اللّٰہ تعالیٰ دنیا سے کسی کو مطلب سے لے جاتا ہے کہنا کیسا؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اللہ تعالیٰ کسی کو دنیا سے مطلب سے لے جاتا ہے؟
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ یہ کہنا کیسا کہ اللہ تعالی کسی کو بھی دنیا سے مطلب سے ہی لے جاتا ہے؟
جواب
جواب سے پہلے یہ جان لینا چاہیے کہ اسلامی عقیدہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر قسم کی حاجت، غرض اور نفع سے پاک ہے۔وہ بے نیاز بادشاہ ہے، سب اس کے محتاج ہیں، وہ کسی کا محتاج نہیں۔ رب تعالی کی ذات کو کسی کا محتاج، حاجت مند ماننا کفر ہے۔ البتہ اللہ تعالیٰ کا کوئی کام حکمت و مصلحت سے خالی نہیں ہوتا مگر وہ حکمتیں انسانی عقل میں بھی آجائیں، یہ ضروری نہیں کہ انسانی عقل محدود ہے۔
اب سوال کے جواب کی طرف آتے ہیں۔ عرفِ عام میں لفظِ مطلب متعدد معانی میں استعمال ہوتا ہے، مثلاً مقصد، حکمت، مصلحت، منشا، غرض اور حاجت وغیرہ۔ مزید یہ کہ سوال میں لفظِ مطلب مطلقاً ذکر کیا گیا ہے، اس کی نسبت اللہ تعالیٰ، یا بندے کی طرف متعین نہیں۔ پھراگر یہاں مطلب کو غرض کے معنیٰ ہی میں لیا جائے تو عام عوام اس غرض سے بھی بعض دفعہ حکمت و مصلحت کا معنیٰ مراد لے رہی ہوتی ہیں۔اس لیے یہ جملہ درست اور باطل دونوں طرح کے معانی کا احتمال رکھتا ہے۔
(1) اگر مطلب سے مراد اللہ تعالیٰ کی حکمت، مصلحت ہو ، یا بندے کی غرض وحاجت مرادہو کہ اللہ تعالی جس کو بھی دنیا سے لے جاتا ہے، تو اس میں اس بندے یا مخلوق کے حق میں کوئی نہ کوئی حکمت، مصلحت یا فائدہ ہوتا ہے، تو یہ معنیٰ درست ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ کا کوئی فعل حکمت و مصلحت سے خالی نہیں ہوتا اور حکمت و مصلحت بھی بندوں کی طرف لوٹنے والے فائدے ہوتے ہیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ کی ذات فائدے و نقصان سے پاک ہے، اس کے ہر کام میں بندوں کے لیے حکمتیں اور مصلحتیں ہوتی ہیں۔ لہٰذا اس معنیٰ کے اعتبار سے یہ جملہ بولنا جائز ہوگا۔
(2) اگر مطلب سے مراد یہ ہو کہ اللہ تعالیٰ بندے کو اپنی کسی حاجت، ضرورت اور فائدے کی خاطر دنیا سے اٹھاتا ہے تو یہ معنیٰ باطل و کفریہ ہے، کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کے محتاج ہونے کو لازم کرتا ہے، جبکہ اللہ تعالیٰ ہر قسم کی حاجت، غرض اور فائدے سے پاک ہے۔ اس اعتبار سے یہ جملہ بولنا ہرگز جائز نہیں ہوگا۔
الغرض اس جملے میں کئی احتمالات ہیں، تو جب تک کہنے والے کی مراد واضح نہ ہو کہ اُس نے یہ لفظ کس معنیٰ و مفہوم میں اور کس کے لیے استعمال کیا ہےتب تک اس کو مطلقاًکفر قرار نہیں دیا جاسکتا۔ فقہائے کرام نے تصریح فرمائی ہے کہ جب کسی کلام میں صحیح اور فاسد دونوں احتمالات موجود ہوں تو مسلمان سے اچھا گمان رکھتے ہوئے اس کو صحیح معنیٰ پر محمول کیا جائے گا اور محض احتمال کی بنیاد پر تکفیر نہیں کی جائے گی۔ہاں اگر وہ خود کفری معنیٰ کی صراحت کردے تو پھر تاویلیں اسے فائدہ نہیں دیں گی اور اُس پر حکم کفر ہوگا۔ البتہ ایسا لفظ استعمال کرنے سے ضرور بچنا چاہیے جس میں غلط معنی کا واضح احتمال بھی موجود ہو اور اس کے ساتھ عوام کی حالت یہ ہے کہ علم دین سے دوری اور خوفِ خدا کی کمی کی وجہ سے بارہا کفر و گمراہی پر مشتمل جملے بول دیتےہیں۔
اللہ تعالی بے نیاز ہے،چنانچہ ارشاد باری تعالی ہے: ﴿اِنَّ اللّٰهَ هُوَ الْغَنِیُّ الْحَمِیْدُ﴾ ترجمہ کنز العرفان: بیشک الله ہی بے نیاز، تعریف کے لائق ہے۔ (پارہ 21، سورۃ لقمان: 26)
اس آیت کے تحت تفسیر صراط الجنان میں ہے: یعنی آسمانوں اور زمین کی پیدائش سے پہلے بھی اور بعد میں بھی اللہ تعالیٰ ہی اپنی ذات اور صفات میں بے نیاز ہے اور اس کے ساتھ کوئی دوسرا بے نیاز نہیں بلکہ ساری کائنات اسی کی محتاج ہے۔ (تفسیر صراط الجنان، جلد 7، صفحہ 513، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
سورہ اخلاص میں اللہ عزوجل ارشاد فرماتا ہے: ﴿اَللّٰهُ الصَّمَدُ﴾ ترجمہ کنز العرفان: اللہ بے نیاز ہے۔ (پارہ 30، سورۃ اخلاص: 2)
علامہ علی قاری رحمۃ اللہ علیہ منح الروض الا زہر شرح الفقہ الاکبر میں فرماتے ہیں: (اللّٰہ الصمد) أي: المستغني عن کل أحد و المحتاج إلیہ کل أحد‘‘ ترجمہ: اللہ بے نیاز ہے یعنی اللہ تعالیٰ ہر ایک سے بے نیاز ہے اور ہر ایک اس کا محتاج ہے۔(منح الروض الأزھرشرح الفقہ الاکبر، صفحہ 60، دار البشائر الاسلامیۃ، بیروت)
اللہ عزوجل کو کسی کا محتاج، حاجت مند ماننا کفر ہے، چنانچہ اسی میں فرماتے ہیں: و من قال لميت: كان اللہ أحوج إليه منكم؛ كفر؛ أي لأن اللہ هو الغني الحميد و الصمد المجيد، لا يحتاج إلى أحد، و كل أحد محتاج إليہ‘‘ ترجمہ: اور جس نے کسی فوت شدہ شخص کے بارے میں کہا: اللہ کو تمہاری نسبت اس کی زیادہ حاجت تھی، تو وہ کافر ہوگیا؛ یعنی اس لیے کہ اللہ تعالیٰ بے نیاز، ہر تعریف کے لائق، سب کا مرجعِ حاجات اور بڑی شان و عظمت والا ہے۔ وہ کسی کا محتاج نہیں، جبکہ ہر ایک اس کا محتاج ہے۔ (منح الروض الأزھر شرح الفقہ الاکبر، صفحہ 520، دار البشائر الاسلامیۃ، بیروت)
اللہ عزوجل کے افعال حکمتوں سے بھرے ہوتے ہیں، چنانچہ سیدی اعلی حضرت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن فتاوی رضویہ میں ارشاد فرماتے ہیں: فعلِ اختیاری کے لئے مصلحت یا غرض ضرور ہے ورنہ عبث (فضول کام) ہوگا، اور مولیٰ تعالیٰ عبث سے پاک ہے، اس کے افعال مصالح (حکمتوں) سے مملو (بھرے ہوئے) ہیں اور اغراض (حاجتوں) سے منزہ (پاک) ہیں، وہ مصالح بھی راجع بعباد (بندوں کی طرف لوٹنے والے فائدے) ہیں۔ مولیٰ تعالیٰ مصلحت ومفسدت (بھلائی کے حصول اور برائی سے بچنےکی حاجت ) سے پاک۔ (فتاوی رضویہ، جلد 15، صفحہ 309، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ بہار شریعت میں لکھتے ہیں: وہ (یعنی اللہ عزوجل) بے پرواہ ہے، کسی کا محتاج نہیں اور تمام جہان اُس کا محتاج۔ (بہار شریعت، جلد 1، حصہ 1، صفحہ 3، مکتبۃ المدینۃ، کراچی)
جب کلام میں درست و باطل دونوں طرح کے معانی کا احتمال ہو تو کفر کا حکم نہیں ہوگا، مگر یہ کہ کہنے والا خود باطل و کفر یہ معنیٰ مراد ہونا بیان کردے، چنانچہ بحر الرائق، ردالمحتار، فتاوی عالمگیری میں ہے: و اللفظ للاول: و في الخلاصة وغيرها إذا كان في المسألة وجوه توجب التكفير و وجه واحد يمنع التكفير فعلى المفتي أن يميل إلى الوجه الذي يمنع التكفير تحسينا للظن بالمسلم زاد في البزازية إلا إذا صرح بإرادة موجب الكفر فلا ينفعه التأويل وفي التتارخانية لا يكفر بالمحتمل لأن الكفر نهاية في العقوبة فيستدعي نهاية في الجناية ومع الاحتمال لا نهاية“ ترجمہ: اور خلاصہ وغیرہ میں ہے کہ جب کسی مسئلہ میں ایسے کئی احتمالات ہوں جو کفر کا حکم لازم کرتے ہوں اور ایک احتمال ایسا ہو جو کفر سے مانع ہو، تو مفتی پر لازم ہے کہ وہ مسلمان کے ساتھ حسنِ ظن رکھتے ہوئے اس احتمال کی طرف مائل ہو جو کفر سے مانع ہے۔ بزازیہ میں اس پر یہ اضافہ ہے کہ البتہ اگر وہ صراحت کے ساتھ کفر کو لازم کرنے والے معنیٰ کی مراد بیان کر دے تو پھر تاویل اسے نفع نہیں دے گی۔ اور تتارخانیہ میں ہے کہ احتمالی (جس میں درست و باطل دونوں معانی موجود ہوں) کلام کی بنا پر کسی کو کافر قرار نہیں دیا جائے گا، کیونکہ کفر سزا کی انتہا ہے، لہٰذا وہ جرم کی بھی انتہا کا تقاضا کرتا ہے، اور احتمال کے ہوتے ہوئے جرم کی انتہا ثابت نہیں ہوتی۔ (بحر الرائق، باب احكام المرتدين، جلد 5، صفحہ 210،دار الکتب العلميه، بیروت)
تنویر الابصار میں ہے: (لا يفتى بكفر مسلم أمكن حمل كلامه على محمل حسن) ترجمہ: کسی مسلمان کے کفر کا فتویٰ نہیں دیا جائے گا، جب اس کے کلام کو کسی اچھے (اور درست) معنیٰ پر محمول کرنا ممکن ہو۔ (تنویر الابصار، جلد 6، باب المرتد صفحہ 353، دار المعرفۃ، بیروت)
سیدی اعلی حضرت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن فتاوی رضویہ میں ارشاد فرماتے ہیں: ہمارے ائمہ نے حکم دیا ہے کہ اگر کسی کلام میں ننانوے احتمال کفر کے ہوں اور ایک اسلام کا، تو واجب ہے کہ احتمالِ اسلام (والے معنیٰ) پر کلام محمول کیا جائے جب تک اس کا خلاف ثابت نہ ہو۔ (فتاوی رضویہ، جلد 14، صفحہ 604، 605، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: FAM-1230
تاریخ اجراء: 25 ذو الحجۃ الحرام 1447ھ / 11 جون 2026ء