کافر کو نیک کہنا کیسا؟
بسم اللہ الرحمن الرحيم
کافر کتنا ہی نیک ہو گنہگار مسلمان سے بہتر نہیں ہوسکتا، اس جملہ کا حکم
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
جواب
نیکی کا لفظ مسلما ن اور کافر کیلئے دو الگ الگ مفہوم کے اعتبار سے استعمال ہوتا ہے۔
(1) نیکی کا لفظ مسلمان کیلئے ایک خاص معنی کے اعتبار سے استعمال ہوتا ہے، یعنی وہ کام جن کے کرنے پر مسلمان کو رب تعالی کی طرف سے اجر و ثواب حاصل ہوتا ہے۔ اس معنیٰ کے اعتبار سے نیکی کا صدور صرف مسلمان سے ہی ہوسکتا ہے، کیونکہ کافر ثواب کا اہل نہیں۔
(2) نیکی کا لفظ کافر کیلئے عمومی معنیٰ کےاعتبار سے استعمال ہوتا ہے، یعنی ظاہری اچھے اعمال۔ اس معنیٰ کے اعتبار سے کافر سے نیکی کا صدور ہوسکتا ہے، بلکہ عملاً ہوتا بھی ہے۔ بہت سے کفار ظاہری نیک اعمال مثلاًصدقہ و خیرات، صلہ رحمی، مہمان نوازی، یتیموں کی کفالت، بیواؤں کی امداد اور دیگر رفاہی و فلاحی کام انجام دیتے ہیں۔ یہ اعمال اگرچہ دنیاوی اعتبار سے نیکی شمار ہوں لیکن آخرت میں ان پر کافر کو کوئی اجر و ثواب حاصل نہیں ہوگا، کیونکہ اللہ تعالی کے مقرر کردہ قانون کے مطابق اعمال کی قبولیت اور ان پر اجر و ثواب ملنے کے لئے ’’ایمان‘‘ شرط ہے۔ بہرحال جب کافر سے ظاہر ی اچھے اعمال کا صدور ہوتا ہے تو جس سیاق و سباق میں خطیب نے یہ لفظ استعمال کئے ہیں، اس اعتبار سے کہنا درست ہے۔
وہ امور جن پر ثواب حاصل ہوتا ہے، اس معنی ٰ کے اعتبار سے نیکی کا صدورصرف مسلمان سے ہی ہوسکتا ہے،کافر سے نہیں، چنانچہ سیدی اعلی حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ فتاوی رضویہ میں ارشاد فرماتے ہیں: کافر سے اصلاً کوئی حسنہ قبول نہیں بلکہ اُس سے کوئی حسنہ متصو ر ومعقول نہیں، امورِ ثواب کے عمومات میں ہمیشہ صرف اہل اسلام مراد ہیں۔‘‘ (فتاوی رضویہ، جلد 14، صفحہ 579، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
نیکی اپنے لغوی معنیٰ کے اعتبا ر سے یعنی اچھے اعمال تو خودقرآن کریم میں کافروں سے نیک اعمال کا صادر ہونا اور رب تعالی کے نزدیک ان کے اعمال کی حیثیت کو بیان کیا گیا ہے کہ اللہ تعالی ان کے اچھے اعمال کو بکھرے ہوئے غبار کی مانند کر دے گا، جن کی کوئی قدر و قیمت نہیں ہوگی۔ چنانچہ رب تعالی ارشاد فرماتا ہے: ﴿وَ قَدِمْنَاۤ اِلٰى مَا عَمِلُوْا مِنْ عَمَلٍ فَجَعَلْنٰهُ هَبَآءً مَّنْثُوْرًا﴾ ترجمۂ کنز العرفان: اور انہوں نے جو کوئی عمل کیا ہوگا ہم اس کی طرف قصد کرکے باریک غبار کے بکھرے ہوئے ذروں کی طرح بنادیں گے جو روشندان کی دھوپ میں نظر آتے ہیں۔ (پارہ19، سورۃ الفرقان: 23)
مذکورہ آیت مبارکہ کے تحت تفسیر صراط الجنان میں ہے: آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ کفار نے کفر کی حالت میں جو کوئی ظاہری اچھے عمل کیے ہوں گے جیسے صدقہ، صلہ رحمی، مہمان نوازی اور یتیموں کی پرورش وغیرہ، اللہ تعالیٰ ان کی طرف قصد کرکے روشندان کی دھوپ میں نظر آنے والے باریک غبار کے بکھرے ہوئے ذروں کی طرح انہیں بے وقعت بنادے گا۔ مراد یہ ہے کہ وہ اعمال باطل کردیئے جائیں گے، ان کا کچھ ثمرہ اور کوئی فائدہ نہ ہو گا کیونکہ اعمال کی مقبولیت کے لئے ایمان شرط ہے اور وہ انہیں مُیَسَّر نہ تھا۔ (تفسیر صراط الجنان، جلد 7، صفحہ 14، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
رب تعالی کا قانون یہ ہے کہ آخرت میں نیک اعمال کا ثواب اُسی کو ملے گا جو ایمان والا ہوگا، چنانچہ قرآنِ مجید میں فرمایا:﴿وَ مَنْ اَرَادَ الْاٰخِرَةَ وَ سَعٰى لَهَا سَعْیَهَا وَ هُوَ مُؤْمِنٌ فَاُولٰٓىٕكَ كَانَ سَعْیُهُمْ مَّشْكُوْرًا(19)﴾ ترجمۂ کنز العرفان: اور جو آخرت چاہتا ہے اور اس کیلئے ایسی کوشش کرتا ہے جیسی کرنی چاہیے اور وہ ایمان والا بھی ہو تو یہی وہ لوگ ہیں جن کی کوشش کی قدر کی جائے گی۔ (پارہ 15، سورۃ بنی اسرائیل: 19)
اس آیت کے تحت تفسیر صراط الجنان میں ہے: اس آیت میں مومن ہونے کی شرط کا بیان ہے، اس سے معلوم ہوا کہ ایمان کے بغیر کوئی نیکی قبول نہیں، نیکیوں کے لئے ایمان ایسا ضروری ہے جیسے نماز کے لئے وضو، یا بہترین غذا کے لئے زہر سے خالی ہونا۔ ایمان جڑ ہے اور اعمال اس کی شاخیں۔ صدر الافاضل مفتی نعیم الدین مراد آبادی رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے یہاں بڑی پیاری بات ارشاد فرمائی کہ اس آیت سے معلوم ہوا کہ عمل کی مقبولیت کے لئے تین چیزیں درکار ہیں: ایک تو طالبِ آخرت ہونا یعنی نیت نیک۔ دُوسرے سعی یعنی عمل کو باہتمام اس کے حقوق کے ساتھ ادا کرنا۔ تیسری ایمان جو سب سے زیادہ ضروری ہے۔ (خزائن العرفان، بنی اسرائیل، تحت الآیۃ: ۱۹، ص۵۲۹)۔ (تفسیر صراط الجنان، جلد 5، صفحہ 438، 437،مکتبۃ المدینہ، کراچی)
فتاوی رضویہ میں ہے: کافر اگر کوئی بظاہر نیک کام مثل تصدق وغیرہ کرے بھی تو اس کا بدلہ اسے دنیا ہی میں دے دیا جاتاہے، آخرت میں اس کا کچھ حصہ نہیں وہاں انھیں کچھ ہاتھ نہ آئے گا، جنت کا کھانا پینا کافروں کے لئے حرام ہے، پاکیزہ رزق اور زینت کے سامان آخرت میں خاص مسلمانوں کے لئے ہیں، کافروں کے اعمال کو اللہ تعالیٰ برباد کر کے ایسا کردیتا ہے کہ جیسے روزن (روشن دان) میں سے دھوپ آئے تو اس کے اندر ریزے سے اڑتے ہیں اور ہاتھ میں لو تو کچھ نہیں، کافروں کے اعمال کی یہ مثال (بھی) ہے کہ شدید آندھی کے دن میں کہیں کچھ راکھ پڑی جسے آندھی کے جھونکے اڑا لے گئے کہ اب وہ ذرے بھی نہیں دکھائی دیتے کچھ ہاتھ آنا تو بڑی بات ہے۔ (فتاوی رضویہ، جلد 14، صفحہ 707، 706، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
حدیث پاک میں نیکی کے لفظ کو مسلمان اور کافر دونوں کیلئے استعمال کیا گیا ہے، چنانچہ صحیح مسلم میں ہے: عن أنس بن مالك، قال: قال رسول اللہ صلى اللہ عليه وسلم: إن اللہ لا يظلم مؤمنا حسنة، يعطى بها في الدنيا و يجزى بها في الآخرة، و أما الكافر فيطعم بحسنات ما عمل بها لله في الدنيا، حتى إذا أفضى إلى الآخرة، لم تكن له حسنة يجزى بها“ ترجمہ: حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا: بے شک اللہ تعالیٰ کسی مومن کی کسی نیکی میں ذرہ برابر بھی کمی نہیں فرماتا، اس نیکی کا بدلہ اسے دنیا میں بھی دیا جاتا ہے اور آخرت میں بھی اس پر اجر عطا کیا جاتا ہے۔ اور رہا کافر، تو وہ اللہ کے لیے دنیا میں جو نیک اعمال کرتا ہے، اس کا بدلہ اسے دنیا ہی میں دے دیا جاتا ہے، یہاں تک کہ جب وہ آخرت میں پہنچے گا تو اس کے لیے کوئی ایسی نیکی باقی نہیں ہوگی جس پر اسے کوئی اجر دیا جائے۔ (صحیح المسلم، جلد 4،باب جزاء المؤمن بحسناته ۔ ۔ ۔ الخ، صفحہ 2162، رقم الحدیث: 2808، دار إحياء التراث العربي، بيروت)
مذکورہ حدیث کی شرح میں علامہ علی قاری رحمۃ اللہ علیہ مرقاۃ المفاتیح میں لکھتے ہیں: (بحسنات ما عمل بها لله) أي: من إطعام فقير و إحسان ليتيم و إغاثة ملهوف و نحوها من طاعات لا يشترط في صحتها الإسلام“ ترجمہ: ان نیک اعمال کے سبب جو اس نے اللہ کے لیے کیے ہوں، یعنی کسی فقیر کو کھانا کھلانا، یتیم کے ساتھ حسنِ سلوک کرنا، مصیبت زدہ کی مدد کرنا اور اس طرح کے دیگر نیک کام، جن کی صحت کے لیے اسلام شرط نہیں۔ (مرقاۃ المفاتیح، جلد 8، صفحہ 3227، دار الفكر، بيروت)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: FAM-1242
تاریخ اجراء: 13 محرم الحرام 1448ھ / 29 جون 2026ء