کیا مسلمان کو ناحق قتل کرنے والا کافر ہے؟
بسم اللہ الرحمن الرحیم
بلا وجہ مسلمان کو قتل کرنے والے کا حکم
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا یہ درست ہے کہ کسی مسلمان کو بلا وجہ قتل کرنے والا دائرہ اسلام سے خارج ہو جاتا ہے؟
جواب
کسی مسلمان کو ناحق قتل کرنا بہت بڑا ظلم اور گناہ کبیرہ ہے، اور کثیر احادیث میں ا س کی بہت مذمت بیان کی گئی ہے، لیکن فقط قتل کرنے کی وجہ سے بندہ دائرہ اسلام سے خارج نہیں ہو جاتا، جب تک کہ وہ اس قتل کو حلال نہ سمجھے۔
اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے:﴿وَ مَنْ یَّقْتُلْ مُؤْمِنًا مُّتَعَمِّدًا فَجَزَآؤُهٗ جَهَنَّمُ خٰلِدًا فِیْهَا وَ غَضِبَ اللّٰهُ عَلَیْهِ وَ لَعَنَهٗ وَ اَعَدَّ لَهٗ عَذَابًا عَظِیْمًا﴾ ترجمہ کنز الایمان: اور جو کوئی مسلمان کو جان بوجھ کر قتل کرے تو اس کا بدلہ جہنم ہے کہ مدتوں اس میں رہے اور اللہ نے اس پر غضب کیا اور اس پر لعنت کی اور اس کے لئے تیار رکھا بڑا عذاب۔ (سورۃ النسآء، پارہ 05، الآیۃ: 93)
تفسیر خازن میں ہے "و أجاب علماء بأن الآية نزلت في كافر قتل مسلما وهو مقيس بن صبابة فتكون الآية على هذا مخصوصة. و قيل هذا الوعيد لمن قتل مسلما مستحلا لقتله و من استحل قتل مسلم كان كافرا وهو مخلد في النار بسبب كفره ۔ ۔ ۔ ۔ إن قاتل المؤمن عمدا عدوانا إذا تاب قبلت توبته بدليل قوله تعالى: ﴿وَ يَغْفِرُ مَا دُوْنَ ذٰلِكَ لِمَنْ يَشَاءُ﴾ و لأن الكفر أعظم من هذا القتل وتوبة الكافر من كفره مقبولة بدليل قوله: ﴿قُلْ لِّلَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِنْ یَّنْتَهُوْا یُغْفَرْ لَهُمْ مَّا قَدْ سَلَفَۚ-﴾ و إذا كانت التوبة من الكفر مقبولة فلأن تقبل من القاتل أولى" ترجمہ: علمانے اس کا جواب یہ دیا ہے کہ یہ آیت اس کافر کے بارے میں نازل ہوئی تھی جس نے ایک مسلمان کو قتل کیا تھا، اور وہ مقیس بن صبابہ تھا۔ تویہ آیت اسی خاص واقعے کے متعلق ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس آیت میں مذکور وعید اس شخص کے لیے ہے جو کسی مسلمان کو اس کے قتل کو حلال سمجھتے ہوئے قتل کرے۔ اورجو کسی مسلمان کے قتل کو حلال سمجھے، وہ کافر ہے اور اپنے کفر کی وجہ سے ہمیشہ جہنم میں رہے گا۔ بیشک کسی مومن کو جان بوجھ کر ظلم و زیادتی کے ساتھ قتل کر نےوالا موت سے پہلے توبہ کر لے، تو اس کی توبہ قبول ہے۔ اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے: ﴿وَيَغْفِرُ مَا دُونَ ذٰلِكَ لِمَنْ يَشَاءُ﴾ (اللہ اس (شرک) کے علاوہ جس گناہ کو چاہے معاف فرما دیتا ہے)۔ اور اس لیے کہ کفر، اس قتلِ ناحق سے بڑا گناہ ہے، (اس کے باوجود )کافر کی اپنے کفر سے توبہ مقبول ہے، اللہ تعالیٰ کےاس ارشاد کی دلیل کے ساتھ: ﴿قُلْ لِّلَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِنْ یَّنْتَهُوْا یُغْفَرْ لَهُمْ مَّا قَدْ سَلَفَۚ-﴾ یعنی آپ فرما دیجیے کہ جن لوگوں نے کفر کیا ہے، اگر وہ باز آ جائیں تو ان کے گزشتہ گناہ معاف کر دیے جائیں گے۔ لہٰذا جب کفر سے توبہ مقبول ہے تو قاتل کی توبہ بدرجہ اولیٰ مقبول ہے۔ (تفسیر خازن، جلد 1، صفحہ 412، 413، مطبوعہ: بیروت)
صحیح بخاری شریف میں حدیث پاک ہے حضور نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: أكبر الكبائر: الإشراك بالله، و قتل النفس، و عقوق الوالدين، و قول الزور أو قال: و شهادة الزور" ترجمہ: بڑے کبیرہ گناہوں میں سے یہ ہیں: اللہ پاک کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرانا، کسی جان کو (ناحق) قتل کرنا، والدین کی نافرمانی کرنا، یا فرمایا: اور جھوٹی گواہی دینا ہے۔ (صحیح بخاری، صفحہ 1246، الحدیث: 6871،دار الکتب العلمیۃ، بیروت)
ایک دوسری حدیث پاک میں ارشاد فرمایا: من أعان على قتل مؤمن ولو بشطر كلمة، لقي اللہ عز وجل مكتوب بين عينيه: آيس من رحمة اللہ" ترجمہ: جس نے کسی مومن کے قتل پر مدد کی،اگرچہ ایک کلمے کے ساتھ ہی، تو وہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں اس حال میں آئے گا کہ اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان لکھا ہو گا '' اللہ عَزَّوَجَلَّ کی رحمت سے مایوس۔'' (سنن ابن ماجہ، جلد 2، صفحہ 874، الحدیث: 2620، مطبوعہ: بیروت)
الفقہ الاکبر میں ہے "و لا نكفر مسلما بذنب من الذنوب و إن كانت كبيرة إذا لم يستحلها" ترجمہ: ہم کسی مسلمان کو کسی گناہ اگرچہ وہ کبیرہ ہی کیوں نہ ہو، کی وجہ سے کافر نہیں کہتے، جب تک وہ اسے حلال نہ سمجھے۔ (الفقہ الاکبر، ص 127،مکتبۃ المدینہ، کراچی)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا اعظم عطاری مدنی
فتوی نمبر: WAT-5159
تاریخ اجراء: 22 محرم الحرام 1448ھ / 08 جولائی 2026ء