logo logo
AI Search

فرشتوں کو اللہ کا بندہ کہنے کا حکم

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

فرشتوں کو اللہ تعالیٰ کے بندے کہنا کیسا ہے ؟

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

فرشتوں کو اللہ تعالیٰ کے بندے کہنا کیسا ہے ؟

جواب

فرشتوں کو اللہ کا بندہ کہنا درست ہے، اللہ تعالی نے قرآن پاک میں فرشتوں کو "معزز و مکرم بندے" فرمایا ہے۔ نیز بندے کا معنی ہے:  "عابد، فرمانبردار، مطیع (اطاعت کرنے والا)۔" اور یہ معنی فرشتوں پرصادق آتا ہے۔ لہذا فرشتوں کو اللہ کا بندہ کہنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔

اللہ کریم قرآن میں فرماتا ہے ﴿وَ قَالُوا اتَّخَذَ الرَّحْمٰنُ وَلَدًا سُبْحٰنَهٗؕ-      بَلْ عِبَادٌ مُّكْرَمُوْنَۙ          ﴾ ترجمہ کنز الایمان: اور بولے رحمٰن نے بیٹا اختیار کیا، پاک ہے وہ بلکہ بندے ہیں عزت والے۔ (پارہ 17، سورۃ الانبیاء، آیت 26)

اس آیت کریمہ کے تحت تفسیر خزائن العرفان میں ہے "یعنی فرشتے اس کے برگزیدہ اور مکرّم بندے ہیں ۔" (تفسیر خزائن العرفان، سورۃ الانبیاء، تحت الآیۃ: 26)

اسی آیت کے تحت تفسیر صراط الجنان میں ہے ”(وَ قَالُوا: اور کافروں نے کہا۔) اس آیت کا شانِ نزول یہ ہے کہ یہ آیت خزاعہ قبیلے کے بارے میں نازِل ہوئی جنہوں نے فرشتوں کو خدا کی بیٹیاں کہا تھا۔ اس آیت اور اس کے بعد والی آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ کافر فرشتوں کو اللہ تعالیٰ کی اولاد قرار دیتے ہیں جبکہ اللہ تعالیٰ کی ذات اس سے پاک ہے کہ اس کے اولاد ہو۔ فرشتے اللہ تعالیٰ کی اولاد نہیں بلکہ وہ اس کے برگزیدہ اور مکرم بندے ہیں، وہ کسی بات میں اللہ تعالیٰ سے سبقت نہیں کرتے، صرف وہی بات کرتے ہیں جس کا اللہ تعالیٰ انہیں حکم دیتا ہے اور وہ کسی اعتبار سے اللہ تعالیٰ کے حکم کی مخالفت نہیں کرتے بلکہ اس کے ہر حکم پر عمل کرتے ہیں۔“ (تفسیر صراط الجنان، ج 6، ص 308، 309، مکتبۃ المدینہ)

ایک اور آیت کریمہ میں اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا ﴿وَ جَعَلُوا الْمَلٰٓىٕكَةَ الَّذِیْنَ هُمْ عِبٰدُ الرَّحْمٰنِ اِنَاثًاؕ        ﴾ ترجمہ کنزالایمان : اور انہوں نے فرشتوں کو کہ رحمٰن کے بندے ہیں عورتیں ٹھہرایا ۔ (پارہ 25، سورۃ الزخرف، آیت 19)

اس آیت کے تحت تفسیر صراط الجنان میں ہے”(وجَعَلُوا الْمَلٰٓىٕكَةَ الَّذِیْنَ هُمْ عِبٰدُ الرَّحْمٰنِ اِنَاثًا) اور انہوں نے فرشتوں کو عورتیں ٹھہرایا جو کہ رحمٰن کے بندے ہیں) آیت کے اس حصے اور اس سے اوپر والی آیات کا حاصل یہ ہے کہ بے دینوں نے فرشتوں کو اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں بتا کر اس طرح کفر کا اِرتکاب کیا کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کی طرف اولاد کی نسبت کی اور اس چیز کواللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کیا جسے وہ خود بہت ہی حقیر سمجھتے ہیں اور اپنے لئے گوارانہیں کرتے۔ اس کے بعد کفار کا رد فرمایا کہ فرشتے اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں ہر گز نہیں بلکہ وہ اس کے بندے ہیں اور فرشتوں کا مُذَکّر یا مُؤنّث ہونا ایسی چیز تو ہے نہیں جس پر کوئی عقلی دلیل قائم ہوسکے اوراس حوالے سے اُن کے پاس کوئی خبر بھی نہیں آئی جسے وہ نقلی دلیل قرار دے سکیں، تو جو کفار ان کو مُؤنّث قرار دیتے ہیں اُن کا ذریعۂ علم کیا ہے؟ کیا وہ فرشتوں کی پیدائش کے وقت موجود تھے اور اُنہوں نے مشاہدہ کرلیا ہے؟ جب یہ بھی نہیں تو انہیں مُؤنّث کہنا محض جاہلانہ اور گمراہی کی بات ہے۔“ (تفسیر صراط الجنان، ج 9، ص 114، مکتبۃ المدینہ)

بندہ کے معانی:

رابعہ اردو لغت میں ہے ”بندہ: مطیع، فرمانبردار۔ (رابعہ اردو لغت، ص 209، مطبوعہ انڈیا)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

مجیب: ابو شاھد مولانا محمد ماجد علی مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-5017
تاریخ اجراء: 28 ذو القعدۃ الحرام 1447ھ / 16 مئی 2026ء