logo logo
AI Search

آج نماز سے چھٹی ہے کہنا کیسا؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

یہ جملہ: آج نماز سے چھٹی ہے کہنے کا حکم

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

اگر کسی شخص نے غلطی سے کہا کہ آج نماز سے چھٹی ہے تو کیا یہ کلمہ کفر ہے؟

جواب

یہ جملہ آج نماز سے چھٹی ہے صریح کفر ہے، جس کو کہنے والے پر حکم کفر ہے، اور اس پر توبہ اور تجدید ایمان لازم ہے، اور شادی شدہ تھا، تو تجدید نکاح بھی لازم ہے۔ ہاں! اگر واقعی غلطی سے یہ جملہ نکل گیا، یعنی کہنا کچھ چاہتا تھا، لیکن زبان سے یہ جملہ نکل گیا، اور وہ اس کلام سے نفرت و بیزاری کا ظہار بھی کرے، کہ سننے والوں کو معلوم ہوجائے، کہ غلطی سے یہ لفظ نکلا ہے، تو کفر کا حکم نہیں۔

کفریہ کلمات کے بارے میں سوال و جواب نامی کتاب میں ہے سوال: آج تو چھٹی کا دن ہے، نماز کی بھی چھٹی ہے، یہ جملہ کہنا کیسا؟ جبکہ کہنے والا عاقل و بالغ ہو۔ جواب: یہ جملہ صریح کفر ہے۔ (کفریہ کلمات کے بارے میں سوال و جواب، صفحہ 503، مکتبۃ المدینہ)

کفریہ کلمات کے بارے میں سوال جواب میں ہے صریح کُفر بکنے والا کافِر و مُرتد ہو جاتا ہے اور شادی شدہ تھا تونِکاح ٹوٹ جاتا، کسی کا مُرید تھا تو بَیعت ختم ہو جاتی اور زندَگی بھر کے نیک اعمال برباد ہو جاتے ہیں، اگر حج کر لیا تھا تو وہ بھی گیا، اب بعدِ تجدِید ایمان صاحِبِ استِطاعت ہونے پر نئے سِرے سے حج فرض ہوگا، ملتقطا۔ (کفریہ کلمات کے بارے میں سوال جواب، ص 71، 72، مکتبۃ المدینہ)

بہار شریعت میں ہے کہنا کچھ چاہتا تھا اور زبان سے کفر کی بات نکل گئی تو کافر نہ ہوا یعنی جبکہ اس امر سے اظہار نفرت کرے کہ سننے والوں کوبھی معلوم ہو جائے کہ غلطی سے یہ لفظ نکلا ہے اور اگر بات کی پچ کی (کی ہوئی بات پر اَڑا رہا) تو اب کا فر ہو گیا کہ کفر کی تائید کرتا ہے۔ (بہار شریعت، جلد 02، حصہ 09، صفحہ 456، مکتبۃ المدینہ)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا محمد فراز عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4909
تاریخ اجراء: 27 شوال المکرم 1447ھ / 16 اپریل 2026ء