندیشہ نہ ہو، اور طریقہ علاج میں کسی ناجائز و حرام چیز کا استعمال بھی نہ کیا جاتا ہو، تو ان تمام شرائط کی رعایت کے ساتھ آپ کیلئے اس غیر مسلم ہسپتال سے فری علاج کروانا جائز ہے، شرعاً اس کی گنجائش ہے۔ البتہ  اگر بیان کردہ شرائط کی رعایت نہ ہوتو اس کی اجازت نہیں۔

مزید یہ کہ چونکہ ہسپتال غیر مسلموں کا ہے، اس لیے عین ممکن ہے کہ علاج بھی کسی غیر مسلم ڈاکٹر کے ہاتھوں ہو، تو اس اعتبار سے فقہی حکم یہ ہے کہ کافر ڈاکٹر سے خارجی(جسم کے ظاہری حصے کا) علاج کروانا جس میں وہ کوئی طبی خیانت و بد خواہی نہ کر سکے، مطلقاً جائز ہے۔اور داخلی(جیسے سرجری یا جسم کے اندرونی حصوں سے متعلقہ) علاج کہ جس میں کافر کی طرف سے طبی خیانت و بد خواہی کی گنجائش ہوسکتی ہو، یہ بھی شرعاً جائز ہے بشرطیکہ ماحول فسادات و تعصب کانہ ہو اور عام حالات میں بھی جب کافر  ڈاکٹر کے بارے میں غالب گمان یہی ہو کہ وہ علاج میں خیانت نہیں کرے گا، اور مسلمان مریض کا دل بھی اس سے علاج کروانے پر مطمئن ہو۔ آج کل عمومی طور پر غیر مسلم ڈاکٹر اور ہسپتال طبی دیانت داری کا خیال رکھتے ہیں، کیونکہ انہیں اپنی اور ادارے کی بدنامی اور قانونی کاروائی کا اندیشہ ہوتا ہے۔ البتہ احتیاط اسی میں ہے کہ جہاں ممکن ہو، مسلمان ڈاکٹر ہی سے علاج کروایا جائے تاکہ ہر لحاظ سے اطمینانِ قلب حاصل ہو۔

تفسیر روح المعانی میں ہے:

 ’’لا ينبغي الاستعانة بالكافر وهو في أمور الدين كجهاد الكفار وقتال أهل البغي مما ذهب إليه بعض الأئمة ولبعضهم في ذلك تفصيل، وأما الاستعانة بهم في أمور الدنيا فالذي يظهر أنه لا بأس بها‘‘

ترجمہ: کافر سے مدد لینا مناسب نہیں، جبکہ وہ دینی امور میں ہو جیسے کافروں کے خلاف جہاد یا باغیوں سے قتال میں، بعض ائمہ کا یہی موقف ہے، البتہ بعض نے اس بارے میں تفصیل بیان کی ہے۔ اور رہا دنیاوی کاموں میں ان سے مدد لینا، تو ظاہر یہی ہوتا ہے کہ اس میں کوئی حرج نہیں۔ (روح المعانی، جلد8، صفحہ281، دار الكتب العلمية، بيروت)

اگر کافر سے کسی ضرر و نقصان کا اندیشہ نہ ہو تو بوقتِ حاجت مسلمان کا اس سے امداد حاصل کرنا شرعاً جائز ہے، چنانچہ فتاوی رضویہ میں سیدی اعلی حضرت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن ارشاد فرماتے ہیں: ’’دبے ہوئے مقہور کافر سے بشرطِ حاجت ایسی استعانت جس میں نہ اُسے راز دار ودخیل کا ربنانا ہو نہ کسی مسلمان پر اس کا استعلاء(غلبہ) ہو، یہ ہے وہ (کافر سے مدد لینے کا معاملہ) جس کی ہمارے علماء اور امام شافعی رضی اللہ تعالٰی عنہم نے رخصت دی۔

امام اجل ابو زکریا نووی شافعی شرح صحیح مسلم میں فرماتے ہیں:

’’قولہ صلی ﷲ تعالٰی علیہ وسلم فارجع فلن استعین بمشرک، وقد جاء فی الحدیث الاخران النبی صلی ﷲ تعالٰی علیہ وسلم استعان بصفوان بن امیۃ قبل اسلامہ فاخذ طائفۃ من العلماء بالحدیث الاول علی اطلاقہ، وقال الشافعی واخرون ان کان الکافر حسن الرأی فی المسلمین ودعت الحاجۃ الی الاستعانۃ بہ استعین بہ والا فیکرہ حمل الحدیثین علی ھذین الحالین‘‘

 (ترجمہ) نبی صلی ا تعالیٰ علیہ وسلم کا ارشاد کہ واپس جا ہم ہر گز کسی مشرک سے استعانت نہ کریں گے، اور دوسری حدیث میں آیا ہے کہ نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے صفوان بن امیہ سے اس حال میں امدا د لی کہ وہ ابھی مسلمان نہ ہوئے تھے تو ا یک جماعت علماء نے پہلی حدیث کا مطلق حکم اختیار کیا اور امام شافعی اور کچھ اوروں نے فرمایا کہ کافر اگر مسلمانوں کے حق میں نیک رائے رکھتا ہو اور اس سے استعانت کی حاجت پڑے تو استعانت کی جائے ورنہ منع ہے، امام شافعی نے ان دونوں حدیثوں کو ان دونوں حالوں پر محمول کیا۔

(اس کے بعد اعلی حضرت علیہ الرحمۃ ارشاد فرماتے ہیں کہ مذکورہ عبارت میں)شرطِ حاجت تو صاف ذکر فرمائی اور شرطِ اول (دبے ہوئے مقہور کافر) کا یوں اشعار کیا کہ کسی کافر کی رائے مسلمانوں کے بارے میں اچھی ہو تو اس سے استعانت جائز ہے، اسی شرط کو حاذمی نے یوں ذکر کیا:

والثانی ان یکونوا ممن یوثق بھم فلا تخشٰی نائرتھم فمتی فقد ھٰذا ن الشرطان لم یجز للامام ان یستعین بھم

یعنی حاجت کے ساتھ دوسری شرط یہ ہے کہ اُن کافروں پر وثوق ہو کہ اُن کی شرارت کا اندیشہ نہ رہے ان دونوں شرطوں میں سے کوئی کم ہوگی تو سلطان اسلام کو کافروں سے استعانت جائز نہ ہوگی۔ (فتاوی رضویہ، جلد14، صفحہ515، 514، رضافاؤنڈیشن، لاھور)

کافر سے علاج کروانے سے متعلق بحر الرائق میں ہے:

”المريض يجوز له أن يستطب بالكافر فيما عدا إبطال العبادة “

 ترجمہ: مریض کے لئے کافر سے علاج کروانا جائز ہے، جبکہ اس علاج سے عبادات کا ابطال لازم نہ آئے۔ (بحر الرائق، جلد2، صفحہ34، دار الکتاب الاسلامی، بیروت)

سیدی اعلی حضرت امام احمد رضا خان علیہ الرحمۃ فتاوی رضویہ میں فرماتے ہیں: ”رہا کافر طبیب سے علاج کرانا خارجی یا ظاہر مکشوف علاج جس میں اس کی بدخواہی نہ چل سکے وہ تو لایألونکم خبالا (وہ کافر تمھیں نقصان پہنچانے میں کوئی کمی نہیں کریں گے۔) سے بالکل بےعلاقہ ہے اور دنیاوی معاملات میں بیع و شراء و اجارہ و استئجار کی مثل ہے۔ ہاں! اندرونی علاج جس میں اس کے فریب کو گنجائش ہو اس میں اگر کافروں پر یوں اعتماد کیا کہ ان کو اپنی مصیبت میں ہمدرد اپنا ولی خیر خواہ اپنا مخلص بااخلاص خلوص کے ساتھ ہمدردی کرکے اپنا ولی، دوست بنانے والا اس کی بیکسی میں اس کی طرف اتحاد کا ہاتھ بڑھانے والا جانا تو بیشک آیہ کریمہ کا مخالف ہے اور ارشاد آیت جان کر ایسا سمجھا تو نہ صرف اپنی جان بلکہ جان و ایمان و قرآن سب کا دشمن اور انھیں اس کی خبر ہوجائے اور اس کے بعد واقعی دل سے اس کی خیرخواہی کریں تو کچھ بعید نہیں کہ وہ تو مسلمان کے دشمن ہیں اور یہ مسلمان ہی نہ رہا فانہ منھم (وہ انہی میں سے ہے۔ ت) ہوگیا، ان کی تو دلی تمنا یہی تھی:

قال تعالٰی: ودوا لوتکفرون کما کفروا فتکونون سواء

(اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: ان کی آرزو ہے کہ کسی طرح تم بھی ان کی طرح کافر بنو تو تم اور وہ ایک سے ہوجاؤ) والعیاذ با تعالیٰ مگر الحمد کوئی مسلمان آیہ کریم پر مطلع ہوکر ہر گز نہ جانے گا اور جانے تو آپ ہی اس نے تکذیب قرآن کی، بلکہ یہ خیال ہوتا ہے کہ یہ ان کا پیشہ ہے اس سے روٹیاں کماتے ہیں ایسا کریں تو بدنام ہوں دکان پھیکی پڑے، کھل جائے تو حکومت کا مواخذہ ہو سزا ہو یوں بدخواہی سے باز رہتے ہیں تو اپنے خیر خواہ ہیں نہ کہ ہمارے، اس میں تکذیب نہ ہوئی، پھر بھی خلاف احتیاط و شنیع ضرور ہے‘‘۔ (فتاوی رضویہ، جلد21، صفحہ238، 239، رضا فاؤنڈیشن، لاھور)

اہلسنت کے مستند مفتیان کے فیصلوں پر مشتمل کتاب ’’جدید مسائل پر علماء کی رائیں اور فیصلے‘‘ میں ہے: ”وہ حالات جن میں بلا عذر شرعی کسی ناجائز کام مثلا نجس یا حرام چیز سے علاج، خطر ناک آپریشن، صوم وصلاۃ وغیرہ عبادات کا ابطال یا ترک اور حلق لحیہ وغیرہ کا ارتکاب نہ کرنا پڑے۔ ایسے عام حالات میں غیر مسلم ڈاکٹروں سے علاج دو طرح کا ہوتا ہے: خارجی: جیسے جوڑوں کی مالش وغیرہ جس میں وہ کوئی طبی خیانت و بد خواہی نہ کر سکے۔ داخلی: جس میں طبی خیانت و بد خواہی کی گنجائش ہو۔

خارجی علاج: غیر مسلم سے مطلقا جائز ہے۔ جیسے اس سے خرید و فروخت جائز ہے۔داخلی علاج بھی جائز ہے جب کہ ماحول فسادات و تعصب کا نہ ہو، اور دیگر حالات میں بھی جب یہ معلوم ہو کہ وہ مسلمانوں سے تعصب نہیں رکھتا اور دل اس سے علاج کرنے پر جمے۔‘‘ (جدید مسائل پر علماء کی رائیں اور فیصلے، جلد2، صفحہ294، 295، مجلس شرعی، جامعہ اشرفیہ، مبارکپور)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری

فتوی نمبر: FAM-970

تاریخ اجراء: 08 جمادی الاولی1447ھ/31 اکتوبر 2025ء