حضرت علی کو انبیا سے افضل ماننا کیسا؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کو پچھلے انبیاے کرام علیہم الصلوۃ والسلام سے افضل سمجھنے والے کا حکم
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
اگر کوئی شخص یہ عقیدہ رکھے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ، نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کے علاوہ تمام انبیاے کرام علیہم الصلوۃ و السلام سے افضل ہیں، تو کیا اس عقیدے کا حامل شخص کافر ہو جائے گا یا نہیں؟
جواب
جو شخص حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو کسی بھی نبی سے افضل جانے وہ کافر ہے کیونکہ غیر نبی کو نبی سے افضل جاننا بالاجماع کفر ہے۔ المعتقد المنتقد میں ہے "فمانقل عن بعض الكرامية من جواز كون الولي افضل من النبي كفر و ضلال . . . . حتي قال اكابرهم: ان نبيا واحدا افضل عند اللہ من جميع الاولياء و من فضل وليا علي نبي يخشي عليه الكفربل هو كافر" يعنی بعض کرامیہ سے جو منقول ہے کہ ولی کا نبی سے افضل ہونا جائز ہے، یہ کفر اور گمراہی ہے۔ یہاں تک کہ اہلسنت کے اکابرعلما نے فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک ایک نبی تمام اولیاء سے افضل ہے، اور جو کسی ولی کو کسی نبی پر فضیلت دے، اس کے بارے میں کفر کا اندیشہ ہے، بلکہ وہ کافر ہی ہے۔ (المعتقد المنتقد، صفحہ 174، نوریہ رضویہ، لاہور)
فتح الباری میں علامہ ابن حجر عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں: فالنبي أفضل من الولي، و هو أمر مقطوع به عقلا و نقلا، و الصائر إلى خلافه كافر؛ لأنه أمر معلوم من الشرع بالضرورة" ترجمہ: پس نبی، ولی سے افضل ہوتے ہیں، یہ عقلاً نقلاً قطعی معاملہ ہے، اور اس کے خلاف جانے والا کافر ہے؛ کیونکہ اس کا ضروریات شرعیہ سے ہونا امر معلوم ہے۔ (فتح الباری، جلد 1، صفحہ 221، مطبوعہ: مصر)
صدر الشریعہ، بدر الطریقہ مفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ رحمۃ اللہ القوی ارشاد فرماتے ہیں: انبیائے کرام، تمام مخلوق یہاں تک کہ رُسُل ملائکہ سے افضل ہیں۔ ولی کتنا ہی بڑے مرتبہ والا ہو، کسی نبی کے برابر نہیں ہوسکتا۔ جو کسی غیرِ نبی کو کسی نبی سے افضل یا برابر بتائے کافر ہے۔ (بہار شریعت، جلد 1، حصہ 1، صفحہ 47، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
ایک اور مقام پر بد مذہبوں کے عقائد بیان کرتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں: اس فرقہ کا۔ ۔ ۔ ایک عقیدہ یہ ہے کہ ائمہ اَطہار رضی اﷲ تعالیٰ عنھم، انبیا علیہم الصلوۃ و السلام سے افضل ہیں۔ اور یہ بالاجماع کفر ہے، کہ غیرِ نبی کو نبی سے افضل کہنا ہے۔ (بہار شریعت، جلد 1، حصہ 1، صفحہ 210،مکتبۃ المدینہ، کراچی)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا اعظم عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-5142
تاریخ اجراء: 16 محرم الحرام 1448ھ / 02 جولائی 2026ء