غیر مسلم سے گھر خریدنا کیسا؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
غیر مسلم سے گھر خرید نے کا حکم
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کسی غیر مسلم سے اس کا گھر خریدنا کیسا، جہاں پر اب تک کچھ بھی اللہ کا ذکر نہیں ہوا ہے۔؟
جواب
غیر مسلم (جو مرتد نہ ہو، اس) سے اس کا گھر خریدنا، جائز ہے، کیونکہ خرید و فروخت، معاملات کے قبیل سے ہے، اور کفار سے معاملات کرنا، جائز ہے۔ فتاوی رضویہ میں امام اہلسنت، امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالی علیہ ارشاد فرماتے ہیں: "معاملت مجردہ سوائے مرتدین ہر کافر سے جائز ہے، جبکہ اس میں نہ کوئی اعانت کفریا معصیت ہو نہ اضرارِ اسلام و شریعت، ورنہ ایسی معاملت مسلم سے بھی حرام ہے چہ جائیکہ کافر، قال تعالی: ﴿و لا تعاونوا علی الاثم و العدوان﴾ گناہ و ظلم پر ایک دوسرے کی مدد نہ کرو۔ (فتاوی رضویہ، جلد 14، صفحہ 433، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
مزید فرماتے ہیں: دنیوی معاملت جس سے دین پر ضرر نہ ہو سوا مرتدین ۔۔۔ کے کسی سے ممنوع نہیں ۔۔۔ غیر ذمی سے بھی خرید و فروخت، اجارہ و استیجار، ہبہ و استیہاب بشروطہا جائز اور خریدنا مطلقاً ہر مال کا کہ مسلمان کے حق میں متقوم ہو اور بیچنا ہر جائز چیز کا جس میں اعانتِ حرب یا اہانت اسلام نہ ہو، اسے نوکر رکھنا جس میں کوئی کام خلاف شرع نہ ہو ۔۔۔ ایسے ہی امور میں اجرت پر اس سے کام لینا۔ (فتاوی رضویہ، ج 14، ص 420، 421، ملتقطاً، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا محمد آصف عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4943
تاریخ اجراء: 19 شوال المکرم 1447ھ / 08 اپریل 2026ء