logo logo
AI Search

کیا غير مسلم كو نمستے کہہ سکتے ہیں ؟

بسم اللہ الرحمن الرحیم

غير مسلم كو نمستے کہنا کیسا ؟

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ غیر مسلم کو نمستے کہنا کیسا ہے؟

جواب

غیر مسلم کو نمستے بولنا شرعاً ناجائز و حرام اور گناہ ہے، اس سے اجتناب کرنا لازم ہے؛ کیونکہ ملاقات کے وقت نمستے کہنا خاص ہندوؤں کا شعار ہے، نیز اس کے ایسے معنی بھی ہیں جو مسلمان کے لیے ہرگز روا نہیں، جیسے کہ بندگی، پرنام، جھک کر آداب بجا لانا وغیرہ، بلکہ ان معنی کا قصد کرتے ہوئے یا غیر مسلم کی تعظیم کی نیت سے نمستے کرنے والا دائرۂ اسلام سے ہی خارج ہو جائے گا، مگر عام لوگ اس کے معنی وغیرہ نہیں سمجھتے اس لیے مطلق طور پر حکم کفر نہیں۔ یہ بات بھی ذہن نشین رہے کہ غیر مسلم سے ملاقات کے وقت بلا ضرورت سلام میں پہل کرنا ہی ممنوع ہے، چہ جائیکہ ایسے ناجائز الفاظ سے کی جائے۔ پس مسلمان کے لیے بلا ضرورت نمستے کہنے کی ہرگز اجازت نہیں، البتہ اگر واقعی ضرورت ہو یا نہ کہنے میں ضرر کا اندیشہ ہو تو بامر مجبوری اس طرح کے الفاظ کا استعمال کر سکتے ہیں۔

سنن ابی داؤد، مسند احمد، مصنف ابن ابی شیبہ، مشکوۃ المصابیح وغیرہ کی حدیث پاک میں ہے:

واللفظ للاول ”عن ابن عمر، قال: قال رسول اللہ صلى اللہ عليه وسلم: من تشبه بقوم فهو منهم“

ترجمہ: حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے، فرماتے ہیں: رسول کریم صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو کسی قوم کے ساتھ مشابہت کرے تو وہ انہیں میں سے ہے۔ (سنن أبي داود، كتاب اللباس، جلد 4، صفحہ 44، حدیث 4031، المكتبة العصرية، بيروت)

سنن الکبری للنسائی، شعب الایمان، جامع صغیر اور کنز العمال وغیرہ کی حدیث پاک میں ہے:

”عن جابر بن عبد اللہ، أن رسول اللہ صلى اللہ عليه وسلم قال: لا تسلموا تسليم اليهود والنصارى“

ترجمہ: حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ نبی مکرم صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے ارشاد فرمایا: یہودیوں اور عیسائیوں کے (انداز میں) سلام نہ کرو۔ (السنن الكبرى للنسائي، كتاب عمل اليوم والليلة، جلد 9، صفحہ 134، حدیث 10100، مؤسسة الرسالة، بيروت)

شارح بخاری مفتی شریف الحق امجدی رحمۃ اللہ تعالی علیہ (سال وفات: 1421ھ/2000ء) سے سوال ہوا کہ ”بہت سے مسلمان خصوصاً ملازمین اور تاجر صاحبان جب اپنے آفیسران یا اپنے مہا جنوں سے ملتے ہیں تو ہندوؤں کی طرح ہاتھ جوڑ کر نمستے کرتے ہیں کیا یہ جائز ہے؟“ آپ نے جواباً ارشاد فرمایا: ”یہ طریقہ سخت حرام اور بہ اعتبار ظاہر کے کفر ہے۔ پہلی بات یہ خاص ہندوؤں کا مذہبی شعار ہے، کسی کافر کے مذہبی شعار کو قبول کرنا کفر ہے، حدیث میں فرمایا گیا: "من تشبہ بقوم فھو منھم" جو کسی قوم کے مذہبی شعار کو اختیار کر ے وہ انہیں میں سے ہے۔ نمستے کے معنی ہیں: میں تمہاری تعظیم کے لیے جھکتا ہوں، یہ کس قدر بے غیرتی کی بات ہے کہ مسلمان جسے اللہ نے اسلام سے عزت دی اور اسلام کی بدولت سارے جہان سے معزز ہے، وہ اللہ عزوجل اور رسول صلی اللہ علیہ و سلم کے دشمن بلکہ اپنے جان و مال کے دشمن کی تعظیم کے لیے جھکے۔ چوں کہ عوام نہ نمستے کے معنی جانتے ہیں اور نہ ہاتھ جوڑنے کا مطلب معلوم ہے، وہ صرف ایک رسم سمجھ کر ہندوؤں کو خوش کرنے کے لیے ایسا کرتے ہیں، اس لیے ان پر حکم کفر نہیں مگر گنہگار ضرور ہوں گے اور سخت گنہگار، اس لیے مسلمانوں پر واجب ہے کہ ہندوؤں کے سامنے ہاتھ جوڑنے اور نمستے کہنے سے پرہیز کریں۔“ (فتاوی شارح بخاری، جلد 3، صفحہ 134-135، دائرۃ البرکات گھوسی)

فتاوی مرکز تربیت افتاء میں ہے: ”رام رام، جے رام جی کی، نمستے، نمسکار کرنا حرام و گناہ ہے، اس لیے کہ یہ غیر مسلموں کا شعار ہے، اگر کوئی کسی کو کہے: "السلام علیکم" تو ہر شخص جان جاتا ہے کہ یہ مسلم ہے، اور اگر کوئی "نمستے، نمسکار، جے رام جی کی"  کہے تو سب کو معلوم ہو جاتا ہے کہ یہ ہندو ہے۔“ (فتاوی مرکز تربیت افتاء، جلد 2، صفحہ 70، فقیہ ملت اکیڈمی، ہند)

فرہنگ آصفیہ میں ہے: ”نمستے: پرنام، بندگی، آداب، تسلیم، کورنش(جھک کر آداب بجا لانا)، رام رام، آریا لوگوں کا سلام۔“ (فرہنگ آصفیہ، جلد 4، صفحہ 603، اردو سائنس بورڈ، لاہور)

صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ تعالی علیہ (سال وفات: 1367ھ/1948ء) لکھتے ہیں: ”بقصد تعظیم کافر کو ہرگز ہرگز سلام نہ کرے کہ کافر کی تعظیم کفر ہے۔...اس زمانہ میں کئی طرح کے سلام لوگوں نے ایجاد کر لیے ہیں، ان میں سب سے برا یہ ہے جو بعض لوگ کہتے ہیں بندگی عرض یہ لفظ ہر گز نہ کہا جائے۔“ (بہار شریعت، جلد 3، حصہ 16، صفحه 462و 464 ملتقطاً، مکتبة المدینہ، کراچی)

صحیح مسلم، جامع ترمذی، مصابیح السنہ، مشکوۃ المصابیح اور جامع الاحادیث وغیرہ کی حدیث پاک میں ہے:

”عن أبي هريرة أن رسول اللہ صلى اللہ عليه وسلم قال: لا تبدءوا اليهود ولا النصارى بالسلام“

ترجمہ: حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ رسول معظم صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے ارشاد فرمایا: یہود و نصاری کو سلام کرنے میں پہل نہ کرو۔ (صحيح مسلم، کتاب السلام، ‌‌باب النهي عن ابتداء أهل الكتاب بالسلام، جلد 7، صفحہ 5، حدیث 2167، دار الطباعة العامرة تركيا)

علامہ نور الدین ملا علی قاری حنفی رحمۃ اللہ تعالی علیہ  (سال وفات: 1014ھ/1605ء) اس حدیث پاک کے تحت لکھتے ہیں:

”لأن الابتداء به إعزاز للمسلم عليه، ولا يجوز إعزازهم، وكذا لا يجوز تواددهم وتحاببهم بالسلام ونحوه“

 ترجمہ: اس لیے کہ غیر مسلم کو سلام کرنے میں پہل کرنا مسلمان کا اسے عزت دینا ہے، جبکہ ان کو عزت دینا جائز نہیں۔ اسی طرح سلام وغیرہ کے ذریعے ان کے ساتھ دوستی اور محبت رکھنا بھی جائز نہیں۔ (مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح، کتاب الآداب، باب السلام، جلد 7، صفحہ 2939، دار الفكر، بيروت)

امام اہل سنت اعلی حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالی علیہ (سال وفات: 1340ھ/1921ء) لکھتے ہیں:  ” کافر کو بے ضرورت ابتداء بسلام ناجائز ہے، نص علیہ فی الحدیث والفقہ (حدیث اور فقہ میں اس پر تصریح ہے۔) اور ہندوستان میں وہ طرق تحیت جاری ہیں کہ بضرورت بھی انھیں سلام شرعی کرنے کی حاجت نہیں، مثلاً یہی کافی کہ لالہ صاحب، بابو صاحب، منشی صاحب، یا بے سر جھکائے سر پر ہاتھ رکھ لینا وغیر ذٰلک۔ کافر اگر بے لفظ سلام، سلام کرے تو ایسے ہی الفاظ رائجہ جواب میں بس ہیں۔“ (فتاوی رضویہ، جلد 22، صفحہ 316، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

فتاوی فقیہ ملت میں سوال ہوا: ”آج کل آفسوں، کالجوں، کورٹس، کچہریوں اور دیگر محکموں میں زیادہ تر غیر مسلم آفیسر وغیرہ ہیں، اگر ان سے نمسکار اور نمستے وغیرہ نہ کیا جائے تو آپس میں تعلقات برقرار نہ رہنے کی وجہ سے بہت سے کاموں میں دشواری ہوتی ہے تو انہیں سلام علیک وغیرہ کہیں یا نمستے وغیرہ لفظوں سے سلام کیا جائے؟“ اس کے جواب میں اعلی حضرت رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کا مذکورہ بالا کلام نقل کرنے کے بعد مذکور ہے: ”کافر کلرک یا آفیسر کو صاحب کہتے ہوئے سر پر ہاتھ رکھ لے، سلام نہ کرے، اور اگر اس سے کام نہ چلے تو بدرجہ مجبوری نمستے یا نمسکار کر سکتا ہے۔“ (فتاوی فقیہ ملت، جلد 2، صفحہ 324-325، شبیر برادرز، لاہور)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری

فتوی نمبر: FAM-919

تاریخ اجراء: 14 ربيع الآخر 1447ھ/8 اکتوبر 2025ء