اسلام کی توہین کرنے کا حکم
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اسلام کی توہین کرنے والے کا حکم
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ میاں، بیوی میں سے اگر کوئی غصہ میں یہ بول دے ”بھاڑ میں جائے اسلام“ تو کیا یہ کلمہ کفر ہے, اور کیا تجدید ایمان و نکاح کرنا ہو گا ؟
جواب
یہ جملہ ”بھاڑ میں جائے اسلام“، کہنے والا کافر ہو جاتا ہے، کیونکہ اس میں اسلام کی توہین و تحقیر ہے۔ جس نے یہ جملہ کہا، اس پر اپنے اس قول سے توبہ کرنا اور تجدید ایمان کرنالازم ہے، پھر اس کے بعد اگر بیوی کو نکاح میں لانا چاہے، تو اس کی مرضی سے تجدید نکاح کرنا لازم ہے۔
المبسوط للسرخسی میں ہے ”الاستخفاف بالدين كفر“ ترجمہ: دین کو ہلکا جاننا (اس کی تحقیر کرنا) کفر ہے۔ (المبسوط للسرخسی، ج 6، ص 178، دار المعرفۃ، بیروت)
امام اہلسنت، امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالی علیہ سے سوال ہوا کہ: ہندہ نے غصے میں آکر کہا ''چُولہے میں جائے ایسی شریعت ''یا'' مَری پڑے ایسی شریعت پر''، کیا فقرہ مذکورہ بالا سے ہندہ مرتد ہوگئی اور اسلام سے خارج ہوئی، ملخصا؟
اس پر آپ علیہ الرحمۃ نے جواباً ارشاد فرمایا: "ہندہ نے پہلا فقرہ کہا ہو خواہ دوسرا، ہر طرح اس کا ایمان جاتا رہا کہ اس نے شرع مطہر کی توہین کی۔" (فتاوی رضویہ، ج 12، ص 262، 263، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
"کفریہ کلمات کے بارے میں سوال جواب" شریعت کی توہین کی مثالیں بیان کرتے ہوئے فرمایا: "کسی کے سامنے شریعت کی بات کی، اس نے کہا: ”شریعت گئی بھاڑ میں! کیا ہر وقت شریعت شریعت کرتے رہتے ہو“، ایسا کہنے والا کافر ہے۔" (کفریہ کلمات کے بارے میں سوال جواب، صفحہ 338، مکتبۃ المدینۃ، کراچی)
تجدیدایمان ونکاح کے متعلق جزئیات:
امام اہل سنت، امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ لکھتے ہیں: ”جس سے صدور کفر ہو، وہ توبہ کرے، از سر نو اسلام لائے، اس کے بعد اگر عورت راضی ہو، اس سے نکاح جدید بمہر جدید کرے۔“ (فتاوی رضویہ، جلد 15، صفحہ 163، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
"کفریہ کلمات کے بارے میں سوال جواب" میں ہے "صریح کُفر بکنے والا کافِر و مُرتد ہو جاتا ہے اور شادی شدہ تھا تو نِکاح ٹوٹ جاتا، کسی کا مُرید تھا تو بَیعت ختم ہو جاتی اور زندَگی بھر کے نیک اعمال برباد ہو جاتے ہیں، اگر حج کر لیا تھا تو وہ بھی گیا، اب بعدِ تجدِید ایمان صاحِبِ استِطاعت ہونے پر نئے سِرے سے حج فرض ہو گا، ملتقطا۔" (کفریہ کلمات کے بارے میں سوال جواب 7، ص1، 72، مکتبۃ المدینہ)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا محمد فراز عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4965
تاریخ اجراء: 11 ذو القعدۃ الحرام1447ھ/29 اپریل 2026ء