حضرت نوح علیہ السلام اپنے بیٹے کو کیوں نہ بچا سکے؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
حضرت نوح علیہ الصلوۃ و السلام اپنے بیٹے کو کشتی میں سوار کیوں نہ کر سکے؟
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
بعض لوگ کہتے کہ اولیا و انبیا علیہم الصلوۃ والسلام کے پاس طاقت نہیں، ورنہ حضرت نوح علیہ السلام اپنے بیٹے کو کشتی میں سوار کر لیتے۔ اس بارے میں ارشاد فرمائیں۔
جواب
سوال میں بیان کیا گیا اعتراض جب درست ہوتا کہ ہم اہل سنت کا یہ نظریہ ہو کہ معاذ اللہ تعالی انبیا و اولیا کی طاقت اللہ تعالی کے مقابلے میں کوئی الگ چیز ہے۔ یہ محض تہمت و افترا ہے۔ ہم اہلِ سنت و جماعت کا عقیدہ یہ ہے کہ انبیائے کرام علیہم السلام اور اولیائے عظام رحمۃ اللہ علیہم کو جو بھی قدرت و اختیار حاصل ہوتا ہے وہ محض اللہ تعالیٰ کا عطا کردہ ہے، اور اسی پروردگار عزوجل کے اِذن ومشیت کے تابع ہوتا ہے۔ ان کا کوئی اپنا مستقل اور ذاتی ہرگز نہیں ہوتا۔ لہٰذا کسی نبی یا ولی سے کسی خاص کام کا صادر نہ ہونا اس بات کی دلیل نہیں بن سکتا کہ ان کے پاس قدرت یا اختیار ہی نہیں تھا۔ کیونکہ یہ ممکن ہے کہ کسی واقعۂ خاص میں اللہ تعالیٰ کی مشیت و حکمت کے تحت وہ بھی مدد نہ کریں۔ تو اس سے ان حضرات کی شانِ تصرف میں کچھ کمی لازم نہیں آتی۔
لہذا حضرت نوح علیہ الصلوۃ والسلام کے واقعے سے یہ استدلال ہرگز درست نہیں کہ اگر واقعی نبی مدد کر سکتے، تو اپنے بیٹے کو بھی کشتی پر سوار کر لیتے۔ کیونکہ یہاں مشیت الہی ہی یہ تھی کہ اس بیٹے کے کفر کی وجہ سے اس کا اس فیضانِ نسبت سے محروم ہونا ظاہر ہو۔ ایسا اعتراض درحقیقت ناواقفیت و نادانی کی دلیل ہے۔ کیونکہ اس میں خود رب العزت عزوجل نے اپنے پیارے نبی علیہ الصلوۃ والسلام کو ان کے اس بیٹے کے کفر و شرک کی وجہ سے اس کے لیے دعا سے منع فرما دیا، اور یہ حکم ارشاد فرمایا: ﴿قَالَ یٰنُوْحُ اِنَّهٗ لَیْسَ مِنْ اَهْلِكَۚ-اِنَّهٗ عَمَلٌ غَیْرُ صَالِحٍ ﲦ فَلَا تَسْــٴَـلْنِ مَا لَیْسَ لَكَ بِهٖ عِلْمٌؕ-اِنِّیْۤ اَعِظُكَ اَنْ تَكُوْنَ مِنَ الْجٰهِلِیْنَ﴾ ترجمہ کنز الایمان: فرمایا اے نوح وہ تیرے گھر والوں میں نہیں۔بےشک اس کے کام بڑے نالائق ہیں تو مجھ سے وہ بات نہ مانگ جس کا تجھے علم نہیں میں تجھے نصیحت فرماتا ہوں کہ نادان نہ بن۔ (پارہ 12، سورۃ الھود 11، آیت 46)
تفسیر صراط الجنان میں اس آیت کے تحت ہے ”{ اِنَّهٗ لَیْسَ مِنْ اَهْلِكَ: بیشک وہ تیرے گھر والوں میں ہرگز نہیں تھا۔} اس سے مراد یہ ہے کہ وہ آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام پر ایمان لانے والوں میں سے ہر گز نہ تھا یا اس سے مراد یہ ہے کہ وہ آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے ان گھر والوں میں سے نہ تھا جن کی آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے ساتھ نجات کا اللہ تعالیٰ نے وعدہ فرمایا تھا۔۔۔ اس آیت سے ثابت ہوا کہ نجات کیلئے صرف نسبی قرابت کا اعتبار نہیں بلکہ اس کیلئے ایمان شرط ہے جیسے کنعان کو حضرت نوح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے نسبی قرابت تو بدرجہ اَولیٰ حاصل تھی لیکن چونکہ دینی قرابت یعنی ایمان حاصل نہ تھا اس لئے اللہ تعالیٰ نے اس کی حضرت نوح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے قرابت کی نفی فرما دی۔{ اِنَّہٗ عَمَلٌ غَیْرُ صٰلِحٍ: بیشک اس کا عمل اچھا نہیں تھا ۔} ایک قول یہ ہے کہ اس آیت میں حضرت نوح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے سوال کے بارے میں کلام ہے۔ اس صورت میں آیت کا معنی یہ ہو گا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے فرمایا ’’اے نوح! عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام، آپ نے جو سوال کیا وہ قبول نہیں کیا جائے گا کیونکہ اللہ تعالیٰ صرف مسلمانوں کے حق میں شفاعت قبول فرماتا ہے لہٰذا آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا اپنے بیٹے کی نجات کا سوال کرنا درست نہیں۔ تنبیہ: یاد رہے کہ اس سوال سے منصبِ نبوت میں کوئی حَرج واقع نہیں ہوتا کیونکہ حضرت نوح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اپنے بیٹے کے اظہار اسلام کی وجہ سے اسے مسلمان سمجھتے تھے اور انبیاءِ کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام ظاہر پر ہی حکم لگاتے تھے۔ دوسرا قول یہ ہے کہ اس آیت میں حضرت نوح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے بیٹے کے بارے میں کلا م ہے، اس صورت میں آیت کا معنی یہ ہے کہ آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے بیٹے کے عمل اچھے نہ تھے وہ شرک کرتا اور آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو جھٹلاتا تھا۔ دوسرا قول راجح ہے۔ {فَلَا تَسْـَٔلْنِ مَا لَـیْسَ لَکَ بِہٖ عِلْمٌ: پس تم مجھ سے اس بات کا سوال نہ کرو جس کا تجھے علم نہیں۔} یعنی جس بات کے درست یا غلط ہونے کا آپ کو علم نہیں اس بات کا مجھ سے سوال نہ کرو، میں تجھے نصیحت فرماتا ہوں کہ تم ان لوگوں میں سے نہ ہونا جو نہیں جانتے۔ علامہ صاوی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں ’’اللہ تعالیٰ کے حضرت نوح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے کئے گئے اس کلام میں نرمی و شفقت کا اِظہار ہے گویا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے ارشاد فرمایا ’’اے پیارے نوح! عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام، آپ کا مقام بہت بلند ہے، اس لئے آپ کی شان کے لائق یہ بات ہے کہ آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام صرف اسی کی نجات کا مطالبہ اور شفاعت فرمائیں جس کے بارے میں نجات کی امید ہے، وہ لوگ جن کے بارے میں آپ نہیں جانتے کہ ان کے بارے میں شفاعت قبول کی جائے گی یا نہیں تو ان کی نجات کے بارے میں آپ کا سوال کرنا آپ کے مقام و مرتبہ کے لائق نہیں۔ “ (صراط الجنان، جلد 04، صفحہ 445، 446، مکتبۃ المدینہ کراچی)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مولانا محمد نور المصطفیٰ عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-5164
تاریخ اجراء: 13 محرم الحرام 1448ھ/29 جون 2026ء