logo logo
AI Search

کافر کے بچے کی پیدائش پر دعوت کھانے کا حکم

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

غیر مسلم کے بچے کی پیدائش پر ٹریٹ کھانے کا حکم

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

ہماری کمپنی کا مالک ہندو ہے، اس کے ہاں بچی پیدا ہوئی، تو اس نے ہمیں پیسے دئیے، اور کہا کہ اس سے جو بھی دعوت کرنی ہو کر لو، کیا اس کے دیے ہوئے پیسوں سے کوئی چیز کھانا جائز ہے؟

جواب

پوچھی گئی صورت میں اگر ان پیسوں سے کوئی حلال چیز منگوا کر کھا لی، تو اس میں گناہ نہیں، کیونکہ یہ رقم کمپنی کے مالک کی طرف سے تحفے کے طور پر دی گئی ہے، اور کفار کے جس تحفہ سے مسلمان کے دین پر اعتراض نہ آئے، اسے قبول کرنا جائز ہے۔ لیکن یاد رہے! غیر مسلموں کے ساتھ دوستی و محبت رکھنا اور بے تکلف ہو کر انہیں ہم نوالہ و ہم پیالہ بنانا ممنوع و ناجائز ہے، اور حتی الامکان ان سے جدا رہنے کا حکم ہے، اگر کوئی تحفہ مذکورہ امور میں سے کسی کا سبب بن رہا ہو، تو ایسا تحفہ قبول کرنے کی بھی اجازت نہیں ہے۔

فتح القدیر میں علامہ ابن ہمام علیہ الرحمہ لکھتے ہیں:

”و انما يحرم على المسلم اذا كان بطريق الغدر (فاذا لم يأخذ غدرا فبأی طريق يأخذه حل) بعد كونه برضا“

 ترجمہ: مسلمان پر حربی کافر کا مال صرف اسی صورت میں حرام ہے جب دھوکے کے طور پر ہو، پس جب دھوکے سے نہ لے تو جس طریقے سے بھی لے گا حلال ہوگا، جبکہ اس کی رضا مندی سے لیا ہو۔ (فتح القدیر، جلد 7، صفحہ 38، مطبوعہ: کوئٹہ)

کافر کی طرف سے ہبہ کے متعلق النتف للفتاوی میں ہے

”اما ھبۃ الکافر للمسلم فجائزۃ ایضا سواء کانت فی دار الاسلام او فی دار الکفر“

یعنی: کافر کا مسلمان کو ہبہ جائز ہے خواہ دار الاسلام میں ہو یادار الکفر میں ہو۔ (النتف للفتاوی، جلد 1، صفحہ 521، مؤسسۃ الرسالۃ، بیروت)

کافر سے ہبہ لینے کے متعلق فتاوی رضویہ میں ہے ”غیر ذمی سے بھی خرید وفروخت، اجارہ واستیجار، ہبہ و استیہاب بشروطہا جائز۔۔۔ بمصلحت شرعی اسے ہدیہ دینا جس میں کسی رسم کفر کا اعزاز نہ ہو، اس کا ہدیہ قبول کرنا جس سے دین پر اعتراض نہ ہو ۔۔۔حلال ہے۔“ (فتاوی رضویہ، جلد 14، صفحہ 421، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

قرآن مجید میں ہے:

(یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوا الْیَهُوْدَ وَ النَّصٰرٰۤى اَوْلِیَآءَ۔بَعْضُهُمْ اَوْلِیَآءُ بَعْضٍؕ-وَ مَنْ یَّتَوَلَّهُمْ مِّنْكُمْ فَاِنَّهٗ مِنْهُمْؕ-اِنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ)

ترجمہ کنز العرفان: اے ایمان والو! یہود و نصاریٰ کو دوست نہ بناؤ، وہ (صرف) آپس میں ایک دوسرے کے دوست ہیں اور تم میں جو کوئی ان سے دوستی رکھے گا تو وہ انہیں میں سے ہے بیشک اللہ ظالموں کو ہدایت نہیں دیتا۔ (پارہ 6، سورۃ المائدۃ، آیت: 51)

اس آیت مبارکہ کے تحت تفسیر صراط الجنان میں ہے ”اس آیت میں یہود و نصارٰی کے ساتھ دوستی و موالات یعنی اُن کی مدد کرنا، اُن سے مدد چاہنااور اُن کے ساتھ محبت کے روابط رکھنا ممنوع فرمایا گیا۔ یہ حکم عام ہے اگرچہ آیت کا نزول کسی خاص واقعہ میں ہوا ہو۔ چنانچہ یہاں یہ حکم بغیر کسی قید کے فرمایا گیا کہ اے ایمان والو! یہودیوں اور عیسائیوں کو دوست نہ بناؤ، یہ مسلمانوں کے مقابلے میں آپس میں ایک دوسرے کے دوست ہیں، تمہارے دوست نہیں کیونکہ کافر کوئی بھی ہوں اور ان میں باہم کتنے ہی اختلاف ہوں، مسلمانوں کے مقابلہ میں وہ سب ایک ہیں "اَلْکُفْرُ مِلَّۃٌ وَّاحِدۃٌ " کفر ایک ملت ہے۔ لہٰذا مسلمانوں کو کافروں کی دوستی سے بچنے کا حکم دینے کے ساتھ نہایت سخت وعید بیان فرمائی کہ جو ان سے دوستی کرے وہ انہی میں سے ہے، اس بیان میں بہت شدت اور تاکید ہے کہ مسلمانوں پر یہود ونصاریٰ اور دینِ اسلام کے ہر مخالف سے علیحدگی اور جدا رہنا واجب ہے۔ اور جو کافروں سے دوستی کرتے ہیں وہ اپنی جانوں پر ظلم کرتے ہیں۔اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اسلامی حکومت میں کفار کو کلیدی آسامیاں نہ دی جائیں۔ یہ آیتِ مبارکہ مسلمانوں کی ہزاروں معاملات میں رہنمائی کرتی ہے اور اس کی حقانیت روزِ روشن کی طرح عیاں ہے۔ پوری دنیا کے حالات پر نظر دوڑائیں تو سمجھ آئے گا کہ مسلمانوں کی ذلت و بربادی کا آغاز تبھی سے ہوا جب آپس میں نفرت و دشمنی اور ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوکر غیر مسلموں کو اپنا خیرخواہ اور ہمدرد سمجھ کر ان سے دوستیاں لگائیں اور انہیں اپنوں پر ترجیح دی۔ اللہ تعالیٰ ہمیں عقلِ سلیم عطا فرمائے۔“ (صراط الجنان، جلد 2، صفحہ 448، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1367ھ/1948ء) لکھتے ہیں: ”ان (غیر مسلموں) کے ساتھ کھانا پینا جائز نہیں کہ مسلم کو کفار سے اتنا میل جول درست نہیں، قرآن مجید میں ارشاد فرمایا:

﴿وَ اِمَّا یُنْسِیَنَّكَ الشَّیْطٰنُ فَلَا تَقْعُدْ بَعْدَ الذِّكْرٰى مَعَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ﴾

 اگر تجھے شیطان غفلت میں ڈال دے تو یاد آنے پر قومِ ظالمین کے پاس نہ بیٹھ۔ شرک و کفر سے بڑھ کر اور کون سا ظلم ہو سکتا ہے، قرآن مجید میں ارشاد فرمایا: ﴿اِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِیْمٌ﴾(بے شک شرک یقیناً بڑا ظلم ہے۔) لہذا مشرک کو اپنا ہم نوالہ و ہم پیالہ بنانا جائز نہیں۔“ (فتاوی امجدیہ، جلد 4، صفحہ 293، مکتبہ رضویہ، کراچی)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا محمد فرحان افضل عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4792
تاریخ اجراء: 06 رمضان المبارک1447ھ/ 24 فروری 2026ء