logo logo
AI Search

کیا شیطان خواب میں نبی کی صورت میں آ سکتا ہے؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

کیا شیطان خواب میں انبیائے کرام علیہم الصلوۃ و السلام کی صورت میں آ سکتا ہے؟

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

شیطان کیا حضور صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کی یا دوسرے نبی یا رسول کی شکل میں خواب میں آ سکتا ہے یا نہیں؟

جواب

خواب میں یا بیداری میں، کسی حالت میں، شیطان کسی بھی نبی اورکسی بھی فرشتےعلیہم الصلوۃ والسلام کی صورت اختیار نہیں کرسکتا۔ صحیح البخاری میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ

”من رآني في المنام فسيراني في اليقظة، ولا يتمثل الشيطان بي“

ترجمہ: جس نے مجھے خواب میں دیکھا، وہ عنقریب مجھے بیداری میں دیکھے گا، اور شیطان میری صورت اختیار نہیں کر سکتا۔“ (صحیح البخاری، صفحہ 1271، حدیث: 6993، دار الکتب العلمیۃ، بیروت)

مذکورہ حدیث پاک کے تحت عمدۃ القاری میں ہے

”ويقال خص الله تعالى النبي صلى الله عليه وسلم بأن رؤية الناس إياه صحيحة وكلها صدق ومنع الشيطان أن يتصور في خلقته لئلا يكذب على لسانه في النوم، كما خرق الله تعالى العادة للأنبياء عليهم الصلاة والسلام بالمعجزة، وكما استحال أن يتصور الشيطان في صورته في اليقظة. وقال محي السنة رؤيا النبي صلى الله عليه وسلم في المنام حق ولا يتمثل الشيطان به وكذلك جميع الأنبياء والملائكة عليهم الصلاة والسلام ولا يتمثل بهم

ترجمہ: کہا جاتا ہے کہ اللہ تعالی نے ہمارے نبی مکرم صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ وسلم کو یہ خصوصیت عطا فرمائی ہے کہ آپ صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ وسلم کی خواب میں زیارت بالکل صحیح اور سچی ہے، اور شیطان کو اس بات سے روک دیا ہے کہ وہ آپ صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ وسلم کا مبارک سراپا اختیار کر سکے، تا کہ وہ خبیث کسی کے خواب میں آپ صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ وسلم کی زبان حق ترجمان پر جھوٹ نہ باندھ سکے۔ یہ معاملہ اسی طرح ہے جیسے اللہ تعالی نے معجزے کے ذریعے انبیائے کرام علیہم الصلاۃ و السلام سے خارق عادت امور ظاہر فرمائے، اور جیسے اللہ تعالی نے یہ محال فرمایا کہ شیطان حالت بیداری میں آپ صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ وسلم کی صورت اختیار کر سکے۔ محی السنۃ، امام نووی رحمہ اللہ تعالی نے فرمایا: نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ وسلم کا خواب میں دیدار حق ہے، اور شیطان، آپ صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ وسلم کی مبارک شکل میں ظاہر نہیں ہو سکتا، یونہی تمام انبیا ئے کرام و ملائکہ عظام علیہم الصلاۃ و السلام کامعاملہ ہے، کہ وہ ان کی بھی صورت اختیار نہیں کر سکتا۔ (عمدة القاري شرح صحيح البخاري، جلد 2، صفحہ 155، 156، مطبوعہ: بيروت)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا اعظم عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4780
تاریخ اجراء: 08 رمضان المبارک1447ھ/26 فروری 2026ء