
محرم اور صفر کے مہینے میں شادی بیاہ کی تقاریب کرنا
جواب: علیہ وآلہ وسلم نے اس کو منحوس جاننے سے منع فرمادیا، لہذا کسی بھی دن کو کسی بھی مہینے کو کسی بھی شخص کو کبھی منحوس نہ سمجھا جائے، بلکہ مسلمان کواللہ ت...
جواب: علیہ و آلہ وسلم نے اچھے نام رکھنے کی ترغیب بھی ارشاد فرمائی ہے۔ باب سمع سے "شازا" کا معنی ہے ”سخت و ناہموار ہونا، بے آرام ہونا، ڈرنا“ (المنجد، ص...
سوال: مسجد میں نکاح پڑھنا کیا یہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے یا یہ مستحب ہے ؟
حق مہر کی شرعی مقدار اور سنت مہر کی تفصیل
جواب: علیہ وسلم کی شہزادی حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا اور زوجہ حضرت اُمِّ حبیبہ رضی اللہ عنہا کے علاوہ، بقیہ تمام شہزادیوں اور ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن اجمعی...
امتحانات میں رشوت لے کر نقل کروانا کیسا ؟
جواب: علیہ الرحمۃفرماتے ہیں:” اتفق جمیع المتاولین لھذہ الآیۃ علی ان قبول الرشا حرام، و اتفقو انہ من السحت الذی حرمہ اللہ تعالی“اس آیت کے تمام مفسرین نے اتفا...
جواب: علیہ الصلوۃ و السلام کانام ہے اورحدیث پاک میں انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کے ناموں پرنام رکھنے کی ترغیب ارشاد فرمائی گئی ہے۔ نیززیادہ بہتر یہ ہے ...
عفان نام کا مطلب اورعفان نام رکھنا کیسا ہے؟
جواب: علیہم الرضوان کا نام بھی ’’عفان‘‘ تھا، لہذا یہ نام رکھنا بلاشبہ جائز بلکہ بہترہے۔البتہ بہت بہتر ہے کہ بچے کا اصل نام ’’محمد‘‘ رکھیں اور پکارنے کے لئے...
اذان کے دوران سحری کرنے سے متعلق ایک حدیث پاک کی شرح
سوال: روزہ دارسحری کےوقت کھاناکھارہاہوکہ اس دوران سحری کاوقت ختم ہوجائے،صبح صادق طلوع کرآئے اورفجرکی اذان شروع ہوجائے، تواب روزہ دارکاکھاناجاری رکھنا کیساہے؟بعض لوگ سنن ابوداؤدشریف کی درج ذیل روایت کو دلیل بناتے ہوئے کہتے ہیں کہ سحری کاوقت ختم ہوجانے کے باوجودفجرکی اذان کے وقت کھانادرست ہے ۔روایت یہ ہے :’’عن أبي هريرة قال: قال رسول اللہ صلى اللہ عليه وسلم: ’’إذا سمع أحدكم النداء والإناء على يده فلا يضعه حتى يقضي حاجته منه‘‘ ترجمہ: حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں :رسول اللہ عزوجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشادفرمایا:جب تم میں سے کوئی نداء سُنے اوربرتن اس کے ہاتھ میں ہو،توجب تک اس سے اپنی حاجت نہ پوری کرے ،اسے نہ رکھے ۔(سنن ابی داؤد،باب فی الرجل یسمع النداء والاناء علی یدہ،جلد02،صفحہ304،مطبوعہ بیروت)
کیا فی زمانہ سفری سہولیات کے پیشِ نظر عورت بغیر محرم سفرِ حج کر سکتی ہے؟
سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ زیدکاکہناہے کہ آج کے دورمیں سفرمیں بہت سہولیات پیدا ہوچکی ہیں،سفرآسان،محفوظ اورتیزہوچکاہےاورحج کےلیے عورتوں کےحکومتی سطح پرگروپس تیارکیے جاتے ہیں،توعورتیں محفوظ ہوتی ہیں،لہذاآج کے دورمیں عورت بغیرمحرم کے سفرحج کرسکتی ہےاوراحادیث میں جوبغیرمحرم کے سفرکی ممانعت ہے وہ پہلے دورکے اعتبارسے ہے جب سفراونٹوں گھوڑوں پرہوتاتھا،سفرکرنے میں کئی کئی دن لگ جاتے تھےاورغیرمحفوظ بھی ہوتاتھااوروہ اپنی دلیل کے طور پر یہ روایت بھی بیان کرتاہے کہ :’’قال فإن طالت بك حياة، لترين الظعينة ترتحل من الحيرة، حتى تطوف بالكعبة لا تخاف أحدا إلا اللہ۔۔۔قال عدي: فرأيت الظعينة ترتحل من الحيرة حتى تطوف بالكعبة لا تخاف إلا اللہ‘‘ ترجمہ:نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے (حضرت عدی رضی اللہ تعالی عنہ سے)ارشادفرمایا: اگرتمہاری عمرلمبی ہوئی، توتم اونٹ پرسوارعورت کودیکھوگے کہ وہ حیرہ سے سفرکرے گی، یہاں تک کہ کعبہ کاطواف کرے گی اس حال میں کہ اسے اللہ تعالی کے سواکسی کاخوف نہیں ہوگا،حضرت عدی رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا:میں نے اونٹ پرسوارعورت کودیکھاجوحیرہ سے چل کرخانہ کعبہ کاطواف کررہی تھی اس حال میں کہ اسے اللہ تعالی کے سواکسی کاخوف نہیں تھا۔ (صحیح البخاری،کتاب المناقب،باب علامات النبوۃ فی الاسلام،ج04،ص197،دارطوق النجاۃ) زیداس سے استدلال کرتے ہوئے کہتاہے کہ اس سے پتاچلاجب امن وامان اورمحفوظ سفر ہو، توعورت تنہاسفرحج کرسکتی ہے ۔شرعی رہنمائی فرمائیں کہ زیدکایہ استدلال درست ہے یانہیں ؟
کزن فیملی سے ہاتھ ملانے کا حکم
جواب: علیہ وسلم نے فرمایا: ’’لأن يطعن في رأس أحدكم بمخيط من حديد خير له من أن يمس امرأة لا تحل له‘‘ ترجمہ:تم میں سے کسی کے سر میں لوہے کی سوئی چُبھو دی...