logo logo
AI Search

موزے اتارنے سے وضو یا مسح ٹوٹ جاتا ہے؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

کیا موزہ اتارنے سے وضو یا مسح ٹوٹ جائے گا؟

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ ایک شخص نے مکمل وضو کرنے کے بعد موزے پہنے یا وضو میں پاؤں دھونے کی بجائے شرائطِ مسح کی موجودگی میں موزوں پر مسح کیا، پھر وضو ٹوٹنے سے پہلے ہی موزے اتار دئیے، تو کیا اس کا وضو ٹوٹ جائے گا؟ نیز اگر کوئی شخص پہلے سے باوضو ہو، تو موزے پہننے سے پہلے اس کے لئے نیا وضو کرنا ضروری ہے؟

جواب

وضو کرنے کے بعد موزے پہنے ہوں یا وضو میں موزوں پر مسح کیا ہو، بہر صورت وضو ٹوٹنے سے پہلے موزے اتار دئیے، تو اس سے وضو نہیں ٹوٹے گا، کیونکہ موزے اتارنا وضو ٹوٹنے کا سبب نہیں۔ ہاں! جس صورت میں شرائطِ مسح کی موجودگی میں موزوں پر مسح کیا ہوا تھا، اس میں موزے اتارنے کی وجہ سے مسح ٹوٹ جائے گا اور پاؤں دھونا فرض ہو گا، کیونکہ موزے حدث پاؤں تک پہنچنے میں رکاوٹ تھے، پھر جب انہیں اتار دیا، تو حدث پاؤں کی جانب سرایت کر گیا، لہذا انہیں دھونا لازم ہو گا اور اس صورت میں اگر فقط پاؤں دھونے کے بجائے پورا وضو دوبارہ کر لیں، تو بہتر ہے، تاکہ وضو میں پے درپے یعنی ایک عضو سوکھنے سے پہلے دوسرا عضو دھونے والی سنت پر بھی عمل ہو جائے۔ نیز پہلے سے باوضو شخص پر موزے پہننے کے لئے نیا وضو کرنا یا پاؤں دھونا لازم نہیں، وہ ویسے ہی موزے پہن سکتا ہے اور وضو ٹوٹنے پر مسح کی شرائط پائی جانے کی صورت میں موزوں پر مسح بھی کر سکتا ہے۔

باوضو شخص موزے اتار دے، تو وضو نہیں ٹوٹتا، نیز پہلے سے باوضو شخص ویسے ہی موزے پہن کر ان پر مسح کر سکتا ہے۔ چنانچہ جس شخص نے پاؤں دھو کر موزے پہنے، پھر بقیہ وضو کرنے کے بعد موزے اتار دئیے، تو اس کے بارے میں الحجۃ علی اہل المدینۃ میں ہے: ’’لو نزع الخفين بعد تمام الوضوء (ولم يحدث، أليس كان متوضا تام الوضوء؟ فان اعاد ولبس الخفين) بعد ذلك، ثم احدث توضا ومسح على الخفين‘‘ ترجمہ: اگر اس نے وضو مکمل ہونے کے بعد موزے اتار دئیے اور اسے حدث لاحق نہ ہوا ہو، تو کیا وہ مکمل وضو کی حالت میں نہیں ہو گا؟ پس اگر وہ اس کے بعد دوبارہ موزے پہن لے، پھر اسے حدث لاحق ہو، تو وہ وضو کرے اور پاؤں پر مسح کر لے۔ (الحجۃ علی اھل المدینہ، ج 1، ص 42، 43، مطبوعہ، عالم الکتب، بیروت)

وضو میں موزوں پر مسح کیا اور موزے اتار دئیے، تو مسح ٹوٹ جائے گا۔ چنانچہ بدائع الصنائع میں ہے: ’’(ومنها) نزع الخفين، لانه اذا نزعهما فقد سرى الحدث السابق الى القدمين، ثم ان كان محدثا يتوضا بكماله ويصلی وان لم يكن محدثا يغسل قدميه، لا غير ولا يستقبل الوضوء‘‘ ترجمہ: مسح توڑنے والی چیزوں میں سے ایک موزے اتارنا بھی ہے، کیونکہ جب اس نے موزے اتارے، تو سابقہ حدث پاؤں کی جانب سرایت کر گیا، پھر اگر وہ شخص بے وضو ہو، تو مکمل وضو کرکے نماز ادا کرے اور اگر بے وضو نہ ہو، تو فقط پاؤں دھولے، نیا وضو کرنے کی حاجت نہیں۔ (بدائع الصنائع، ج 1، ص 12، مطبوعہ، دار الکتب العلمیہ)

مسح ٹوٹ جانے کی وجہ سے اگرچہ فقط پاؤں دھولینا کافی، لیکن پورا وضو کر لینا بہتر ہے۔ چنانچہ در مختار مع رد المحتار میں ہے: بین القوسین مزیدا من الشامی: ’’وبعدهما ای النزع والمضی غسل المتوضئ رجليه، لا غير، لحلول الحدث السابق قدميه (ينبغی ان يستحب غسل الباقی ايضا، مراعاة للولاء المستحب۔۔ثم رايته فی الدر المنتقى عن الخلاصة مصرحا بان الاولى اعادته)‘‘ ترجمہ: باوضو شخص موزے اتارنے اور مدت گزرنے کے بعد فقط پاؤں دھو لے، کیونکہ سابقہ حدث پاؤں کی طرف حلول کر چکا ہے۔ مناسب یہ ہے کہ بقیہ ا عضاء کو دھونا بھی مستحب ہو، پے در پے اعضاء دھونے والے مستحب کی رعایت کرتے ہوئے، پھر میں نے در منتقیٰ میں خلاصہ کے حوالہ سے صراحت دیکھی ہے کہ پورا وضو دوبارہ کرنا بہتر ہے۔ (در مختار مع رد المحتار، ج 1، ص 276، مطبوعہ، دار الفکر)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

مجیب: مولانا محمد فرحان افضل عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: 7393-Pin
تاریخ اجراء: 18 رجب المرجب 1445ھ/30 جنوری 2024ء