کرامت کی تعریف اور اس کے انکار کا حکم
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
کرامت کا صحیح مفہوم اور اس کا انکار کرنے کا حکم
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کرامت کا صحیح مفہوم کیا ہے؟ نیز کرامات کا انکار کرنے والے کے بارے میں کیا حکم شرعی ہے؟
جواب
کرامت کی وضاحت:
اس خلاف عادت کام کو کہتے ہیں، جو اللہ تعالیٰ کے کسی ولی کی طرف سے ظاہر ہوتا ہے۔ خلاف عادت سے مراد عادۃً محال یعنی ایسا کام جو عام طور پر انسان سے وقوع پذیر نہیں ہو سکتا، مثلاً بہت لمبی مسافت چند لمحات میں طے کر لینا، غیب سے کھانے، پینے، یا لباس کا ظاہر ہو جانا، بے زبان جانوروں کا اس سے کلام کرنا، وغیرہ۔
کرامت کا انکار کرنے کا حکم:
کرامت کا ثبوت قرآن کریم کی متعدد آیات، اور کثیر احادیث طیبہ سے ہے، اس کا انکار کرنے والا بدمذہب، گمراہ، اور اہل سنت سے خارج ہے۔
اللہ کریم ارشاد فرماتا ہے: ﴿كُلَّمَا دَخَلَ عَلَیْهَا زَكَرِیَّا الْمِحْرَابَۙ-وَجَدَ عِنْدَهَا رِزْقًاۚ-قَالَ یٰمَرْیَمُ اَنّٰى لَكِ هٰذَاؕ-قَالَتْ هُوَ مِنْ عِنْدِ اللّٰهِؕ-﴾ ترجمہ کنز العرفان: جب کبھی زکریا اس کے پاس اس کی نماز پڑھنے کی جگہ جاتے تو اس کے پاس پھل پاتے۔ (زکریا نے) سوال کیا، اے مریم! یہ تمہارے پاس کہاں سے آتا ہے؟ انہوں نے جواب دیا: یہ اللہ کی طرف سے ہے۔ (پارہ 3، سورۃ آل عمران 3، آیت 37)
علامہ سلیمان بن عمر جمل شافعی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ "الفتوحات الالھیۃ" المعروف تفسیر جمل میں اس آیت مبارکہ کے تحت لکھتے ہیں: "وهذا يدل على جواز الكرامة لأولياء الله تعالى" ترجمہ: یہ واقعہ اللہ تعالیٰ کے ولیوں کے لیے کرامت کے جواز پر دلالت کرتا ہے۔ (الفتوحات الإلهية بتوضيح تفسير الجلالين، جلد 1، صفحہ 405، دار الكتب العلمية، بيروت)
اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: ﴿قَالَ یٰۤاَیُّهَا الْمَلَؤُا اَیُّكُمْ یَاْتِیْنِیْ بِعَرْشِهَا قَبْلَ اَنْ یَّاْتُوْنِیْ مُسْلِمِیْنَ(38) قَالَ عِفْرِیْتٌ مِّنَ الْجِنِّ اَنَا اٰتِیْكَ بِهٖ قَبْلَ اَنْ تَقُوْمَ مِنْ مَّقَامِكَۚ-وَ اِنِّیْ عَلَیْهِ لَقَوِیٌّ اَمِیْنٌ(39) قَالَ الَّذِیْ عِنْدَهٗ عِلْمٌ مِّنَ الْكِتٰبِ اَنَا اٰتِیْكَ بِهٖ قَبْلَ اَنْ یَّرْتَدَّ اِلَیْكَ طَرْفُكَؕ-فَلَمَّا رَاٰهُ مُسْتَقِرًّا عِنْدَهٗ قَالَ هٰذَا مِنْ فَضْلِ رَبِّیْ ﱎ لِیَبْلُوَنِیْۤ ءَاَشْكُرُ اَمْ اَكْفُرُؕ-﴾ ترجمہ کنز العرفان: سلیمان نے فرمایا: اے درباریو! تم میں کون ہے جو ان کے میرے پاس فرمانبردار ہو کر آنے سے پہلے اس کا تخت میرے پاس لے آئے۔ ایک بڑا خبیث جن بولا کہ میں وہ تخت آپ کی خدمت میں آپ کے اس مقام سے کھڑے ہونے سے پہلے حاضر کر دوں گا اور میں بے شک اس پر قوت رکھنے والا، امانتدار ہوں۔ اس نے عرض کی جس کے پاس کتاب کا علم تھا کہ میں اسے آپ کی بارگاہ میں آپ کے پلک جھپکنے سے پہلے لے آؤں گا (چنانچہ) پھر جب سلیمان نے اس تخت کو اپنے پاس رکھا ہوا دیکھا تو فرمایا: یہ میرے رب کے فضل سے ہے تاکہ وہ مجھے آزمائے کہ میں شکر کرتا ہوں یا ناشکری ؟۔ (پارہ 19، سورۃ النمل، آیت 38 تا 40)
تفسیر صراط الجنان میں ہے: "راجح اور جمہور مفسرین کا یہی قول لکھا ہے کہ جس کے پاس کتاب کا علم تھا اس سے مراد حضرت سلیمان علیہ الصلوۃ والسلام کے وزیر حضرت آصف بن برخیا رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہیں۔... اس آیت سے اولیاءِ کرام رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہم سے کرامات کا ظاہر ہونا بھی ثابت ہوتا ہے۔ حضرت علامہ یافعی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں: اولیاءِ کرام رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہم سے کرامات کا ظاہر ہونا عقلی طور پر ممکن اور نقلی دلائل سے ثابت ہے۔ عقلی طور پر ممکن اس لیے ہے کہ ولی سے کرامت ظاہر کر دینا اللہ تعالی کی قدرت سے محال نہیں بلکہ یہ چیز ممکنات میں سے ہے، جیسے انبیاءِ کرام علیہم الصلوۃ والسلام سے معجزات ظاہر کر دینا۔ یہ اہلسنت کے کامل اولیاءِ کرام، اصولِ فقہ کے بڑے بڑے علماء، فقہاء اور محدثین کا مذہب ہے۔ مشرق و مغرب اور عرب و عجم میں ان کی کتابوں میں اس بات کی صراحت موجود ہے۔ " (تفسیر صراط الجنان، جلد 7، صفحہ 203-204، مکتبۃ المدینۃ، کراچی)
علامہ سعد الدین مسعود بن عمر تفتازانی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 793ھ/1390ء) لکھتے ہیں: "وكرامات الأولياء حق والولي هو العارف بالله تعالى وصفاته حسب ما يمكن المواظب على الطاعات المجتنب عن المعاصي المعرض عن الانهماك في اللذات والشهوات وكرامته ظهور أمر خارق للعادة من قبله غير مقارن لدعوى النبوة " ترجمہ: اولیاءِ کرام کی کرامات حق ہیں، اور ولی وہ ہے جو اللہ تعالیٰ اور اس کی صفات کی حسبِ استطاعت معرفت رکھنے والا ہو، عبادات پر پابندی کرنے والا ہو، گناہوں سے بچنے والا ہو، اور لذتوں اور شہوتوں میں ڈوب جانے سے کنارہ کش ہو، اور ولی کی کرامت یہ ہے کہ اس کی طرف سے کوئی ایسا امر ظاہر ہو، جو عادت کے خلاف ہو، اور دعوائے نبوت کے ساتھ ملا ہوا نہ ہو۔ (شرح العقائد النسفية، صفحہ 313، مکتبۃ المدینۃ، کراچی)
امام اہل سنت، امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1340ھ/1921ء) لکھتے ہیں: "کرامات اولیاء کا منکر گمراہ ہے، اہل سنت کا عقیدہ ہے کہ کرامات اولیاء حق ہیں۔" (فتاوی رضویہ، جلد 14، صفحہ 683، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ایک اور جگہ لکھتے ہیں: "کرامات اولیاء کا انکار گمراہی ہے۔" (فتاوی رضویہ، جلد 14، صفحہ 324، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1367ھ / 1948ء) لکھتے ہیں: "کرامت اولیاء حق ہے، اس کا منکر گمراہ ہے۔" (بہار شریعت، جلد 1، حصہ 1، صفحہ 269، مکتبة المدینۃ، کراچی)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: ابو حفص مولانا محمد عرفان عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4976
تاریخ اجراء: 14 ذو القعدۃ الحرام 1447ھ / 02 مئی 2026ء