logo logo
AI Search

ایڈوانس زکوۃ دینے کے بعد سونے کی قیمت بڑھ جانا

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

ایڈوانس زکوٰۃ دینے کے بعد سونا مہنگا ہوگیا تو مزید زکوٰۃ دینی ہوگی؟

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین اس مسئلے کے بارے میں کہ ایک شخص کے پاس تقریباً دس لاکھ روپے کی مالیت کا سونا اور دو لاکھ روپے کیش ہے۔ اس کا نصاب 20 رمضان المبارک کو مکمل ہوتا ہے۔ گزشتہ (یعنی 2025 کے) رمضان المبارک میں اس کے سونے اور کیش کی زکوۃ 30 ہزار روپے بنتی تھی، جو اس نے 10رمضان المبارک کو ادا کردی تھی۔ ساتھ ہی اس نے آئندہ ایک سال (2026) کی ایڈوانس زکوٰۃ نکالتے ہوئے مزید 30 ہزار روپے زکوۃ کی مد میں ادا کر دیے، تاکہ اگلے سال نہ دینے پڑیں۔ لیکن اب 2026 میں سونے کی قیمتوں میں بہت زیادہ فرق آگیا ہے، اس کا جو سونا پچھلے سال 10 لاکھ کا تھا، اب وہی سونا تقریباً 21 لاکھ روپے کا ہوگیا ہے اور ساتھ دو لاکھ روپے کیش بھی ہے۔ سوال یہ ہے کہ گزشتہ سال ایڈوانس زکوۃ ادا کرتے وقت سونے کی جو ویلیو تھی، اس کا اعتبار کرتے ہوئے اس نے جو 30 ہزار روپے زکوۃ ادا کی تھی، وہی کافی ہے یا موجودہ سال (یعنی 2026 میں) 20 رمضان المبارک کو سونے کی ویلیو دیکھی جائے گی؟

سائل: سہیل احمد (کورنگی، کراچی)

جواب

سونے وغیرہ کی زکوۃ جب قیمت سے ادا کی جائے، تو نصاب کا سال مکمل ہونے کے دن سونے کی جو ویلیو ہو، اس کا اعتبار ہوتا ہے، زکوۃ ادا کرتے وقت کی ویلیو کا اعتبار نہیں ہوتا، خواہ زکوۃ ایڈوانس ادا کی جائے یا کسی بھی وقت ادا کی جائے، لہٰذا پوچھی گئی صورت میں اس شخص نے گزشتہ سال (2025 میں) جو اپنے رواں سال کی زکوۃ (30 ہزار روپے) بنتی ہی اتنی تھی، تو وہ زکوۃ مکمل ادا ہوگئی تھی، لیکن اُس وقت آئندہ سال (2026) کے لیے جو مزید 30 ہزار روپے ایڈوانس زکوٰۃ کی مد میں دیے تھے، وہ اِس سال (2026) کی زکوۃ کے لیے کافی نہیں ہیں، کیونکہ اِس سال سونے کی قیمت میں بہت زیادہ اضافہ ہوگیا ہے، تو اب اس پر لازم ہے کہ 2026 میں 20 رمضان المبارک کو سونے کی جو ویلیو ہوگی، اس کے مطابق حساب لگائے، اس کے ٹوٹل مال کی جتنی زکوۃ بن رہی ہو، اس میں سے 30 ہزار روپے مائنس کر کے بقیہ رقم ادا کرے، مثلاً: اب اگر 20 رمضان المبارک کو اس کے سونے کی ویلیو 21 لاکھ روپے ہو اور اس کے پاس دو لاکھ روپے کیش بھی ہوں، تو اس کی ملکیت میں ٹوٹل 23 لاکھ روپے ہوں گے اور 23 لاکھ کی زکوۃ 57500 روپے بنتی ہے، جس میں سے 30 ہزار جو ادا کر چکا ہے، وہ مائنس کر کے باقی 27500 روپے مزید زکوٰۃ کی مد میں ادا کرنا اس پر لازم ہوگا ۔

فتاویٰ عالمگیری میں ہے:

تعتبر القيمة عند حولان الحول۔۔۔ اذا كان له مائتا قفيز حنطة للتجارة تساوی مائتی درهم فتم الحول ثم زاد السعر أو انتقص فان أدى من عينها أدى خمسة أقفزة و ان أدى القيمة تعتبر قيمتها يوم الوجوب

ترجمہ: (زکوٰۃ کی ادائیگی میں قمری) سال مکمل ہونے کے وقت کی قیمت کا اعتبار کیا جائے گا۔۔۔ (مثال کے طور پر) کسی شخص کے پاس تجارت کے لیے دو سو بوری گندم تھی، جو دو سو درہم کے برابر تھی، اس پر سال مکمل ہوگیا۔ پھر قیمت بڑھ گئی یا کم ہوگئی، تو اگر اس شخص نے اُن (گندم کی بوریوں) کے ذریعے ہی زکوٰۃ نکالنی ہے، تو پانچ بوریاں ادا کرے گا اور اگر قیمت کے ذریعے نکالے، تو جس دن زکوٰۃ لازم ہوئی تھی (یعنی سال مکمل ہوا تھا،) اس دن کی قیمت کا اعتبار کیا جائے گا۔ (الفتاوی الھندیہ، کتاب الزکوٰۃ، الفصل الثانی فی العروض، جلد 1، صفحہ 179، مطبوعہ بیروت )

مراقی الفلاح میں ہے:

إن أدى من قيمته تعتبر قيمته يوم الوجوب و هو تمام الحول عند الإمام

ترجمہ: اگر قیمت سے زکوٰۃ ادا کرے گا تو زکوٰۃ لازم ہونے کے دن کی قیمت کا اعتبار کیا جائے گا اور امام اعظم ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک وہ نصاب کا سال مکمل ہونے کا دن ہے۔ (مراقی الفلاح، کتاب الزکوٰۃ، صفحہ 272، مطبوعہ المکتبۃ العصریہ )

شیخ الاسلام و المسلمین امام اہلسنت الشاہ امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: قیمت میں نرخ بازار آج کا معتبر نہ ہوگا جس دن ادا کررہے ہیں، بلکہ روزِ وجوب کا مثلاً اُس دن نیم صاع گندم کی قیمت دو آنے تھی آج ایک آنہ ہے تو ایک آنہ کافی نہ ہوگا۔ دو آنے دینا لازم، اور ایک آنہ تھی اب دو آنے ہوگئی تو دو آنے ضرور نہیں، ایک آنہ کافی۔ ( فتاویٰ رضویہ، جلد 10، صفحہ 531، رضا فاؤنڈیشن، لاھور)

ایڈوانس زکوٰۃ ادا کی، تو جس دن نصاب کا سال مکمل ہوگا، اس دن اگر ادا کی ہوئی زکوٰۃ کم بن رہی ہو، تو کمی کو پورا کیا جائے گا، چنانچہ سیدی اعلیٰ حضرت الشاہ امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: حولانِ حول (یعنی زکوٰۃ کا سال پورا ہو جانے) کے بعد ادائے زکوٰۃ میں اصلاً تاخیر جائز نہیں، جتنی دیر لگائے گا، گنہگار ہوگا۔ ہاں پیشگی دینے میں اختیار ہے کہ بتدریج دیتا رہے، سالِ تمام پر حساب کرے، اُس وقت جو واجب نکلے، اگر پورا دے چکا، بہتر اور کم گیا ہے، تو باقی فوراً اب دے۔ (فتاوی رضویہ، جلد 10، صفحہ 202، رضا فاؤنڈیشن، لاھور)

و اللہ اعلم عزوجل و رسولہ اعلم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم

مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: Aqs-2917
تاریخ اجراء: 13 رمضان المبارک 1447ھ / 03 فروری 2026ء