قرآن کو نہیں مانتا کہنے کا حکم
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
قرآن کی قسم کھانے کا کہا ، تو جواب دیا کہ میں قرآن کو نہیں مانتا، اس کا کیا حکم ہے
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
ایک شخص کو کسی بات پر قرآن کی قسم کھانے کا کہا، تو اس نے غصے میں جواب دیا کہ میں قرآن کو نہیں مانتا، ایسے شخص کے لئے کیا حکم ہے؟
جواب
قرآن پاک کا انکار کفر ہے، ایسا کرنے والے پر لازم ہے کہ فوراً توبہ و تجدید ایمان کرے اور شادی شدہ تھا تو تجدید نکاح بھی کرے۔
امیراہلسنت دامت برکاتہم العالیہ لکھتے ہیں: ”جوشخص قرآن شریف یا اس میں سے کسی حصہ کی توہین کرے یا اس کو گالی دے یا اس کا انکار کرے یا اس کے کسی حَرف کا یا کسی آیت کا انکار کرے یا اس کو جُھٹلائے یا اس کے کسی حصہ یا کسی حکم کو جھٹلائے جس کی اس میں تَصریح کی گئی ہے یا جس کی اس میں نَفی کی گئی(یعنی انکار کیا گیا) ہے اُس کو ثابِت کرے یا جس کو اس میں ثابِت کیا گیا ہے، اُس کی نفی (یعنی انکار) کرے حالانکہ وہ انکار کرنے والا اس کو جانتا ہے یا اس میں کچھ شک کرتا ہے تو وہ بِالاِجماع عُلمائے کرام کے نزدیک کافر ہے۔“ (کفریہ کلمات کے بارے میں سوال جواب، صفحہ 188، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا سید مسعود علی عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: Web-2401
تاریخ اجراء: 22 محرم الحرام 1447ھ/18 جولائی 2025 ء