غیر ملکی شہریت حاصل کرنے کے لیے خود کو غیر مسلم لکھوانا
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
کسی ملک کی نیشنلٹی حاصل کرنے کے لیے غیر مسلم لکھوانا کیسا ؟
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ کیا ایک مسلمان کسی ملک کی شہریت (Citizenship) حاصل کرنے کے لیے اپنے آپ کو ایتھیسٹ، عیسائی یا کوئی اور غیر مسلم ظاہر کر سکتا ہے؟ حالانکہ وہ دل سے اسلام کو سچا دین مانتا ہو اور اس کا مقصد صرف شہریت اور کاغذات حاصل کرنا ہو۔ کیا اسلام میں ایسا کرنے کی گنجائش ہے؟ اگر نہیں تو ایسے شخص کے بارے میں کیا حکم ہے؟
جواب
کوئی دنیاوی فائدہ مثلاً کسی ملک کی شہریت یا کاغذات حاصل کرنے کی غرض سے ایک مسلمان کا اپنے آپ کو ملحد (Atheist)، عیسائی یا کسی اور مذہب کا فرد لکھنا اور خود کو غیر مسلم ظاہر کرنا سخت ناجائز و حرام اور کفر ہے؛ کیونکہ بلا اکراہ شرعی کفر کا اقرار کرنا یا اس پر راضی ہونا یا خود کو غیر مسلم کہنا، اگرچہ دل میں ایمان رکھتا ہو، آدمی کو دائرہ اسلام سے خارج کر دیتا ہے۔ خدانخواستہ اگر کسی مسلمان نے ایسا کیا ہو تو اس پر فرض ہے کہ فوراً اس سے توبہ کرے اور نئے سرے سے اسلام لائے، اگر شادی شدہ تھا تو تجدید نکاح بھی کرے۔ ہر مسلمان کو چاہیے کہ دینی غیرت اور ایمان کی حفاظت کو ہر دنیوی مصلحت پر مقدم رکھے۔
اللہ کریم ارشاد فرماتا ہے:
مَنْ كَفَرَ بِاللّٰهِ مِنْۢ بَعْدِ اِیْمَانِهٖۤ اِلَّا مَنْ اُكْرِهَ وَ قَلْبُهٗ مُطْمَىٕنٌّۢ بِالْاِیْمَانِ وَ لٰكِنْ مَّنْ شَرَحَ بِالْكُفْرِ صَدْرًا فَعَلَیْهِمْ غَضَبٌ مِّنَ اللّٰهِۚ-وَ لَهُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌ(۱۰۶)
ترجمہ کنز العرفان: جو ایمان لانے کے بعد اللہ کے ساتھ کفر کرے سوائے اس آدمی کے جسے (کفر پر) مجبور کیا جائے اور اس کا دل ایمان پر جما ہوا ہو لیکن وہ جو دل کھول کر کافر ہوں ان پر اللہ کا غضب ہے اور ان کے لیے بڑا عذاب ہے۔ (پارہ 14، سورۃ النحل 16، آیت 106)
امام ابوبکر احمد بن علی قاضی جصاص رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 370ھ/ 980ء) اس آیت کے تحت لکھتے ہیں:
”فقد اختار إظهار الكفر من غير إكراه فلزمه حكم الكفر“
ترجمہ: پس بغیر کسی جبر کے اظہارِ کفر کو اختیار کیا تو ایسے پر حکمِ کفر لازم ہو جائے گا۔ (أحكام القرآن للجصاص، جلد 3، صفحہ 249، دار الكتب العلمية، بيروت)
علامہ شاہ فضل رسول بدایونی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1289ھ/1872ء) لکھتے ہیں:
”وفي الخلاصة: من قال أنا ملحد كفر، وفي المحيط و الحاوي: لأن الملحد كافر، ولو قال ما علمت أنه كفر لا يعذر بهذا“
ترجمہ: اور الخلاصۃ میں ہے: جس نے کہا "میں ملحد ہوں" وہ کافر ہو گیا، اور المحیط اور الحاوی میں ہے: اس لیے کہ ملحد کافر ہوتا ہے، اور اگر وہ کہے کہ مجھے معلوم نہ تھا کہ یہ کفر ہے تو اس کا یہ عذر قبول نہیں کیا جائے گا۔ (المعتقد المنتقد، الباب الثاني في النبوات، صفحہ 267-268، دار اهل السنة، کراچی)
علامہ عبد الرحمٰن بن محمد شیخی زاده داماد آفندی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1078ھ/1667ء) لکھتے ہیں:
”ومن كفر بلسانه طائعا وقلبه مطمئن بالإيمان فهو كافر ولا ينفعه ما في قلبه لأن الكافر يعرف بما ينطق به بالكفر فإذا نطق بالكفر طائعا كان كافرا عندنا وعند الله تعالى“
ترجمہ: اور جس شخص نے اپنی زبان سے بحالتِ رضا مندی کلمۂ کفر کہا، حالانکہ اس کا دل ایمان پر مطمئن ہو تو وہ کافر ہے اور اس کے دل میں جو ہے وہ اسے فائدہ نہیں دے گا؛ کیونکہ کافر اس بات سے پہچانا جاتا ہے جو وہ کفر بولتا ہے، پس جب اس شخص نے رضا مندی سے کلمۂ کفر بولا تو وہ ہمارے نزدیک اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک بھی کافر ہو گیا۔ (مجمع الأنهر في شرح ملتقى الأبحر، كتاب السير، باب المرتد، جلد 1، صفحہ 688، دار إحياء التراث العربي، بيروت)
امام اہل سنت اعلی حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1340ھ/1921ء) لکھتے ہیں: ”جو بلا اکراہ کلمۂ کفر بکے، بلا فرق نیت مطلقاً قطعاً یقیناً اجماعاً کافر ہے، عورت اس کی نکاح سے فوراً نکل جاتی ہے، جب تک از سرنو اسلام نہ لائے اور اپنے ان کلماتِ ملعونہ سے براءت و توبہ صادقہ نہ کرے، ہر گز اس سے نکاح نہیں ہو سکتا۔“ (فتاوی رضویہ، جلد 14، صفحہ 600، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
سیدی اعلی حضرت رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے ایک شخص کے متعلق سوال ہوا جس نے محض دنیوی فائدے کے لیے اپنے خاندان کا ہندو دھرم سے ہونا ظاہر کیا تاکہ ہندو قوانین کے تحت دنیوی فائدہ حاصل کر سکے، تو آپ نے جواباً ارشاد فرمایا: ”اپنے دنیوی فائدے مالِ حرام خلافِ شرع ملنے کے لیے اپنے آپ کو برخلاف احکام قرآن مجید ہندو دھرم شاستر کا پابند بنانا معاذ اللہ اپنے کفر کا اقرار کرنا ہے، اور اپنے سارے خاندان کی طرف اسے نسبت کرنا سارے خاندان کو کافر بنانا ہے، ایسے لوگوں کو تجدید اسلام کا حکم ہے، پھر اپنی عورتوں سے نکاح کریں۔ قال اللہ تعالی
﴿وَ مَنْ لَّمْ یَحْكُمْ بِمَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ فَاُولٰٓىٕكَ هُمُ الْكٰفِرُوْنَ﴾
(یعنی اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: اور جو اللہ کے اتارے پر حکم نہ کرے وہی لوگ کافر ہیں)۔“ (فتاوی رضویہ، جلد 26، صفحہ 341، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
امیر اہل سنت علامہ ابو بلال محمد الیاس عطار قادری دامت برکاتہم العالیہ لکھتے ہیں: ”بعض لوگ جو ازالۂ قرض و تنگدستی یا دولت کی زیادتی کے لیے کفار کے یہاں نوکری کی خاطر یا ویزا فارم پر یا کسی طرح کی رقم وغیرہ کی بچت کے لیے درخواست پر خود کو عیسائی (کرسچین)، یہودی، قادیانی یا کسی بھی کافر و مرتد گروہ کافر د لکھتے یا لکھواتے ہیں، ان پر حکم کفر ہے۔“ (کفریہ کلمات کے بارے میں سوال جواب، صفحہ 453-454، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
علامہ ابن عابدین سید محمد امین بن عمر شامی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1252ھ/1836ء) فتاوی بزازیہ کے حوالے سے لکھتے ہیں:
”ولو ارتد والعياذ بالله تعالى تحرم امرأته ويجدد النكاح بعد إسلامه ويعيد الحج“
ترجمہ: اور اگر کوئی شخص معاذ اللہ مرتد ہو جائے تو اس کی بیوی اس پر حرام ہو جاتی ہے، اور وہ (نئے سرے سے) اسلام لانے کے بعد نکاح کی تجدید کرے گا اور (پہلے کیا ہوا) حج دوبارہ کرے گا۔ (العقود الدرية في تنقيح الفتاوى الحامدية، باب الردة والتعزير، جلد 1، صفحہ 99، دار المعرفة، بیروت)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: FAM-1101
تاریخ اجراء: 27 شعبان المعظم 1447ھ/16 فروری 2026ء