غیر مسلم کے ساتھ مضاربت کر سکتے ہیں؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
غیر مسلم کے ساتھ مضاربت کرنے کا حکم
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا غیر مسلم کے ساتھ مضاربت کر سکتے ہیں یا نہیں؟
جواب
غیر مسلم (جو مرتد نہ ہو) کے ساتھ مضاربت کرنا، جبکہ اس مضاربت میں کفر یا معصیت پر کسی قسم کی اعانت نہ پائی جاتی ہو، اور نہ ہی اس سے اسلام اور شریعت کو کوئی نقصان پہنچتا ہو، جائز ہے۔ کیونکہ مضاربت معاملات کے قبیل سے ہے، اور کفار سے مذکورہ شرائط کے تحت معاملات کرنا، جائز ہے۔ کفار سے معاملات کرنے کے متعلق فتاوی رضویہ میں سیدی اعلی حضرت رحمۃ اللہ علیہ ارشاد فرماتے ہیں: ”معاملت مجردہ سوائے مرتدین ہر کافر سے جائزہے جبکہ اس میں نہ کوئی اعانت کفر یا معصیت ہو نہ اضرار اسلام و شریعت، ورنہ ایسی معاملت مسلم سے بھی حرام ہے چہ جائیکہ کافر، قال تعالٰی: ولاتعاونوا علی الاثم والعدوان (گناہ وظلم پر ایک دوسرے کی مدد نہ کرو)۔“ (فتاوی رضویہ، جلد 14، صفحہ 433، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مولانا محمد آصف عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-5033
تاریخ اجراء: 06 ذو الحجۃ الحرام 1447ھ / 23 مئی 2026ء