انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کے آباؤ اجداد کا اہل ایمان ہونا
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کے آباؤ اجداد کے بارے میں عقیدہ
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
انبیاء کرام علیہم الصلاۃ والسلام کے آباؤ اجداد کے بارے میں ہمیں کیا عقیدہ رکھنا ہوگا؟ کیا انبیاء کرام علیہم الصلاۃ و السلام کے آباؤ اجداد بھی غیر مسلم ہو سکتے ہیں ؟
جواب
تمام انبیاء کرام علیہم الصلاۃ والسلام کے آباؤ اجداد کے بارے میں ہمارا عقیدہ یہی ہے، کہ وہ سب موحد (توحید پرست) و اہل ایمان تھے، ان میں سے کوئی بھی غیر مسلم نہیں تھا، اور یہی عقیدہ رکھا جائے گا۔
المواہب اللدنیہ میں ہے: ”أن آباء الأنبياء ما كانوا كفارا“ ترجمہ: بے شک انبیاے کرام علیہم الصلوۃ والسلام کے آبا کافر نہیں تھے۔ (المواهب اللدنية بالمنح المحمدية، ج 1، ص 104، مطبوعہ مصر)
الاجوبۃ المرضیہ فیما سئل السخاوی میں ہے: ”وقد قال الفخر الرازي في «أسرار التنزيل» له: إن آباء النبي صلی اللہ علیہ وسلم وسائر الأنبياء ما كانوا كفارا لقوله تعالى: (وتقلبك في الساجدين) فمعناه أنه تنقل روحه من ساجد إلى ساجد واستدل له بقوله صلی اللہ علیہ وسلم: (لم أزل أنقل من أصلاب الطاهرين إلى أحارم الطاهرات)“ ترجمہ: امام فخر الدین رازی علیہ الرحمۃنے اپنی کتاب اسرار التنزیل میں فرمایا ہے: بے شک نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کے آباؤ اجداد اور تمام انبیاے کرام علیہم الصلوۃ والسلام کے آبا کافر نہیں تھے، اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے: ﴿وَ تَقَلُّبَكَ فِی السّٰجِدِیْنَ ﴾ (اور نمازیوں میں تمہارے دورے کو) اس آیت کا معنی یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی روح ایک سجدہ کرنے والے سے دوسرے سجدہ کرنے والے کی طرف منتقل ہوتی رہی، اور اس پر نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کے اس فرمان سے استدلال کیا گیا ہے: میں ہمیشہ پاک مردوں کی پشتوں سے پاک عورتوں کے رحموں کی طرف منتقل ہوتا رہا۔ (الأجوبة المرضية فيما سئل السخاوي عنه من الأحاديث النبوية، ج 3، ص 974، دار الراية)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مولانا محمد علی عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-5025
تاریخ اجراء: 03 ذو الحجۃ الحرام 1447ھ / 20 مئی 2026ء