logo logo
AI Search

کن لوگوں سے سوالات قبر نہیں ہوں گے ؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

کن لوگوں سے قبر کے سوالات نہیں ہوں گے ؟

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ کیا سوالاتِ قبر سب سے ہوتے ہیں ؟ انبیائے کرام علیھم السلام اور شہدا سے بھی سوالات ِ قبر ہوئے؟ ایک شخص سے سنا ہے کہ ان سے سوالات قبر نہیں ہوئے، کیا یہ درست ہے ؟

جواب

سوالاتِ قبر کے بارے میں اتنی بات اہل سنت کے نزدیک یقین سے ثابت ہے کہ سوالاتِ قبر  ہوں گے۔ اس پر احادیث متواترہ موجود ہیں مگر بعض افراد سے سوالات قبر نہ ہونے کا ذکر بھی احادیث میں موجود ہے اور شہید بھی انہیں خوش نصیبوں میں سے ایک ہے جن سے سوالات قبر نہیں ہوں گے، یونہی شہید کے علاوہ دیگر بعض صالحین سے متعلق  بھی احادیث موجود ہیں کہ ان سے سوالات قبر نہیں ہوں گے، تو اصح قول و صحیح ترین بات یہ ہے کہ انبیاء کرام علیھم السلام  سے بھی سوالات ِ قبر نہیں ہوئے کہ جب شہید و بعض صالحین کے لئے سوالات قبر نہیں تو انبیاء کے لیے تو بدرجہ اولی سوالاتِ قبر نہیں ہوں گے کہ امتی نے جو نعمت پائی نبی کے فیض سے ہی پائی ہے اور انبیاء کرام کا مقام و مرتبہ صالحین و صدیقین سے کئی درجہ زیادہ ہے  کوئی غیر نبی، کسی بھی نبی کے درجہ کو پہنچ ہی نہیں سکتا۔

مزید جن جن سے سوالات قبر نہیں ان میں سے چند یہ ہیں: (1) راہِ خدا میں مسلمانوں کی سرحد پر پہرہ دیتے ہوئے جو انتقال کر جائے۔ (2) پیٹ کی بیماری میں جو فوت ہو۔ (3) طاعون کے سبب فوت ہونے والا۔ (4) اور طاعون کے زمانہ میں جو  غیر طاعون سے فوت ہوا جبکہ وہ صابر ہو اور ثواب کی نیت رکھتا ہو۔ (5) صدیق۔ (6) مسلمانوں کے بچے جو نابالغی میں فوت ہو گئے۔ (7) شب ِ جمعہ یا جمعہ میں جو فوت ہوا۔ (8) جو ہر رات سورۃ الملک پڑھنے والا ہو۔ بعض نے کہا سورۃ السجدہ بھی ساتھ پڑھنے والا ہو اور مرض ِ موت میں سورہ اخلاص پڑھنے والا ہو۔

شہداء کے فتنۂِ قبر سے محفوظ رہنے کے حوالے سے کثیر روایات ہیں جیسا کہ صحیح مسلم شریف میں ہے: "عَنْ سَلْمَانَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللہِ صَلَّى اللہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُوْلُ: رِبَاطُ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ خَيْرٌ مِنْ صِيَامِ شَهْرٍ وَقِيَامِهٖ، وَاِنْ مَاتَ جَرٰى عَلَيْهِ عَمَلُهُ الَّذِیْ كَانَ يَعْمَلُهٗ، وَاُجْرِیَ عَلَيْهِ رِزْقُهٗ وَاَمِنَ الْفَتَّانَ" یعنی حضرت سلمان رضی اللّٰہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ آپ رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ و سلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ایک دن اور ایک رات سرحد پر پہرا دینا، ایک ماہ کے روزوں اور قیام سے بہتر ہے اور اگر (پہرہ دینے والا) فوت ہو گیا تو اس کا وہ عمل جو وہ کر رہا تھا، (آئندہ بھی) جاری رہے گا، اس کیلئے اس کا رزق جاری کیا جائے گا اور وہ (قبر میں سوالات کر کے) امتحان لینے والوں سے محفوظ رہے گا۔ (الصحیح المسلم، کتاب الامارۃ، باب فضل الرباط فی سبیل اللہ، جلد 2، صفحہ 142، مکتبہ غوثیہ کراچی)

امام جلال الدین سیوطی رحمہ اللہ لکھتے ہیں: "الوجه السادس: اطبق العلماء على ان المراد بقوله يفتنون و بفتنة القبر: سؤال الملكين منكر ونكير، والاحاديث صريحة فيه؛ ولهٰذا سمی ملكا السؤالِ الفتّانَين" یعنی چھٹا پہلو: علمائے کرام کا اس پر اتفاق ہے کہ يفتنون و فتنة القبر سے مراد: دو فرشتوں منکر اور نکیر کا سوال کرنا ہے، اور اس (سوالاتِ قبر اور نکیرین) کے بارے میں احادیث واضح ہیں۔ اِسی لیے سوالاتِ قبر کرنے والے دونوں فرشتوں کو الفتّانَين یعنی آزمائش میں ڈالنے والے کہا جاتا ہے۔ (الحاوی للفتاوی، مبحث المعاد، جلد 2، صفحہ 174، مُلتقطاً، دارالکتب العلمیہ بیروت۔لبنان)

سنن نسائی میں ہے: عَنْ رَاشِدِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ رَجُلٍ، مِنْ اصْحَابِ النَّبِیِّ صلى اللہ عليه وسلم اَنَّ رَجُلًا قَالَ يَا رَسُوْلَ اللہِ مَابَالُ الْمُؤْمِنِيْنَ يُفْتَنُوْنَ فِیْ قُبُوْرِهِمْ اِلَّا الشَّهِيْدَ قَالَ: كَفىٰ بِبَارِقَةِ السُّيُوْف عَلى رَأْسِهٖ فِتْنَةً" یعنی ایک صحابی رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے عرض کیا: يَا رَسُوْلَ اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! کیا معاملہ ہے کہ سبھی اہل ایمان اپنی قبروں میں آزمائے جاتے ہیں، سوائے شہید کے؟ آپ صلی اللّٰه علیہ وسلم نے فرمایا: اس کے سر پر چمکتی تلوار کی آزمائش ہی کافی ہے۔ (سنن النسائی، کتاب الجنائز، باب الشھید، جلد 1، صفحہ 289، المیزان)

امام جلال الدین سیوطی رحمہ اللہ لکھتے ہیں: ”فتنة القبر وسؤال الملكين قد تواترت الأحاديث بذلك مؤكدة من رواية أنس والبراء وتميم الداري وبشير بن الكمال وثوبان وجابر بن عبد اللہ وعبد اللہ بن رواحة وعبادة بن الصامت وحذيفة وضمرة بن حبيب وإبن عباس وإبن عمر وإبن مسعود وعثمان بن عفان وعمر بن الخطاب وعمرو بن العاص ومعاذ بن جبل وأبي أمامة وأبي الدرداء وأبي رافع وأبي سعيد الخدري وأبي قتادة وأبي هريرة وأبي موسى وأسماء وعائشة رضي الله عنهم أجمعين“

ترجمہ: قبر کے امتحان اور دو فرشتوں کے سوالات کے متعلق روایات حد تواتر تک پہنچتی ہیں۔ جو کہ مروی ہیں حضرت انس، حضرت براء، حضرت تمیم داری، حضرت بشیر بن کمال، حضرت ثوبان، حضرت جابر بن عبد اللہ، حضرت عبد اللہ بن رواحہ، حضرت عبادہ بن صامت، حضرت حذیفہ، حضرت ضمرہ بن حبیب، حضرت عبد اللہ بن عباس، حضرت عبد اللہ بن عمر، حضرت عبد اللہ بن مسعود، حضرت عثمان بن عفان، حضرت فاروق اعظم، حضرت عمرو بن عاص، حضرت معاذ بن جبل، حضرت ابو امامہ، حضرت ابو درداء، حضرت ابو رافع، حضرت ابو سعید خدری، حضرت ابو قتادہ، حضرت ابو ہریرہ، حضرت ابو موسی، حضرت اسماء اور سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہم اجمعین سے۔ (شرح الصدور، صفحہ 121، دار المعرفة، لبنان)

الحاوی للفتاوی میں تحریر فرماتے ہیں: "مسألة‏: ‏ سؤال منكر ونكير فی القبر هل هو عام لجميع الخلق او يستثنى منه احد؟ الجواب‏: ‏ ليس عاما للخلق بل يستثنى منه الشهيد ففی الحديث انه صلى اللّٰه عليه وسلم سئل أ يفتن الشهيد فی قبره فقال كفى ببارقة السيوف على رأسه فتنة‏" یعنی سوال: قبر میں منکر نکیر کا سوال کرنا کیا یہ تمام مخلوقات کیلئے عام ہے یا کوئی اس سے خارج ہے؟ جواب: یہ ساری مخلوق کیلئے عام نہیں ہے، بلکہ شہید اس سے خارج ہے، حدیث پاک میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا: کیا شہید کو اس کی قبر میں آزمائش میں مبتلاء کیا جائے گا؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کے سر پر تلواروں کی چمک ہی آزمائش کیلئے کافی ہے۔ (الحاوی للفتاوی، مبحث المعاد، جلد 2، صفحہ 165، مُلتقطاً، دارالکتب العلمیہ بیروت۔لبنان)

محدث فقیہ ملا علی قاری رحمۃ اللہ علیہ (سنِ وفات 1014ھ) ”منح الروض الازہر شرح فقہ اکبر“ میں فرماتے ہیں: "واستثنی من عموم سوال القبر الانبیاء علیھم السلام والاطفال والشھداء۔۔۔۔۔ففی الکفایۃ: انہ لا سوال للانبیاء" ترجمہ: سوالِ قبر کے عموم سے انبیاء کرام، بچے اور شہداء مستثنی ہیں۔کفایہ میں ہے کہ انبیاء کے لیے سوال (قبر) نہیں ہے۔ (منح الروض الازھر، صفحہ 181، 182 مطبوعہ مکتبۃ المدینہ، کراچی)

المعتقد مع المعتمد میں ہے: "والاصح انّ الانبیاء لا یسألون۔ وقد ورد ان بعض صالحی الأمة كالشهيد والمرابط يوما وليلة فی سبيل اللہ يأمن فتنة القبر، فالانبیاء علیھم السلام اولی بذالک" یعنی صحیح ترین بات یہ ہے کہ انبیاء کرام علیھم السلام سے سوالاتِ قبر نہیں ہوں گے۔ اور تحقیق روایات میں آیا ہے کہ بعض صالحین بھی جیسے شہید، راہِ خدا میں مسلمانوں کی سرحد پر ایک دن رات پہرہ دینے والے فتنۂِ قبر سے محفوظ رہیں گے تو انبیا علیھم السلام اس سے بدرجہ اولی محفوظ ہیں۔ (المعتقد المنتقد مع المستند المعتمد، صفحہ 233، مطبوعہ النوریہ الرضویہ )

رد المحتار میں ہے: "من لا یسال ثمانیۃ: الشھید، المرابط، والمطعون، المیت زمن الطاعون بغیرہ اذاکان صابرا محتسبا، والصدیق، والاطفال، والمیت یوم الجمعۃ او لیلتھا، والقاری کل لیلۃ تبارک الملک، وبعضھم ضم الیھا السجدۃ، والقارئ فی مرض موتہ: ”قل ھو اللّٰہ احد“ واشار الشارح الی انہ یزاد الانبیاء علیھم السلام لانھم اولی من الصدیقین" ترجمہ: جن سے سوال ِ قبر نہیں ہوگا وہ آٹھ ہیں: (1)شہید، (2)راہ خدا میں سر حد پر پہرا دینے والا، (3) طاعون یا پیٹ کی بیماری میں جو فوت ہو، (4) اور طاعون کے زمانہ میں جو غیر طاعون سے فوت ہوا جبکہ وہ صابر ہو اور ثواب کی نیت رکھتا ہو، (5)صدیق، (6) بچے، (7)شب ِ جمعہ یا جمعہ میں جو فوت ہوا، (8) جو ہر رات سورۃ الملک پڑھنے والا ہو، بعض نے کہا سورۃ السجدہ بھی ساتھ پڑھنے والا ہو، اور مرض ِ موت میں سورہ اخلاص پڑھنے والا ہو، اور شارح نے اشارہ اس بات کی طرف کیا  کہ انبیاء کرام کا بھی اضافہ کیا جائے کیونکہ وہ صدیقین سے افضل ہیں۔ (رد المحتارعلی الدرالمختار، جلد 3، صفحہ 95، مطبوعہ کوئٹہ)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: ابو صدیق محمد ابو بکر عطاری
مصدق: مفتی ابوالحسن محمد ہاشم خان عطاری
فتویٰ نمبر: GRW-1155
تاریخ اجراء: 07 رجب المرجب 1445 ھ/19 جنوری 2024