logo logo
AI Search

کرامت کیا ہے اور اسکا انکار کرنا کیسا؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

کرامت کا مفہوم اور کسی خاص کرامت کا انکار کرنے والے کا حکم

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ کرامت کا صحیح مفہوم کیا ہے؟ نیز جو شخص کسی مخصوص کرامت کا انکار کرے، اس کے بارے میں کیا حکم شرعی ہوگا؟

جواب

کرامت اس خلاف عادت کام کو کہتے ہیں، جو اللہ تعالیٰ کے کسی ولی کی طرف سے ظاہر ہوتا ہے۔ خلاف عادت سے مراد عادۃً محال یعنی ایسا کام جو عام طور پر انسان سے وقوع پذیر نہیں ہوتا، مثلاً بہت لمبی مسافت چند لمحات میں طے کر لینا، غیب سے کھانے پینے یا لباس کا ظاہر ہو جانا، بے زبان جانوروں کا کلام کرنا وغیرہ۔ کرامت کا ثبوت قرآن کریم کی متعدد آیات اور احادیث طیبہ کے کثیر دلائل سے ہے، اس کا مطلقاً انکار کرنے والا بدمذہب، گمراہ اور اہل سنت سے خارج ہے۔

تاہم کوئی شخص کرامات کا تو قائل ہو، لیکن کسی مخصوص کرامت کا بلا وجہ انکار کرے، تو اگر وہ کسی ایسے ولی سے ثابت شدہ کرامت ہے جن کی ولایت و کرامات مسلمانوں میں مسلّم و مشہور ہیں، تو یہ محرومی کے ساتھ ساتھ سوئے عقیدت اور ہٹ دھرمی کی علامت ہے جو کہ ایمان کے لیے سخت خطرناک بات ہے۔ ہاں! اگر کوئی کسی غیر مشہور ولی کی کسی مخصوص کرامت کا عدم واقفیت کی بنا پر انکار کرتا ہے، تو ایسا حکم نہیں اور اگر اس کے علاوہ کوئی دوسری صورت ہے، تو وہ متعین طور پر بتانے کے بعد ہی جواب دیا جاسکتا ہے۔

اللہ کریم ارشاد فرماتا ہے: ﴿كُلَّمَا دَخَلَ عَلَیْهَا زَكَرِیَّا الْمِحْرَابَۙ - وَجَدَ عِنْدَهَا رِزْقًاۚ - قَالَ یٰمَرْیَمُ اَنّٰى لَكِ هٰذَاؕ - قَالَتْ هُوَ مِنْ عِنْدِ اللّٰهِؕ-﴾ ترجمہ کنز العرفان: جب کبھی زکریا اس کے پاس اس کی نماز پڑھنے کی جگہ جاتے تو اس کے پاس پھل پاتے۔ (زکریا نے) سوال کیا، اے مریم! یہ تمہارے پاس کہاں سے آتا ہے؟ انہوں نے جواب دیا: یہ اللہ کی طرف سے ہے۔ (پارہ 3، سورۃ آل عمران 3، آیت 37)

علامہ سلیمان بن عمر جمل شافعی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1204ھ / 1790ء) تفسیر جمل میں اس آیت مبارکہ کے تحت لکھتے ہیں: ”و هذا يدل على جواز الكرامة لأولياء اللہ تعالى“ ترجمہ: یہ واقعہ اللہ تعالیٰ کے ولیوں کے لیے کرامت کے جواز پر دلالت کرتا ہے۔ (الفتوحات الإلهية بتوضيح تفسير الجلالين، جلد 1، صفحہ 405، دار الكتب العلمية، بيروت)

اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: ﴿قَالَ یٰۤاَیُّهَا الْمَلَؤُا اَیُّكُمْ یَاْتِیْنِیْ بِعَرْشِهَا قَبْلَ اَنْ یَّاْتُوْنِیْ مُسْلِمِیْنَ (۳۸) قَالَ عِفْرِیْتٌ مِّنَ الْجِنِّ اَنَا اٰتِیْكَ بِهٖ قَبْلَ اَنْ تَقُوْمَ مِنْ مَّقَامِكَۚ - وَ اِنِّیْ عَلَیْهِ لَقَوِیٌّ اَمِیْنٌ (۳۹) قَالَ الَّذِیْ عِنْدَهٗ عِلْمٌ مِّنَ الْكِتٰبِ اَنَا اٰتِیْكَ بِهٖ قَبْلَ اَنْ یَّرْتَدَّ اِلَیْكَ طَرْفُكَؕ - فَلَمَّا رَاٰهُ مُسْتَقِرًّا عِنْدَهٗ قَالَ هٰذَا مِنْ فَضْلِ رَبِّیْ ﱎ لِیَبْلُوَنِیْۤ ءَاَشْكُرُ اَمْ اَكْفُرُؕ-﴾ ترجمہ کنز العرفان: سلیمان نے فرمایا: اے درباریو! تم میں کون ہے جو ان کے میرے پاس فرمانبردار ہو کر آنے سے پہلے اس کا تخت میرے پاس لے آئے۔ ایک بڑا خبیث جن بولا کہ میں وہ تخت آپ کی خدمت میں آپ کے اس مقام سے کھڑے ہونے سے پہلے حاضر کر دوں گا اور میں بے شک اس پر قوت رکھنے والا، امانتدار ہوں۔ اس نے عرض کی جس کے پاس کتاب کا علم تھا کہ میں اسے آپ کی بارگاہ میں آپ کے پلک جھپکنے سے پہلے لے آؤں گا (چنانچہ) پھر جب سلیمان نے اس تخت کو اپنے پاس رکھا ہوا دیکھا تو فرمایا: یہ میرے رب کے فضل سے ہے تاکہ وہ مجھے آزمائے کہ میں شکر کرتا ہوں یا ناشکری؟۔ (پارہ 19، سورۃ النمل 27، آیت 38 - 40)

تفسیر صراط الجنان میں ہے: راجح اور جمہور مفسرین کا یہی قول لکھا ہے کہ جس کے پاس کتاب کا علم تھا اس سے مراد حضرت سلیمان علیہ الصلوۃ و السلام کے وزیر حضرت آصف بن برخیا رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہیں۔ ... اس آیت سے اولیاءِ کرام رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہم سے کرامات کا ظاہر ہونا بھی ثابت ہوتا ہے۔ حضرت علامہ یافعی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں: اولیاءِ کرام رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہم سے کرامات کا ظاہر ہونا عقلی طور پر ممکن اور نقلی دلائل سے ثابت ہے۔ عقلی طور پر ممکن اس لیے ہے کہ ولی سے کرامت ظاہر کر دینا اللہ تعالی کی قدرت سے محال نہیں بلکہ یہ چیز ممکنات میں سے ہے، جیسے انبیاءِ کرام علیہم الصلوۃ و السلام سے معجزات ظاہر کردینا۔ یہ اہلسنت کے کامل اولیاءِ کرام، اصولِ فقہ کے بڑے بڑے علماء، فقہاء اور محدثین کا مذہب ہے۔ مشرق و مغرب اور عرب و عجم میں ان کی کتابوں میں اس بات کی صراحت موجود ہے۔ (تفسیر صراط الجنان، جلد 7، صفحہ 203 - 204، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

علامہ سعد الدین مسعود بن عمر تفتازانی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 793ھ / 1390ء) لکھتے ہیں: ”و كرامات الأولياء حق و الولي هو العارف بالله تعالى و صفاته حسب ما يمكن المواظب على الطاعات المجتنب عن المعاصي المعرض عن الانهماك في اللذات و الشهوات و كرامته ظهور أمر خارق للعادة من قبله غير مقارن لدعوى النبوة“ ترجمہ: اولیاءِ کرام کی کرامات حق ہیں، اور ولی وہ ہے جو اللہ تعالیٰ اور اس کی صفات کی حسبِ استطاعت معرفت رکھنے والا ہو، عبادات پر پابندی کرنے والا ہو، گناہوں سے بچنے والا ہو اور لذتوں اور شہوتوں میں ڈوب جانے سے کنارہ کش ہو، اور ولی کی کرامت یہ ہے کہ اس کی طرف سے کوئی ایسا امر ظاہر ہو جو عادت کے خلاف ہو اور دعوائے نبوت کے ساتھ ملا ہوا نہ ہو۔ (شرح العقائد النسفية، صفحہ 316 - 317، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1391ھ / 1971ء) لکھتے ہیں: کرامات جمع ہے کرامت کی، بمعنی تعظیم و احترام۔ اصطلاح شریعت میں کرامت وہ عجیب و غریب چیز ہے، جو ولی کے ہاتھ پر ظاہر ہو۔ حق یہ ہے کہ جو چیز نبی کا معجزہ بن سکتی ہے، وہ ولی کی کرامت بھی بن سکتی ہے، سوا اس معجزہ کے جو دلیل نبوت ہو، جیسے وحی اور آیات قرآنیہ۔ معتزلہ کرامات کا انکار کرتے ہیں، اہل سنت کے نزدیک کرامت حق ہے۔ آصف بن برخیا کا پلک جھپکنے سے پہلے تخت بلقیس کو یمن سے شام میں لے آنا، حضرت مریم کا بغیر خاوند حاملہ ہونا اور غیبی رزق کھانا، اصحاب کہف کا بے کھانا پانی صد ہا سال تک زندہ رہنا کرامات اولیاء ہیں، جو قرآن مجید سے ثابت ہیں۔ حضور غوث پاک کی کرامات شمار سے زیادہ ہیں۔ (مرآۃ المناجیح، جلد 8، صفحہ 229، قادری پبلشرز، لاہور)

علامہ محدث محمد عابد بن احمد سندی مدنی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1257ھ / 1841ء) لکھتے ہیں: ”فالحاصل: أن الأدلة من الكتاب و السنة كثيرة قوية متظاهرة على أن كرامات الأولياء حق ثابت لا يجوز إنكاره فمن أنكر في ذلك كان مخالفا للكتاب و السنة الذين هما مرجع الأحكام و كان متبعا لهواه... قال اليافعي: و الناس في إنكار الكرامات على أقسام: فمنهم من ينكرها مطلقا و هم أهل مذاهب مشهورة، و منهم: من يصدق بكرامة من مضى ويكذب بكرامات أهل زمانه فهؤلاء كبني اسرائيل فإنهم صدقوا بموسى حيث لم يروه وكذبوا بمحمد صلى اللہ علیہ وعلى آله وسلم حين رأوه حسدا وعدوانا، و منهم من يصدق بأن لله تعالى أولياء في عصره ولكن لا يصدق بأحد معين فهذا محروم من جميع أهل الإمداد في عصره، و بعضهم إذا رأى أحدا من أولياء زمانه متربعا في الهواء قال: هذا استخدام للجن لا ولاية. و أطال اليافعي في ذلك ثم قال: و بالجملة فلا ينبغي لأحد التوقف في الإيمان بكرامات الأولياء لأنها جائزة عقلا و واقعة نقلا

 ترجمہ: خلاصہ یہ ہے کہ کتاب و سنت سے بہت سے مضبوط دلائل باہم مؤید اس بات کو ظاہر کرنے والے ہیں کہ اولیاء کی کرامات حق اور ثابت ہیں، ان کا انکار کرنا جائز نہیں۔ پس جو اس معاملے میں انکاری ہو وہ کتاب و سنت کا مخالف ہے جو کہ احکام کا (اصل) مرجع ہیں، اور وہ اپنی خواہش کا پیرو کار ہے۔ علامہ یافعی نے فرمایا: کرامات کے انکار کے بارے میں لوگوں کی کئی اقسام ہیں: ان میں سے کچھ وہ ہیں جو مطلقاً کرامات کا انکار کرتے ہیں اور یہ مشہور مذاہب والے ہیں (یعنی معتزلہ جن کا حکم واضح ہے)۔ اور بعض وہ ہیں جو گزشتہ اولیاء کی کرامات کو مانتے ہیں اور اپنے زمانے والوں کی کرامات کا انکار کرتے ہیں؛ پس یہ لوگ بنی اسرائیل کی طرح ہیں کہ انہوں نے حضرت موسیٰ علیہ الصلوۃ والسلام کی تصدیق کی جبکہ انہیں دیکھا نہیں تھا اور حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو حسد اور سرکشی کی وجہ سے جھٹلایا جبکہ (اپنی آنکھوں سے) آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی زیارت کی۔ اور منکرین کرامات میں سے کچھ ایسے ہیں جو مانتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے اولیاء ان کے زمانے میں (بھی) ہیں، مگر کسی متعین شخص کی (بطور ولی) تصدیق نہیں کرتے؛ یہ اپنے زمانے کے تمام اہلِ امداد سے محروم رہتے ہیں، اور ان کے بعض لوگ جب اپنے زمانے کے کسی ولی کو ہوا میں بیٹھا دیکھتے ہیں تو کہتے ہیں: یہ تو جنات سے کام لینا ہے، ولایت نہیں۔ علامہ یافعی نے اس بارے میں طویل گفتگو کی، پھر فرمایا: بالجملہ کسی کو بھی اولیاء کی کرامات پر ایمان لانے میں توقف نہیں ہونا چاہیے؛ کیونکہ وہ عقلاً ممکن اور نقلاً ثابت ہیں۔ (الرسائل الخمس، رسالة کرامات الاولیاء و التصديق بها، صفحہ 273 - 276، دار الصالح، القاهرۃ)

امام اہل سنت اعلی حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1340ھ / 1921ء) لکھتے ہیں: کرامات اولیاء کا منکر گمراہ ہے، اہل سنت کا عقیدہ ہے کہ کرامات اولیاء حق ہیں۔ (فتاوی رضویہ، جلد 14، صفحہ 683، رضا فاؤنڈیشن، لاہور) آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ایک اور جگہ لکھتے ہیں: کرامات اولیاء کا انکار گمراہی ہے۔ (فتاوی رضویہ، جلد 14، صفحہ 324، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1367ھ / 1948ء) لکھتے ہیں: کرامت اولیاء حق ہے، اس کا منکر گمراہ ہے۔ (بہار شریعت، جلد 1، حصہ 1، صفحہ268، مکتبة المدینہ، کراچی)

شارح بخاری مفتی شریف الحق امجدی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1421ھ / 2000ء) لکھتے ہیں: اولیائے کرام کی توہین اور ان کی کرامات کا انکار گمراہی ہے۔ ... اولیائے کرام سے عداوت اللہ عزوجل کی طرف سے لڑائی کا چیلنج ہے، حدیث قدسی میں ہے: من عادی لي وليا فقد اذنته بالحرب (بخاری) جس نے میرے کسی ولی سے عداوت کی اس کو میری طرف سے لڑائی کا چیلنج ہے۔ (فتاوی شارح بخاری، جلد 2، صفحہ 202 - 203، مکتبہ برکات المدینہ، کراچی)

آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں: کسی مسلم الثبوت بزرگ سے بد عقیدگی ضرور دین کی بربادی اور سوءِ خاتمہ کی موجب ہے، لیکن اگر کسی غیر مسلم الثبوت بزرگ کے احوال سے عدم واقفیت کی بنا پر اس کا انکار کرتا ہے تو اسے کچھ نہیں کہہ سکتے۔ (فتاوی شارح بخاری، جلد 2، صفحہ 204، مکتبہ برکات المدینہ، کراچی)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: FAM-1174
تاریخ اجراء: 09 ذو القعدۃ الحرام 1447ھ / 27 اپریل 2026ء