logo logo
AI Search

اما م اعظم کا والدین مصطفیٰ ﷺ کے بارے میں عقیدہ

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

کیا اما م اعظم حضور ﷺکے والدین کو مؤمن نہیں سمجھتے تھے؟

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ کیا نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے والدین مؤمن تھے؟ زید کا کہنا ہے کہ امام اعظم ابو حنیفہ رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ کے نزدیک مؤمن نہیں تھے۔کیا زید کی یہ بات درست ہے؟

جواب

نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے ابوین کریمین  رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا کے ایمان کے متعلق اہلِ سنت کا مسلک یہ ہے کہ حضرت آدم علیہ عَلَیْہِ الصَّلاۃُ وَ السَّلام سے لے کر حضرت عبداللہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ تک اور حضرت حوا رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَا سے لے کر حضرت آمنہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَا تک آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کےسلسلۂ نسب میں جس قدر آباء  اور امہات  ہیں، وہ سب موحد(توحید پرست)و مؤمن تھے، جس کا ثبوت قرآن و سنت میں موجود ہے، یہی اہلسنت کا مؤقف اور اسی پر امامِ اعظم ابو حنیفہ رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ قائم تھے ۔

اور جو قول امامِ اعظم ابو حنیفہ رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ کی طرف منسوب کیا جاتا ہے، وہ درست نہیں ہے، جس کے علمائے کرام  رَحِمَھُمُ اللہُ السَّلاَمْ نے متعدد جوابات دیئے ہیں، جن میں سے چند ایک درج ذیل ہیں:

(1)یہ قول امامِ اعظم رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ کا نہیں ہے، کیونکہ جس کتاب میں یہ قول مذکور ہے، وہ امامِ اعظم ابو حنیفہ رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ سے منقول مستند نسخوں میں نہیں ہے، بلکہ وہ ابو حنیفہ محمد بن یوسف بخاری کا نسخہ ہے ،تو یہ خاص اس نسخے کی غلطی ہے، نہ کہ امام اعظم کا مذہب۔

(2)اور  اگر اس قول کی نسبت امامِ اعظم ابوحنیفہ رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ کی طرف درست مان بھی لی جائے، تو اس عبارت میں کاتب کی طرف سے تحریف کی یا ہو گئی ہے، اصل عبارت میں لفظ"ما" دو مرتبہ ہے، یعنی اصل عبارت یوں تھی :و والدا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ما ماتا علی الکفر “ یعنی رسول اللہ  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے والدین کریمین کفر پر فوت نہیں ہوئے، اور کاتب نے یہ سمجھ کر کہ یہاں لفظ"ما" دو مرتبہ ہے، اس نے ایک "ما" کو حذف کردیا   ۔

(3) اور  اگر اس قول کی نسبت امامِ اعظم ابوحنیفہ رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ کی طرف درست مان بھی لی جائے، تو علمائے کرام رَحِمَھُمُ اللہُ السَّلاَمْ اس کا ایک جواب یوں بھی دیتے ہیں کہ اس قول سے امامِ اعظم ابو حنیفہ رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ کی مراد  یہ تھی کہ رسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے والدین کریمین  نے  زمانہ کفر میں توحید پر وفات پائی، یہ مراد نہیں تھی کہ معاذ اللہ وہ کفر  کی حالت میں فوت ہوئے۔

جزئیات

حضور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے والدین کے ایمان کا ثبوت:

اللہ تعالیٰ قرآن پاک میں ارشاد فرماتا ہے: ﴿وَ تَقَلُّبَكَ فِی السّٰجِدِیْنَ﴾ ترجمہ کنز العرفان: ’’اور(اللہ پاک) نمازیوں میں تمہارے دورہ فرمانے کو (دیکھتا ہے)۔‘‘  (پارہ 19، سورۃ الشعراء، آیت  219)

مذکورہ آیتِ مبارکہ کے تحت تفسیر خازن، تفسیر مدارک، تفسیر صاوی اور تفسیر کبیر میں ہے:

واللفظ للآخر: ”معناہ : انہ ینقل روحہ من ساجد  الی ساجد  ۔۔۔ فالآیۃ دالۃ  علی ان جمیع  آباء محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  کانوا مسلمین“

ترجمہ: اس آیتِ مبارکہ کا معنی یہ ہے کہ رسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی روح مبارک سجدہ کرنے والوں سے سجدہ کرنے والوں کی طرف منتقل ہوتی رہی ۔۔۔لہٰذا یہ آیت مبارکہ اس بات پر دلالت  کرتی ہے کہ  نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے تمام آباء و اجداد مسلمان تھے۔ (التفسیر الکبیر ،جلد 13، صفحہ 32، مطبوعہ  دار احیاء التراث العربی، بیروت)

اسی آیت کے تحت شیخ القرآن مفتی محمد قاسم قادری دَامَتْ بَرَکَاتُھُمُ الْعَالِیَہْ لکھتے ہیں: ”اس آیت میں ساجدین سے مومنین مراد ہیں اور معنی یہ ہیں کہ حضرت آدم عَلَیْہِ الصَّلاۃُ وَ السَّلام اور حضرت حوا رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَا کے زمانے سے لے کر حضرت عبداللہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ اور حضرت آمنہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَا تک مومنین کی پشتوں اور رحموں میں آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے دورے کو ملاحظہ فرماتا ہے۔ اس سے ثابت ہوا کہ حضرت آدم عَلَیْہِ الصَّلاۃُ وَ السَّلام تک آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے تمام آباء و اجداد سب کے سب مومن ہیں۔“ (تفسیر صراط الجنان، جلد 07، صفحہ 169، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ،کراچی)

ایک اور مقام پر اللہ تعالیٰ قرآن پاک میں ارشاد فرماتا ہے: ﴿یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنَّمَا الْمُشْرِكُوْنَ نَجَسٌ﴾ ترجمہ کنزالایمان: ’’اے ایمان والو! مشرک نرے ناپاک ہیں۔‘‘ (القرآن الکریم ، پارہ 10، سورۃ التوبہ، آیت 28)

مذکورہ آیت مبارکہ کے متعلق امام قسطلانی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ  لکھتے ہیں:

”ومما یدل علی أن آباء محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ما کانوا مشرکین قولہ علیہ السلام: لم أزل أنقل من أصلاب الطاھرین إلی أرحام الطاھرات، وقال تعالی ﴿یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنَّمَا الْمُشْرِكُوْنَ نَجَسٌ﴾ فوجب أن لا یکون أحد من أجدادہ مشرکا “ ترجمہ: جن دلائل سے ثابت ہوتا ہے کہ رسول اللہ  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے والدین مشرک نہ تھے، ان میں سے ایک حضور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا یہ فرمان عالیشان  بھی ہے کہ  میں ہمیشہ پاک پشتوں سے پاک رَحموں میں منتقل ہوتا رہا اور اللہ پاک نے ارشاد فرمایا: اے ایمان والو! مشرک نِرے ناپاک ہیں، تو لازمی طور پر ثابت ہوا کہ آقا صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے آباء و اجداد میں سے کوئی بھی مشرک نہ تھا۔ (المواھب اللدنیۃ بالمنح المحمدیۃ، جلد01، صفحہ105 ، المکتبۃ التوفیقیہ، مصر)

مذکورہ عبارت کی شرح میں امام زرقانی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ  لکھتے ہیں: ”لم یتقدم لوالدیہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم شرک، وکانا مسلمین ، لأنہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم انتقل من الأصلاب الکریمۃ إلی الأرحام الطاھرۃ، لا یکون ذلک إلا مع الإیمان باللہ تعالی“ ترجمہ: رسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے والدین مشرک نہیں تھے، بلکہ وہ مسلمان تھے، کیونکہ حضور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پاک پشتوں سے پاک رَحموں کی طرف منتقل ہوئے اور یہ اللہ پاک پر ایمان کے بغیر نہیں ہو سکتا۔ (شرح الزرقانی علی المواھب اللدنیہ، جلد01، صفحہ 327، دارالکتب العلمیہ،بیروت)

جامع الصغیر للسیوطی، مصنف ابن ابی شیبہ، کنز العمال، السراج المنیر، جمع الجوامع، اشعۃ اللمعات، الوفا باحوال المصطفیٰ لابن جوزی، اور دلائل النبوۃ  للبیہقی  میں ہے: واللفظ للآخر: ”عن انس بن مالک رضی اللہ عنہ، قال: خطب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فقال: انا محمد بن عبداللہ بن عبدالمطلب بن ھاشم بن عبد مناف بن قصی بن کلاب بن مرۃ بن کعب بن لؤی بن غالب بن فھر بن مالک بن النضر بن کنانۃ بن خزیمۃ بن مدرکۃ بن الیاس بن مضربن نزار، وما افترق الناس فرقتین الاجعلنی اللہ فی خیر ھما فاخرجت من بین ابوین فلم یصبنی شیئ من عهر الجاھلیۃ و خرجت من نکاح و لم اخرج من سفاح من لدن اٰدم حتی انتھیت الی ابی وامی فانا خیرکم نفسا وخیرکم ابا“ ترجمہ: حضرت انس بن مالک رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے، وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے خطبہ دیا اور  ارشاد فرمایا: میں محمد بن عبداللہ بن عبد المطلب بن ہاشم بن عبد مناف بن قصی بن کلاب بن مرہ بن کعب بن لؤی بن غالب بن فہربن مالک بن نضربن کنانہ بن خزیمہ بن مدرکہ بن الیاس بن مضربن نزار۔ اور جب بھی لوگ دو گروہوں(خیر اور شَر) میں تقسیم ہوئے، تو اللہ نے مجھے بہتر (خیر والے)گروہ میں رکھا۔ میں اپنے والدین سے ایسے پیدا ہوا کہ جاہلیت کی بدکاری میں سے کوئی چیز مجھے نہ پہنچی اور میں حضرت آدم عَلَیْہِ الصَّلاۃُ وَ السَّلام سے لے کر اپنے والدین تک میں بدکاری  سے پاک، خالِص نکاح سے پیدا ہوا اور میں اپنی ذات اور اپنے باپ کے اعتبار سے تم سب سے بہتر ہوں۔ (دلائل النبوۃ للبیھقی، جلد  01، صفحہ 175، 174، دارالکتب العلمیہ، بیروت)

رسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے والدین کریمین نجات یافتہ (جنتی) ہونے کے متعلق  امام جلال الدین سیوطی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ  لکھتے ہیں: ”الحکم فی ابوی النبی صلی اللہ علیہ وسلم انھما ناجیان ولیسا فی النار صرح بذلک جمع من العلماء“ ترجمہ: رسول اللہ  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے والدین  کے متعلق حکم یہ ہے کہ وہ نجات یافتہ ہیں، جہنمی نہیں ہیں، اس کی تصریح علماء کرام کی ایک جماعت نے کی ہے۔ (الحاوی للفتاوی، جلد 02، صفحہ191، دارالکتب العلمیہ، بیروت)

علامہ علی قاری حنفی  رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ  شرح الشفاء میں لکھتے ہیں: ”وأما إسلام أبویہ ۔۔۔ والأصح إسلامھما علی ما اتفق علیہ الأجلۃ من الأئمۃ کما بینہ السیوطی فی رسائلہ الثلاث المؤلفۃ“ ترجمہ: اور بہر حال  رسول اللہ  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے والدین کا مسلمان ہونا، تو زیادہ صحیح قول یہی ہے کہ وہ مؤمن تھے، اسی پر اجلہ ائمہ کا اتفاق ہے، جیسا کہ علامہ سیوطی  رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے اپنے تین رسالوں میں بیان کیا ہے۔ (شرح الشفاء، جلد 01، الباب الرابع، صفحہ 605، دارالکتب العلمیہ، بیروت)

نبی پاک صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے والدین کے زندہ ہو کر حضور پر ایمان لانے کے متعلق خطیب بغدادی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ  کی السابق واللاحق، البدایہ والنہایہ، المواہب اللدنیہ، ذخائر العقبیٰ، المستدرک علی الصحیحین  اور کشف الخفاء میں ہے: واللفظ للآخر: ”عن عائشۃ رضی اللہ تعالی عنھا: أن الرسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سأل ربہ أن یحیی أبویہ فأحیاھما له ثم أمنا بہ“ ترجمہ:حضرت سیدہ عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَا سے روایت ہے کہ حضور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے اپنے رب عَزَّوَجَلَّ سے سوال کیا کہ وہ حضور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے والدین کو زندہ فرمائے، تو اللہ پاک نے انہیں زندہ فرمایا اور وہ حضور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پر ایمان لائے۔ (کشف الخفاء،جلد01،صفحہ 71،مطبوعہ المکتبۃ العصریہ ،المصر )

مذکورہ روایت کے متعلق  امام ابن حجر مکی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ    لکھتے ہیں: ”حدیث احیاء  امہ  حتیٰ امنت،  رواہ جماعۃ  و صححہ بعض الحفاظ“ ترجمہ: رسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی والدہ محترمہ کے زندہ ہو کر ایمان لانے والی روایت کو محدثین کرام کی ایک جماعت نے روایت فرمایا ہے  اور متعدد حفاظ الحدیث نے اس  حدیثِ پاک کو  صحیح قرار دیا ہے۔ (اشرف الوسائل  الی فھم الشمائل ،صفحہ 252، مطبوعہ  دار الكتب العلميه،بيروت)

اس روایت کے متعلق امامِ اہلسنت سیدی اعلی حضرت امام احمد رضا خان رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ  لکھتے ہیں: ”حدیث احیاء کی غایت ضعف ہے، کما حققہ خاتم الحفاظ الجلال السیوطی اور حدیث ضعیف دربارہ فضائل مقبول کما حققناہ بما لا مزید علیہ فی رسالتنا الھاد الکاف فی حکم الضعاف، بلکہ امام ابن حجر مکی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے ارشاد فرمایا :متعدد حفاظ نے اس کی تصحیح کی۔“ (فتاوی رضویہ، جلد 30، صفحہ 286، رضا فاؤنڈیشن، لاھور)

سوال میں ذکر کردہ  قول ِامام  کے جوابات:

(1) جس کتاب میں یہ عبارت مذکور ہے، وہ  نسخہ ابوحنیفہ، امام اعظم ابو حنیفہ رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ نہیں ہیں، بلکہ  وہ بخارہ میں رہنے والا ابو حنیفہ نامی شخص  کا نسخہ ہے، اس کے متعلق علامہ سید احمد طحطاوی حنفی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ  حاشیہ طحطاوی علی در مختار میں، امامِ اہلسنت اعلی حضرت امام احمد رضا خان رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ ”المعتقد المنتقد“ کے حاشیہ میں اور شیخ ابراہیم بیجوری رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ  شرح جوہرۃ التوحید میں اور  علامہ ابن حجر مکی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ  الفتاوٰی لابن حجر میں لکھتے ہیں:

والنظم للاول: ”وما فی الفقہ الأکبر من أن والدیہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ماتا علی الکفر فمدسوس علی الإمام ویدل علیہ أن النسخ المعتمدۃ منه لیس فیھا شیء من ذلک، قال ابن حجر المکی فی فتاواہ: والموجود فیھا ذلک لأبی حنیفۃ محمد بن یوسف البخاری لا لأبی حنیفۃ النعمان بن ثابت الکوفی“ ترجمہ: فقہِ اکبر کی جس عبارت میں یہ مذکور ہے کہ حضور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے والدین کا انتقال کفر کی حالت میں ہوا، یہ امامِ اعظم رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ پر تہمت ہے، اس کے تہمت ہونے پر یہ بات بھی دلالت کرتی ہے کہ فقہِ اکبر کے معتبر و معتمد نسخوں میں یہ عبارت موجود نہیں ہے، علامہ ابن حجر مکی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ اپنے فتاوی میں فرماتے ہیں: جس نسخے میں یہ عبارت موجود ہے، وہ کتاب ابو حنیفہ محمد بن یوسف بخاری کی ہے، نہ کہ امامِ اعظم ابو حنیفہ نعمان بن ثابت رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ کی ہے۔ (حاشیۃ الطحطاوی علی الدر المختار، جلد 4، صفحہ 278، دارالکتب العلمیہ ،بیروت)

(2) مذکورہ کتاب کی اصل عبارت میں تحریف کی گئی ہے، جیسا کہ حافظ محمد مرتضی زبیدی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ  کے حوالے سے العالم والمتعلم کے مقدمہ میں مذکور ہے: ”إن الناسخ لما رأی تکرر ”ما“ فی ”ما ماتا“ ظن أن إحداھما زائدۃ فحذفھا فذاعت نسختہ الخاطئۃ“ ترجمہ: جب کاتب نے ”ما ماتا“ میں لفظِ ما کو تکرار کے ساتھ دیکھا، تو اس نے سوچا شاید ان میں سے ایک حرف زیادہ ہے، لہٰذا اُس نے اسے ختم کر دیا اور غلط نسخہ شائع ہو گیا۔ (العالم والمتعلم، صفحہ نمبر 7، مطبوعہ  مطبعۃ الانوار،القاھرہ)

اہل تحقیق نے فقہ اکبر کے اصلی نسخے تلاش فرمائے ،جس کے بعد واضح ہوا کہ اصل نسخوں میں عبارت یوں ہے: ”ما ماتا علی الکفر“ یعنی  لفظ "ما " دو مرتبہ مذکور ہے، اس کے متعلق حافظ محمد مرتضی زبیدی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ کے حوالے سے العالم و المتعلم کے مقدمہ میں مذکور ہے: ”وانی بحمداللہ  رایت لفط (ما ماتا) فی نسختین  بدارالکتب  المصریہ قدیمین  کما راٰی بعض اصدقائی“ ترجمہ: اور میں نے الحمد للہ  دارالکتب  المصریہ  میں فقہ اکبر (کتاب)کے دو  قدیم  نسخوں میں "ما ماتا " کے الفاظ دیکھے، جیسا کہ میرے بعض دوستوں نے بھی اس بات کو ملاحظہ فرمایا۔ (العالم والمتعلم، صفحہ نمبر 7، مطبوعہ  مطبعۃ الانوار،القاھرہ)

(3) اگر یہ قول امام اعظم رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ کا مان بھی لیا جائے، تو اس سے آپ  رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ کی مراد رسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے والدین کا زمانہ کفر میں توحید پر وفات پانا ہے، جیسا کہ علامہ آلوسی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ   تفسیر روح المعانی میں، علامہ سید احمد طحطاوی حنفی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ حاشیۃ الطحطاوی علی در مختار میں اور امامِ اہلسنت اعلی حضرت امام احمد رضا خان رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ   المعتقد المنتقد کے حاشیہ میں لکھتے ہیں:والنظم للاول: ”أنھما ماتا موحدین فی زمن الکفر، وعلیہ یحمل کلام الإمام أبی حنیفۃ رضی اللہ تعالی عنہ إن صح“ترجمہ: رسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے والدین زمانہ کفر میں توحید پر اس دنیا سے گئے، اسی پر امامِ اعظم ابوحنیفہ رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ کا کلام محمول ہو گا، اگر صحت کے ساتھ ثابت ہو جائے۔ (تفسیر روح المعانی، جلد 01، صفحہ 369، دارالکتب العلمیہ، بیروت)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: عبد الرب شاکر عطاری المدنی
مصدق: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: FSD-9898
تاریخ اجراء:15 شوال المکرم1447 /04 اپریل 2026ء