logo logo
AI Search

کیا کسی کافر کی موت کی دعا کرنا جائز ہے؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

کسی کافر کی موت کی دعا کرنا

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا کسی کافر کی موت کی دعا کر سکتے ہیں؟

جواب

بے غرض صحیح کسی کے مرنے کی دعا نہ کی جائے۔ ہاں اگر کوئی ایسا کافر ہو کہ جس سے ایمان نہ لانے کا یقین یا ظن غالب ہو، اور اس کے زندہ رہنے سے دین کا نقصان ہو؛ یا کوئی ظالم ہے اور اس سے توبہ اور ترکِ ظلم کی امید نہ ہو، اور اس کا مرنا لوگوں کے لیے فائدہ مند ہو؛ تو ایسے شخص کی ہلاکت کی دعا کرنا درست ہے۔ رئیس المتکلمین، حضرت علامہ مولانا مفتی محمد نقی علی خان رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں: بے غرض صحیح شرعی کسی کے مرنے اور خرابی کی دعا نہ مانگے۔۔۔ ہاں! اگر کسی کافر کے ایمان نہ لانے پر یقین یا ظن غالب ہو اور جینے سے دین کا نقصان ہو یا کسی ظالم سے امید توبہ اور ترکِ ظلم کی نہ ہو اور اس کا مرنا، تباہ ہونا خلق کے حق میں مفید ہو، ایسے شخص پر بد دعا درست ہے۔ (فضائلِ دعا، صفحہ 183، 187، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا محمد نور المصطفیٰ عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4622
تاریخ اجراء: 18رجب المرجب1447ھ / 08 جنوری2026ء