علمِ غیب بتا دینے سے وہ غیب نہیں رہتا؟ اعتراض کا جواب
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
جب انبیاء و اولیائے کرام کو اللہ تعالیٰ نے علم غیب بتا دیا، تو اب وہ غیب نہ رہا ؟ ایک اعتراض کا جواب
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین اس مسئلے کے بارے میں کہ اہلسنت انبیائے کرام اور پھر ان کے واسطے سے اولیائے کرام کے لئے بعض علوم غیبیہ کا ثبوت عطائی اور بذریعہ وحی مانتے ہیں۔ اس پر بعض لوگ یہ اعتراض کرتے ہیں کہ جب ان ہستیوں کو اللہ کے بتانے سے یہ علوم حاصل ہو گئے تو یہ غیب نہ رہے بلکہ معلوم ہو گئے، لہذا ان پر علم غیب کا اطلاق درست نہیں ہوگا۔ اس اعتراض کا کیا جواب ہے؟
جواب
مذکورہ اعتراض درحقیقت ”غیب“ کی تعریف کو صحیح طور پر نہ سمجھنے کا نتیجہ ہے۔ اگر غیب کے مفہوم کو اس کی صحیح حدود و قیود کے ساتھ اچھی طرح سمجھ لیا جائے تو اس طرح کے تمام شکوک و شبہات خود بخود ختم ہو جاتے ہیں۔ تو آئیے ہم پہلے غیب کی تعریف کو سمجھتے ہیں۔
”غیب در اصل مخلوق سے پوشیدہ اس چیز کا نام ہے، جسے نہ حواس خمسہ عادیہ (یعنی انسان کو دی جانے والی دیکھنے، سننے، چکھنے، سونگھنے اور چھونے کی عمومی قوت) کے ذریعے جانا جا سکے اور نہ ہی بلا دلیل، محض بداہت عقل (یعنی نظر و فکر کے بغیر عقل) سے اس کا ادراک کیا جاسکے۔“
اب ذرا اس تعریف پر غور کیجئے! کیا اس میں کہیں یہ شرط مذکور ہے کہ غیب کا ”معلوم نہ ہونا“ ضروری ہے؟ یا یہ کہ اگر اللہ رب العزت اپنے کسی برگزیدہ بندے کو اس کی خبر عطا فرما دے تو وہ غیب نہیں رہےگا؟ یقیناً ایسا ہرگز نہیں ہے۔ بلکہ اس تعریف کے مطابق غیب کے غیب ہونے کے لئے فقط اتنا کافی ہے کہ اسے حواس عادیہ اور بلا دلیل بداہتِ عقل سے جانا نہ جا سکے۔ اب اس نکتے کو سامنے رکھتے ہوئے غور کیجئے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور اللہ تعالیٰ کے دیگر برگزیدہ بندوں کو جو ”ما کان و ما یکون“، جنت و دوزخ، حساب و کتاب اور دیگر بے شمار امورِ غیبیہ کا علم عطا فرمایا گیا ہے، کیا ہم انہیں اپنی آنکھ، کان اور دیگر حواس کے ذریعے حاصل کرسکتے ہیں؟ یا بلا دلیل بداہتِ عقل سےانہیں جان سکتے ہیں؟ یقیناً جواب نفی میں ہوگا، تو جب انبیاء و اولیائے کرام کو عطا کیے گئے امورِ غیبیہ نہ حواسِ عادیہ کے ذریعے جانے جاسکتے ہیں اور نہ ہی بلا دلیل بداہت ِعقل سے، تو یہ غیب کی تعریف کے تحت داخل ہوں گے اور ان پر غیب کا ہی اطلاق کیا جائے گا۔
خود قرآنِ مجید فرقانِ حمید کے متعدد مقامات پر اللہ تعالیٰ نے اپنے برگزیدہ بندوں کو عطا کیے گئے علوم اور خبروں کو ”غیب“ سے تعبیر فرمایا ہے۔
(1) مثلاً سورہ یوسف میں سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حضرت یوسف علیہ السلام کا مکمل واقعہ بیان کرنے کے بعد اس معلوم واقعہ پر غیب کا اطلاق کرتے ہوئے اللہ پاک فرماتا ہے: ”ذٰلِكَ مِنْ اَنْۢبَآءِ الْغَیْبِ نُوْحِیْهِ اِلَیْكَۚ۔ یعنی یہ کچھ غیب کی خبریں ہیں جو ہم تمہاری طرف وحی کرتے ہیں“ (پارہ 13، سورہ یوسف، آیت102)
(2) اسی طرح سورہ آل عمران میں حضرت مریم کا مکمل واقعہ تعلیم کر دینے کے بعد اس تعلیم شدہ واقعہ پر غیب کا اطلاق کرتے ہوئے اللہ پاک فرماتا ہے ”ذٰلِكَ مِنْ اَنْۢبَآءِ الْغَیْبِ نُوْحِیْهِ اِلَیْكَۚ۔ یعنی یہ کچھ غیب کی خبریں ہیں جو ہم تمہاری طرف وحی کرتے ہیں“ (پارہ 03، سورہ آل عمران، آیت44)
(3) اسی طرح سورہ تکویر کی آیت 24 میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان میں ارشاد ہوا ”وَ مَا هُوَ عَلَى الْغَیْبِ بِضَنِیْنٍۚ۔ یعنی اور یہ نبی غیب بتانے میں بخیل نہیں“ (پارہ 30، سورہ تکویر، آیت 24)، اور مفسرین کرام نے اس آیت کی تفسیر میں فرمایا کہ یہاں ”غیب“ سے مراد وہ علم ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو عطا فرمایا ہے، اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس علمِ غیب کو لوگوں تک پہنچانے میں ہرگز بخیل نہیں ہیں۔
(4) اس کے علاوہ حضرت خضر اور حضرت موسی علیہ السلام کی ہمراہی کا واقعہ تو بہت مشہور ہے، سورہ کہف کے جس مقام پر یہ واقعہ ذکر ہوا ہے، وہاں اللہ رب العزت حضرت خضر کی شان بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے وَ عَلَّمْنٰهُ مِنْ لَّدُنَّا عِلْمًا۔ یعنی اسے ہم نے اپنے پاس سے علم عطافرمایا“ (پارہ 15 سورہ کہف، آیت 65)، اور اس آیت کے تحت یا اس کے آس پاس تقریبا تمام ہی تفاسیر میں حضرت خضر کے لئے ”کا ن رجلا یعلم الغیب قد علم ذلک۔ یعنی آپ وہ غیب جانتے تھے جو آپ کو بتادیا گیا تھا“ کے الفاظ ذکر کر کے انہیں معلوم غیب پر غیب کا ہی اطلاق کیا گیا۔
(5) اسی طرح قرآنِ مجید کی متعدد آیات میں اللہ رب العزت کی ایک صفت ”عالمُ الغیبِ والشہادۃ“ بیان کی گئی ہے، یعنی وہ غیب اور ظاہر دونوں طرح کی چیزوں کا جاننے والا ہے۔ حالانکہ یہ بات بالکل واضح ہے کہ اللہ تعالیٰ کے لیے تو کوئی چیز غیب ہی نہیں، کیونکہ وہ تو سینوں میں چھپے رازوں اور ہر پوشیدہ چیز کو بھی جاننے والا ہے۔ لہذا یہاں مراد یہی ہوگا کہ اللہ ان چیزوں کو بھی جاننے والا ہے جو مخلوق کے لئے غیب ہیں یعنی مخلوق اس تک اپنے حواس اور بلا دلیل بداہت عقل سے نہیں پہنچ سکتی، اس کے علاوہ اس کے کوئی اور معنی نہیں ہو سکتے اور جب یہی معنی مراد لئے جائیں گے تو اس سے بھی معلوم غیب پر غیب کا اطلاق ثابت ہو جائے گا۔
(6) اسی طرح قرآنِ مجید میں مومنین اور متقین کی ایک عظیم صفت ”ایمان بالغیب“ یعنی غیب پر ایمان (لانا) بیان کی گئی ہے۔ اور ہر ذی علم شخص جانتا ہے کہ یہاں غیب سے مراد اللہ تعالی کی ذا ت و صفات، جنت و دوزخ، حشر و نشر، قبر و حساب وغیرہ امور غیبیہ ہیں۔ تو کیا مسلمان اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بتانے سے ان امور کے متعلق کچھ نہ کچھ معرفت یا علم نہیں رکھتے؟ یقیناً رکھتے ہیں۔ تو کیا محض اس علم کے حاصل ہو جانے سے یہ چیزیں ہمارے لیے غیب نہیں رہیں گی؟ اوران پر ایمان لانا ”ایمان بالغیب“ نہیں رہے گا؟ یقیناً ایسا نہیں ہے۔ لہٰذا جس طرح یہ امور اب بھی ہمارے لئے ان معنوں میں غیب رہیں گے کہ حواس عادیہ اور بداہت عقل سے ان کا ادراک نہیں ہوسکتا، بالکل اسی طرح انبیاء و اولیائے کرام کے معلوم غیوب بھی غیب رہیں گے کیونکہ انہیں بھی ان دونوں ذرائع سے نہیں جانا جا سکتا۔
جاء الحق میں غیب کی تعریف یوں بیان ہوئی: ”غیب وہ چھپی ہوئی چیز ہے جس کو انسان نہ تو آنکھ ناک کان وغیرہ حواس سے محسوس کرسکے اور نہ ہی بلا دلیل بداہۃ عقل میں آسکے۔ تفسیر روح البیان میں شروع سورہ بقرہ یؤمنون بالغیب کے ماتحت ہے۔ وھو ما غاب عن الحس والعقل غیبۃ کاملۃ بحیث لا یدرک بواحد منھا ابتداء بطریق البداھۃ“ (جاء الحق مع سعید الحق، ص70، 75، مکتبہ غوثیہ)
بیضاوی کی تعریف پر اس کے حاشیہ، ”حاشیۃ الشھاب علی تفسیر البیضاوی“ میں ہے: ”(والمراد به إلخ) بديهة العقل والرأي ما لا تحتاج إلى فكر ونظر“ بداہت عقل سے مراد یہ ہے کہ جس میں نظر و فکر کی ضرورت نہ ہو۔ (حاشیۃ الشھاب علی تفسیر البیضاوی، ج01، ص215، دار النشر: دار صادر، بيروت)
واضح رہے کہ غیب کی تعریف میں ذکر کردہ ”بداہت عقل“ کی قید سے کچھ صورتوں کو خارج کرنا مقصود ہے جن میں عقل کے ذریعے غیب جانا جاتا ہے اور وہ صورتیں یہ ہیں جہاں شریعت کی طرف سے غیب پر دلائل قائم ہیں اور عقل ان دلائل کی روشنی میں غیب جان لیتی ہے جیسے اللہ تعالیٰ نے اپنے وجود اور اپنی توحید پر اس عالم میں بہت سارے دلائل قائم فرمائے ہیں، جن میں غور و فکر کر کے اس بات کا علم حاصل ہو جاتا ہے کہ کوئی تو خدا موجود ہے، تو یہ حاصل ہونے والا علم، غیب کا علم ہی کہلائے گا، بلکہ غیب کی یہ حصولی و عطائی قسم مخلوق کے ساتھ خاص ہے۔
جاء الحق میں ہے: ”غیب دو طرح کا ہے ایک وہ جس پر کوئی دلیل قائم ہوسکے یعنی دلائل سے معلوم ہوسکے، دوسرا وہ جس کو دلیل سے بھی معلوم نہ کیا جاسکے۔ پہلے غیب کی مثال جیسے خدائے پاک کی ذا ت و صفات کہ عالم کی چیزیں دیکھ کر ان کا پتہ چلتا ہے۔“ (جاء الحق مع سعید الحق، ص 72، مکتبہ غوثیہ)
صدر الافاضل سید نعیم الدین مراد آبادی علیہ الرحمہ بعینہ سوال میں مذکورہ اعتراض کا جواب دیتے ہوئے لکھتے ہیں: ”اکثر جہلا یہ کہا کرتے ہیں کہ جب اللہ نے تعلیم کیا تو وہ غیب کہاں رہا۔ یہ غلطی اسی باعث سے ہوئی کہ یہ لوگ غیب کے معنی سے ناواقف ہیں۔ اب غیب کے معنی سنیے: تفسیر بیضاوی میں ہے وَالْمُرَادُ بِهِ الْخَفِيُّ الَّذِي لَا يُدْرِكُهُ الْحس وَلَا تَقْتَضِيهِ بَدِيهَةُ الْعَقْل یعنی غیب اُس پوشیدہ چیز کا نام ہے جس کو حس ادراک نہیں کرتی اور بداہت عقل پا نہیں لیتی اس میں یہ کہیں ذکر نہیں کہ اس کی تعلیم نہیں ہو سکتی یا تعلیم سے غیب پر غیب کا اطلاق نہیں ہوتا۔ یہ مخالف صاحب نے اپنی طرف سے بے ثبوت محض خلاف تصریحات مفسرین لکھ دیا اور کتب معتبرہ کی طرف اصلا التفات نہ کیا۔ افسوس ہے دینی مسائل میں یہ ہوا بندیاں اپنی طبیعت سے جو چاہا لکھ دیا جس کا ثبوت فضاء عالم میں عنقاء۔ علماء کی نظر میں آپ کا یہ طرز عمل آپ کی کیا وقعت پیدا کرے گا۔
تفسیر کبیر ملاحظہ ہو، آیہ کریمہ يُؤْمِنُونَ بِالْغَيْبِ کے تحت مسطور ہے قول جمهور المفسرين ان الغيب هو الذي يكون غائبا عن الحاسة ثم هذا الغيب ينقسم إلى ما عليه دليل وإلى ما لا دليل عليه یعنی جمہور مفسرین کا قول ہے کہ غیب وہ ہے جو حواس سے غائب ہو۔ پھر اس غیب کی دو قسمیں ہیں۔ ایک وہ جس پر دلیل نہ ہو جس غیب کی دلیل نہ ہو وہ جناب حق سبحانہ تعالیٰ کے ساتھ خاص ہے۔ رہا وہ غیب جس پر دلیل ہو وہ مخلوق کے ساتھ خاص ہے کیونکہ اللہ سبحانہ کا علم تو کسی دلیل یا تعلیم کا محتاج ہی نہیں تو ضرور اس قسم کا غیب بندوں کے ساتھ خاص ہوگا۔“ (الکلمۃ العلیا، ص 87-88، والضحی پبلی کیشنز)
مخلوق کے علم پر غیب کا اطلاق ائمہ دین سے منقول ہے چنانچہ ارشاد خداوندی: ”وَ مَا هُوَ عَلَى الْغَیْبِ بِضَنِیْنٍۚ“ کے تحت تفسیر در منثور میں ہے: ”واخرج عبد بن حميد وابن المنذر عن مجاهد ﴿وما هو على الغيب بضنين﴾ يقول: ما كان يضن عليكم بما يعلم“ اور عبد بن حمید اور ابن المنذر نے مجاہد سے روایت کیا ہے کہ آیت (وما هو على الغيب بضنين) کے بارے میں انہوں نے فرمایا: وہ تم پر اس علم کے بارے میں بخل نہیں کرتے جو وہ جانتے ہیں۔ (در منثور، ج 08، ص 435، دار الفكر – بيروت)
ارشاد باری تعالی ”وَ عَلَّمْنٰهُ مِنْ لَّدُنَّا عِلْمًا“ کے تحت تفسير ابن كثير، تفسیر طبری، تفسیر ثعلبی اور در منثور وغیرہ کتب میں ہے، واللفظ للدر المنثور: ”وَكَانَ رجلا يعلم علم الْغَيْب قد علم ذَلِك“ یہ شخص غیب جو کہ اسے بتادیا گیا تھا، جانتا تھا۔ (در منثور، ج 05، ص 414، دار الفكر – بيروت)
اللہ تعالیٰ کو غیب جاننے والا کہنا اسی اعتبار سے ہے کہ وہ مخلوق سے غائب چیزوں کو جانتا ہے۔ ”عالمُ الغیبِ والشہادۃ“ کے تحت تفسير نسفی میں ہے: ”عالم ما غاب عن الخلق وما شاهدوه“ ان چیزوں کا جاننے والا ہے جو مخلوق کے لئے غیب ہے اور ان چیزوں کا بھی جاننے والا ہے جو غیب نہیں۔ (تفسیر نسفی، ج 03، ص 06، دار الكلم الطيب، بيروت)
تفسیر بغوی میں ہے: ”قال ابن عباس: الغيب هاهنا كل ما أمرت بالإيمان به فيما غاب عن بصرك مثل الملائكة والبعث والجنة والنار والصراط والميزان. هو اللہ تعالى“ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا:
یہاں ”غیب“ سے مراد ہر وہ چیز ہے جس پر ایمان لانے کا تمہیں حکم دیا گیا ہے، اور جو تمہاری نگاہوں سے اوجھل ہے، جیسے فرشتے، مرکر اٹھایا جانا، جنت، جہنم، پل صراط اور میزان۔ (تفسیر بغوی، ج 01، ص 62، دار طيبة للنشر والتوزيع)
تفسیر”تبیان القرآن“ میں علامہ غلام رسول سعیدی علیہ الرحمہ لکھتے ہیں: ”ایک عام سوال یہ کیا جاتا ہے کہ جب انبیاء علیہم السلام اور اولیاء کرام کو غیب کی خبر دے دی گئی تو پھر وہ غیب نہ رہا، اس کا جواب یہ دیا جاتا ہے کہ غیب ایک امر اضافی ہے سو جن لوگوں کو اس کی خبر نہیں دی گئی ان کے اعتبار سے وہ غیب ہے جیسے اللہ تعالٰی عالم الغیب ہے حالانکہ اللہ تعالی سے کوئی چیز غائب نہیں، سو اللہ تعالیٰ کا عالم الغیب ہونا بھی اضافی ہے یعنی جو چیز ہمارے اعتبار سے غیب ہے وہ اس کا عالم ہے لیکن یہ سوال و جواب غیب کے لغوی معنی کے اعتبار سے ہیں، غیب کے اصطلاحی معنی کے اعتبار سے یہ سوال وارد نہیں ہوتا کیونکہ غیب کا اصطلاحی معنی ہے جو چیز حواس خمسہ (عادیہ) اور بداہت عقل سے معلوم نہ ہو سکے اور جس غیب کی خبر دے دی جائے وہ پھر بھی غیب ہے کیونکہ اس کو حواس خمسہ اور بداہت عقل سے معلوم نہیں کیا جا سکتا، مثلا ہم کو جنت دوزخ اور قیامت کی خبر دے دی گئی لیکن یہ چیزیں پھر بھی غیب ہیں کیونکہ ہم ان کو حو اس خمسہ سے معلوم نہیں کر سکتے نہ بداہت عقل سے جان سکتے ہیں، اور اللہ تعالیٰ کو عالم الغیب اس اعتبار سے کہا گیا ہے کہ جو چیز انسان کے حواس خمسہ (عادیہ) اور اس کی بداہت عقل سے معلوم نہ کی جاسکے وہ اس کا عالم ہے کیونکہ اللہ تعالی حواس خمسہ اور عقل سے پاک اور منزہ ہے۔“ (تبیان القرآن، ج 01، ص 263، فرید بک اسٹال، اردو بازار لاہور)
امام اہلسنت علیہ الرحمہ لکھتے ہیں: ”اور اللہ عزوجل کی عطا سے علومِ غیب غیر محیط کا اَنبیاء علیہم الصلوٰۃ و السلام کو ملنا بھی قطعاً حق ہے اور کیوں نہ ہو کہ رب عزوجل فرماتا ہے: ’’وَ مَا هُوَ عَلَى الْغَیْبِ بِضَنِیْنٍ‘‘ (التکویر: ۲۴) یہ نبی غیب کے بتانے میں بخیل نہیں۔ حتّٰی کہ مسلمانوں کو فرماتا ہے: ’’یُؤْمِنُوْنَ بِالْغَیْبِ‘‘ (بقرہ: ۳) غیب پر ایمان لاتے ہیں۔ ایمان تصدیق ہے اور تصدیق علم ہے، جس شے کا اصلاً علم ہی نہ ہو اس پر ایمان لانا کیونکر ممکن۔“ (فتاوٰی رضویہ، ج 29، ص 438، رضا فاؤنڈیشن لاہور)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: HAB-0737
تاریخ اجراء: 22 شوال المکرم 1447ھ / 11 اپریل 2026 ء