رسول اللہ ﷺ کے حاضر و ناظر ہونے کا عقیدہ اور منکر کا حکم
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے حاضر و ناظر ہونے سے کیا مراد ہے اور اس عقیدہ کے منکر کا حکم
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ حاضر و ناظر کا عقیدہ کیا ہے اور اس کے منکر کا حکم کیا ہے ؟
جواب
اللہ کریم نے اپنے پیارے محبوب، خاتم النبیین صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو بے شمار اوصاف و کمالات عطا فرمائے ہیں، ان اوصاو ف و کمالات میں سے ایک حاضر و ناظر ہونا بھی ہے، جس کا معنی و مفہوم یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے جسم مبارک کے ساتھ روضہ اقدس میں تشریف فرما ہیں اور تمام کائنات آپ کے سامنے حاضر ہے، جب چاہیں نظر فرمالیں، کوئی چیز آپ سے چھپی ہوئی نہیں اور اللہ پاک کی عطا سے آپ جب چاہیں جہاں چاہیں تشریف لے جا سکتے ہیں، اہل سنت کا یہ عقیدہ قرآنی آیات، احادیث کریمہ اور سلف صالحین کے اقوال سے ثابت ہے اور فی زمانہ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی اس شان و عظمت کا انکار کرنا، گمراہ و بدعقیدہ فرقوں کا امتیازی نشان ہے۔
قرآنی آیات سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حاضر و ناظر ہونے کا ثبوت:
اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے: (یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ اِنَّاۤ اَرْسَلْنٰكَ شَاهِدًا وَّ مُبَشِّرًا وَّ نَذِیْرًاۙ (45) وَّ دَاعِیًا اِلَى اللّٰهِ بِاِذْنِهٖ وَ سِرَاجًا مُّنِیْرًا) ترجمہ ٔکنزالایمان: اے غیب کی خبریں بتانے والے (نبی) بیشک ہم نے تمہیں بھیجا حاضر ناظر اور خوشخبری دیتا اور ڈر سناتا اور اللہ کی طرف اس کے حکم سے بلاتا او ر چمکا دینے والا ا ٓ فتاب۔ (القرآن، پارہ 22، سورۃ احزاب، آیت 45)
مذکورہ آیت کی تفسیر میں علامہ ابو سعود العمادی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ”إرشاد العقل السليم إلى مزايا الكتاب الكريم المعروف تفسیر ابو سعود“ میں اور علامہ آلوسی بغدادی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ”روح المعاني في تفسير القرآن العظيم “میں لکھتے ہیں: ”ياأيها النبي إنا أرسلناك شاهدا على من بعثت إليهم تراقب أحوالهم وتشاهد أعمالهم وتتحمل منهم الشهادة بما صدر عنهم من التصديق والتكذيب وسائر ما هم عليه من الهدى والضلال وتؤديها يوم القيامة أداء مقبولا فيما لهم وما عليهم“ ترجمہ: اے نبی! ہم نے آپ کو ان سب پر گواہ بناکر بھیجا، جن کی طرف آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم رسول بنا کر بھیجے گئے، آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم ان کے احوال کو دیکھتے اور ان کے اعمال کا مشاہدہ فرماتے ہیں، جو کچھ بھی تصدیق و تکذیب ان سے صادر ہو رہی ہے اور ہدایت و گمراہی میں سے جس چیز پر بھی وہ لوگ ہیں، اس پر آپ ان کی طرف سے گواہی اٹھائے ہوئے ہیں اور یہ گواہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم قیامت کے دن ادا فرمائیں گے، جو اُمت کے حق میں بھی قبول ہوگی اور مخالفت (ان کی گمراہی کے بارے) میں بھی قبول ہوگی۔ (تفسیر ابو سعود، ج7 ، ص108 ، دار إحياء التراث العربي) (روح المعاني، ج 22، ص 45، مطبوعہ دار إحياء التراث العربي، بيروت)
شاہد کا معنی حاضر و ناظر ہونا ہے، جیسا کہ شاہد کے معنی کی تشریح کے متعلق مفرداتِ راغب میں ہے: ’’الشھود والشھادۃ الحضور مع المشاھدۃ اِمَّا بالبصر او بالبصیرۃ‘‘ ترجمہ: شہوداورشہادت کامعنی ہے: حاضر ہونا اور مشاہدہ کرنا، خواہ وہ آنکھوں سے ہو یا دل (باطنی بصیرت) کے ذریعے۔ (مفردات القرآن، ص 267، مطبوعہ بیروت لبنان )
سیدی اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں: بیشک ہم نے تمہیں بھیجا گواہ اور خوشی اور ڈر سناتا کہ جو تمہاری تعظیم کرے، اُسے فضلِ عظیم کی بَشارت دو اور جو مَعَاذَ اللہ بے تعظیمی سے پیش آئے، اسے عذابِ اَلیم کا ڈر سناؤ، اور جب وہ شاہد و گواہ ہوئے اور شاہد کو مشاہدہ درکار، تو بہت مُناسِب ہوا کہ اُمّت کے تمام افعال و اقوال و اعمال و احوال اُن کے سامنے ہوں۔ (اور اللہ پاک نے آپ کو یہ مرتبہ عطا فرمایا ہے جیسا کہ) طبرانی کی حدیث میں حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے ہے: رسولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم فرماتے ہیں: انّ اللہ رفع لی الدنیا فانا انظر الیھا والی ما ھو کائن فیھا الی یومِ القیامۃ کانما انظر الی کفی ھذہ، یعنی بے شک اللہ کریم نے میرے سامنے دنیا اٹھالی، تومیں دیکھ رہا ہوں اُسے اور جو اس میں قِیامت تک ہونے والا ہے، جیسے اپنی اس ہتھیلی کو دیکھ رہا ہوں۔ (فتاویٰ رضویہ، ج 15، ص 168، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن، لاھور)
اسی آیت کے تحت مفسرِ قرآن، مفتی اہل سنت، مفتی محمد قاسم عطاری دامت برکاتہم العالیہ لکھتے ہیں: ”سورۃ احزاب کی آیت نمبر 6 میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: ”اَلنَّبِیُّ اَوْلٰى بِالْمُؤْمِنِیْنَ مِنْ اَنْفُسِهِمْ‘‘ یعنی نبیٔ کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسلمانوں کے ان کی جانوں سے زیادہ قریب ہیں اور یہ بات ظاہر ہے کہ جو قریب ہوتا ہے، وہ حاضر بھی ہوتا ہے اور ناظر بھی۔ (صراط الجنان، ج 08، ص 58 ، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ، کراچی)
اللہ تعالیٰ قرآن ِ پاک میں ارشاد فرماتا ہے: ﴿وَ یَكُوْنَ الرَّسُوْلُ عَلَیْكُمْ شَهِیْدًا﴾ ترجمہ ٔ کنز الایمان: اور یہ رسول تمہارے نگہبان و گواہ ہیں۔ (پارہ 01، سورۃ البقرہ، آیت143)
مذکورہ آیت کی تفسیرمیں علامہ اسماعیل حقی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں: ”ومعنى شهادة الرسول عليهم اطلاعه على رتبة كل متدين بدينه۔۔۔فهو يعرف ذنوبهم وحقيقة ايمانهم وأعمالهم وحسناتهم وسيآتهم وإخلاصهم ونفاقهم وغير ذلك بنور الحق وأمته يعرفون ذلك من سائر الأمم بنوره عليه الصلاة والسلام“ ترجمہ: حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے مسلمانوں پر گواہ ہونے کے یہ معنی ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہر دیندار کے دینی مرتبہ کو پہچانتے ہیں، پس حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم مسلمانوں کے گناہوں، ان کے ایمان کی حقیقت، ان کے اعمال، ان کی نیکیوں اور گناہوں، ان کے اخلاص اور نفاق وغیرہ کونورِ حق سے پہچانتے ہیں اور حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی اُمت بھی قیامت میں ساری اُمتوں کے یہ حالات صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے نور سے جانے گی۔ (تفسیر روح البیان، ج 01، ص 248، مطبوعہ دار الفکر، بیروت)
اس آیت کے تحت مفسرِ قرآن، مفتی اہل سنت، مفتی محمد قاسم عطاری دامت برکاتہم العالیہ لکھتے ہیں: ”یاد رہے کہ ہر نبی عَلَیْہِ السَّلَام کو ان کی اُمت کے اعمال پر مطلع کیا جاتا ہے تاکہ روزِ قیامت ان پر گواہی دے سکیں اور چونکہ ہمارے نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی شہادت سب اُمتوں کو عام ہوگی، اسی لئے حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم تمام اُمتوں کے احوال پر مطلع ہیں۔“ (صراط الجنان، ج 01، ص 225، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ، کراچی)
ارشاد باری تعالیٰ ہے: (وَّ جِئْنَا بِكَ عَلٰى هٰۤؤُلَآءِ شَهِیْدًا) ترجمہ ٔ کنز الایمان: اور اے محبوب تمہیں ان سب پر گواہ اور نگہبان بنا کر لائیں گے۔ (القرآن، پارہ 5، سورۃ النساء، آیت 41)
اس آیت کے تحت تفسیر نیشاپوری میں ہے: ’’لان روحہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم شاھد علٰی جمیع الارواح والقلوب والنفوس لقولہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم اول ما خلق ﷲ روحی“ ترجمہ: کیونکہ حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی روحِ انور تمام جہان میں ہر ایک کی روح، ہر ایک کے دل، ہر ایک کے نفس کا مشاہدہ فرماتی ہے، اس لیے کہ حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا سب سے پہلے ﷲ تعالیٰ نے میری روح کو پیدا کیا (تو عالم میں جو کچھ ہوا حضور کے سامنے ہی ہوا۔) (تفسیر النیسابوری، ج4، ص304، مطبوعہ دار الكتب العلميه)
احادیث کریمہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حاضر و ناظر ہونے کا ثبوت:
نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم تمام عالم کو اس طرح دیکھ رہے ہیں، جس طرح بندہ ہتھیلی میں کوئی چیز دیکھتا ہے، جیسا کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول ا للہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ’’ ان ﷲ قدرفع لی الدنیا فانا انظر الیھا والٰی ما ھوکائن فیھا الٰی یوم القیامۃ کانما انظر الٰی کفی ھذہ جلیان من ﷲ جلاہ لنبیہ کما جلّاہ للنبیین من قبلی “ ترجمہ: بے شک میرے لیے ﷲ عزوجل نے دنیا اٹھا دی ہے اورمیں اسے اور جو کچھ اس میں قیامت تک ہونے والا ہے، سب کچھ ایسے دیکھ رہا ہوں جیسے اپنی ہتھیلی کو دیکھ رہا ہوں، اس روشنی کے سبب جا ﷲ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے لیے روشن فرمائی، جیسےمجھ سے پہلے انبیاء کے لیے روشن کی تھی۔ (کنزالعمال، ج11، ص378، مطبوعہ موسسة الرسالہ)
حضرت حذیفہ بن اُسید رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ رسول ﷲ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’عرضت علٰی امتی البارحۃ لدی ھٰذہ الحجرۃ حتی لانا اعرف بالرّجل منھم من احد کم بصاحبہ“ ترجمہ: گزشتہ رات مجھ پر میری اُمّت اس حجرے کے پاس میرے سامنے پیش کی گئی، بے شک میں ان کے ہر شخص کو اس سے زیادہ پہچانتا ہوں جیسا تم میں کوئی اپنے ساتھی کو پہچانے۔ (المعجم الکبیر، ج 3، ص 181، مطبوعہ مكتبة العلوم والحكم)
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”انی واللہ لانظر الی حوضی الان “ترجمہ: اللہ کی قسم میں اپنے حوض کو اس وقت (دنیا میں) دیکھ رہا ہوں۔ (صحیح بخاری، جلد 02، صفحہ 91، مطبوعہ دار الطوق النجاۃ)
امام طبرانی رحمۃ اللہ علیہ "المعجم الکبیر" میں حدیث پاک نقل کرتے ہیں: ”عن ابن عمر قال: قال رسول اللہ صلى اللہ عليه وسلم: إن الله عز وجل قد رفع لي الدنيا، فأنا أنظر إليها وإلى ما هو كائن فيها إلى يوم القيامة، كأنما أنظر إلى كفي هذه“ ترجمہ: حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ہے کہ نبی پاک صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: بے شک اللہ نے میرے لئے زمین کو اٹھا دیا تو میں اس کو اور اس میں موجود ہر چیز کو قیامت تک دیکھ رہا ہوں، جیسا کہ اپنی ہتھیلی کو دیکھ رہا ہوں۔ (المعجم الکبیر، ج 13، ص 318، مطبوعہ دار إحياء التراث العربي )
حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم تمام عالم میں جہاں چاہیں، وہاں تشریف لے جاتے ہیں، جیسا کہ حضرتِ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”من راٰنی فی المنام فسیرانی فی الیقظۃ ولا یتمثل الشیطان بی“ ترجمہ: جس نے مجھے خواب میں دیکھا عنقریب مجھے بیداری میں دیکھے گا شیطان میری صورت میں نہیں آ سکتا۔ (صحیح البخاری، ج 9، ص 33، مطبوعہ دار الطوق النجاۃ)
اسی میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: " إن العبد إذا وضع في قبره وتولى عنه أصحابه، وإنه ليسمع قرع نعالهم، أتاه ملكان فيقعدانه، فيقولان: ما كنت تقول في هذا الرجل لمحمد صلى اللہ عليه وسلم، فأما المؤمن، فيقول: أشهد أنه عبد اللہ ورسوله“ ترجمہ: بندے کو جب قبر میں رکھ دیا جاتا ہے اور اس کے ساتھی واپس پلٹتے ہیں بیشک وہ (مردہ) ان کے قدموں کی آہٹ کو سنتا ہے اس کے پاس دو فرشتے آتے ہیں آ کر اس کو بٹھا لیتے ہیں اور اسے کہتے ہیں، تو اس شخص یعنی محمد صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے بارے میں کیا کہا کرتا تھا، پس جو مومن ہو گا، وہ کہے گا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ یہ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔ (صحيح البخاري، ج 2، ص 98، مطبوعہ دار طوق النجاة)
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حاضر و ناظر ہونے کے متعلق اقوال ِسلف و صالحین:
امام ابن حاج مکی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں: قد قال علماؤنا ر حمھم ﷲ تعالٰی ان الزائر یشعر نفسہ بانہ واقف بین یدیہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کما ھو فی حیاتہ اذ لافرق بین موتہ وحیاتہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم اعنی فی مشاھد تہ لامتہ ومعرفتہ باحوالھم ونیّاتھم وعزائمھم وخواطرھم وذٰلک عندہ، جلی لا خفاء فیہ“ ترجمہ: بے شک ہمارے علماء کرام رحمہم ﷲ تعالیٰ نے فرمایا کہ زیارت کرنے والا خود کو یہ شعور دلائے کہ وہ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں ان کی حیات ظاہری کی طرح ہی حاضر ہے، کیونکہ حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی حیات و وفات میں کچھ فرق نہیں کہ وہ اپنی اُمت کو دیکھ رہے ہیں اور ان کی حالتوں، نیتوں، ارادوں اور دل کے خطروں کو پہچانتے ہیں اور یہ سب حضور پر روشن ہے جس میں اصلاً کوئی پوشیدگی نہیں۔ (المدخل لابن الحاج، ج 1، ص 259، مطبوعہ دار التراث)
حضرت امام جلالُ الدّین سیوطی شافعی رحمۃ اللہ علیہ حضرت ابو منصور عبدُ القاہِر بغدادی رحمۃ اللہ علیہ کا قول نقل کرتے ہیں: ”قال المتكلمون المحققون من اصحابنا ان نبينا صلى اللہ عليه وسلم حي بعد وفاته وانه يسر بطاعات امته ويحزن بمعاصي العصاةمنهم“ ترجمہ: ہمارے اصحاب میں سے محقق متکلمین فرماتے ہیں: بے شک ہمارے نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم اپنی وفات کے بعد بھی زندہ ہیں اور اپنی اُمّت کی نیکیاں دیکھ کر خوش ہوتے ہیں اور ان کی نافرمانیاں دیکھ کر غمزدہ ہوتے ہیں۔ (الحاوی للفتاوی، ج 2، ص 180، مطبوعہ دار الفکر للطباعۃ والنشر)
علامہ خفاجی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ”نسیم الریاض فی شرح الشفا“ میں لکھتے ہیں: ”عن النبي صلى اللہ عليه وعلى آله وسلم أنه قال: لما تجلى اللہ لموسى عليه الصلاة والسلام كان يبصر النملة على الصفا في الليلة الظلماء مسيرة عشرة فراسخ۔۔۔۔ لما کانت ھذہ القوۃ حصلت للکلیم بالتجلی فحصولہ للنبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم بعد الاسراء“ ترجمہ: نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے مروی ہے کہ آپ نے فرمایا: جب اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام پر اپنے نور کی تجلی فرمائی، تو ان کی بینائی اس قدر تیز ہو گئی کہ وہ سیاہ رات میں چٹان پر چلنے والی چیونٹی کو بھی دس فرسخ کے فاصلے سے دیکھ لیتے تھے۔۔۔۔جب تجلی کی وجہ سے موسی علیہ السلام کو اتنی بصارت حاصل ہوئی، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی بصارت کا معراج کے بعد کیا حال ہوگا۔ (نسیم الریاض شرح شفاء، ج 1، ص 380-381، مطبوعہ دار الکتاب العربی، بیروت)
ملا علی قاری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ”شرح شفا شریف“ میں لکھتے ہیں: ”روح النبی صلی ﷲ تعالٰی علیہ وسلم حاضرۃ فی بیوت اھل الاسلام“ ترجمہ: نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی روح مسلمانوں کے گھروں میں حاضر (موجود) ہے۔ (شرح شفاء للقاری ، ج 03، ص 464، مطبوعہ مطبعۃ الازہریۃ المصریۃ، مصر)
شاہ عبد الحق محد ث دہلوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ لکھتے ہیں: ”باچندیں اختلافات و کثرت مذاہب کہ در علماء امت است یک کس را دریں مسئلہ خلافے نیست کہ آنحضرت صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم بحقیقت حیات بے شائبہ مجاز و توہم تاویل دائم و باقی است و بر اعمال امت حاضر و ناظر و مر طالبان حقیقت را و متوجہان آنحضرت را مفیض و مرب“ ترجمہ: (اہلِ حق میں سے) اس مسئلہ میں کسی ایک کا بھی اختلاف نہیں ہے کہ رسول کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم اپنی حقیقی زندگی مبارکہ کے ساتھ دائم اور باقی ہیں اور امت کے احوال پر حاضر و ناظر ہیں اور حقیقت کے طلبگاروں کو اور ان حضرات کو جو آپ کی طرف متوجہ ہیں ، ان کو فیض بھی پہنچاتے ہیں اور ان کی تربیت بھی فرماتے ہیں اور اس میں نہ تو مجاز کا شائبہ ہے نہ تاویل کا بلکہ تاویل کا وہم بھی نہیں۔ (مکتوبات شیخ مع اخبارالاخیار ، ص155، مطبوعہ مکتبہ نوریہ، سکھر)
سیدی اعلی حضرت، امام اہل سنت الشاہ امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ لکھتے ہیں: حاضر و ناظر اس کی عطا سے اُس کے محبوب علیہ افضل الصلوۃ والسلام ہیں۔“ (فتاویٰ رضویہ، ج29، ص333، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن، لاھور)
حاضر و ناظر کے معنی کے متعلق مقالات کاظمی میں ہے: ”حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے لئے جو لفظ حاضر و ناظر بولا جاتا ہے، اس کے یہ معنی ہرگز نہیں کہ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی بشریت مطہرہ ہر جگہ ہر ایک کے سامنے موجود ہے، بلکہ اس کے معنی یہ ہیں کہ جس طرح روح اپنے بدن کے ہر جزو میں موجود ہوتی ہے اسی طرح روح دو عالم کی حقیقت منورہ ذرات عالم کے ہرذرہ میں جاری و ساری ہے، جس کی بنا پر حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم اپنی روحانیت اور نورانیت کے ساتھ بیک وقت متعدد مقامات پر تشریف فرما ہوتے ہیں اور اہل اللہ اکثر و بیشتر بحالت بیداری اپنی جسمانی آنکھوں سے حضور کے جمال مبارک کا مشاہدہ کرتے ہیں اور حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم بھی انہیں رحمت اور نظر عنایت سے مسرور و محظوظ فرماتے ہیں۔ گویا حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا اپنے غلاموں کے سامنے ہونا سرکار کے حاضر ہونے کے معنی ہیں اور انہیں اپنی نظر مبارک سے دیکھنا حضور کے ناظر ہونے کا مفہوم ہے۔ (مقالات کاظمی، ج 3، ص 163-164، مطبوعہ ضیائیہ ضیاء العلوم)
مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ لکھتے ہیں: ”حاضر و ناظر کے شرعی معنی یہ ہیں کہ قوت قدسیہ والا ایک ہی جگہ رہ کر تمام عالَم (یعنی سارے جہان، زمین و آسمان، عرش و کرسی، لوح و قلم، ملک و ملکوت) کو اپنے کف ِدست کی طرح دیکھے اور دُور و قریب کی آوازیں سُنے یا ایک آن (لمحہ بھر) میں تمام عالَم کی سیر کرے اور صد ہاکوس پر حاجت مندوں کی حاجت رَوائی کرے۔ یہ رفتار خواہ صرف رُوحانی ہو یا جسم مثالی کے ساتھ ہو یا اسی مبارک جسم سے ہو جو قبر میں مدفون ہے۔“ (جاء الحق، ص116، مطبوعہ قادری پبلشرز، لاھور)
عقیدہ ِحاضر و ناظر کا ثبوت اور درجہ بیان کرتے ہوئے حضرت علامہ عبد الحکیم شرف قادری صاحب رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ لکھتے ہیں: قد وقع في كلمات أئمة المسلمين إطلاق الحاضر والناظر في شأن النبي صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم، وليس معناه أنه صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم موجود بمرأى من كل شخص باعتبار جسمه الشخصي والبشرية المطهرة .بل المقصود أنه صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم في المكانة العليا من حضرة الله تعالى ومع ذلك يلاحظ جميع الكائنات مثل كنه، ويمكن أن يتجلى صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم في آن واحد في أمكنة متعددة، وأن الأولياء الكبار رحمهم الله تعالى يشاهدون جماله المقدس في منامهم ويقظتهم، والنبي صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم يشرفهم ويسعدهم بنظر الرحمة والعناية. فمعنى كونه صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم حاضراً أنه حاضر في حرم الله المحترم، وبمرأى من غلمانه الأصدقاء، ومعنى كونه صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم ناظراً أنه يشاهد أعمال أمته .
ولا يخفى على القارئ الكريم أن هذه العقيدة ظنية ومن زمرة الفضائل، لا تجب لإثباتها الدلائل القطعية، بل الدلائل الظنية ثبوتاً ودلالةً أيضاً مفيدة للمرام .قال العلامة السعد التفتازاني في مبحث تفضيل الرسل ولا خفاء في أن هذه المسألة ظنية يكتفى فيها بالأدلة الظنية
ترجمہ: ائمہ مسلمین کے کلام میں حضور نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی شان میں "حاضر و ناظر" کی اصطلاح کا استعمال عام رہا ہے، جس کا مقصد ہرگز یہ نہیں کہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم اپنے جسمِ بشری اور شخصی وجود کے ساتھ ہر وقت ہر شخص کی آنکھوں کے سامنے موجود ہیں، بلکہ اس سے مراد یہ ہے کہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم بارگاہِ الہی کے اس بلند مقام پر فائز ہیں جہاں سے پوری کائنات آپ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کے مشاہدے میں ہے اور آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم بیک وقت متعدد مقامات پر تجلی فرما سکتے ہیں۔ اسی روحانی قوت کی بنا پر اکابر اولیاء اللہ خواب اور بیداری میں آپ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کے جمالِ مقدس کا مشاہدہ کرتے ہیں اور آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم اپنی نگاہِ رحمت و عنایت سے انہیں سرفراز فرماتے ہیں۔ پس حاضر ہونے کا مفہوم یہ ہے کہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم اللہ کے دربارِ محترم میں حاضر اور اپنے مقرب بندوں کے سامنے ہیں، جبکہ ناظر ہونے کا مطلب یہ ہے کہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم اپنی امت کے اعمال ملاحظہ فرما رہے ہیں۔ یہ عقیدہ ظنیات اور فضائل کے قبیل سے ہے جس کے ثبوت کے لیے قطعی دلائل لازم نہیں، بلکہ ثبوت و دلالت کے اعتبار سے ظنی دلائل بھی اس مقصد کے لیے کافی و مفید ہیں، جیسا کہ علامہ سعد الدین تفتازانی نے بھی "تفضیلِ رسل" کی بحث میں اس بات کی صراحت کی ہے کہ یہ مسئلہ ظنی ہے جس میں ظنی ادلہ پر اکتفا کیا جا سکتا ہے۔ (من عقائد اھل السنۃ، ص 318، طبع من المحقق)
عقیدہ حاضر و ناظر کا انکار کرنا گمراہ و بدعقیدہ فرقوں کا طرز عمل ہے چنانچہ مقالات کاظمی میں ہے: ”یہ اصل عظیم حضور نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے حاضر و ناظر ہونے کی ایسی روشن اور قوی دلیل ہے، جس کا انکار کسی گمراہ اور کور باطن کے سوا کوئی دوسرا شخص نہیں کر سکتا۔“ (مقالات کاظمی، ج 3، ص 209، مطبوعہ ضیائیہ ضیاء العلوم)
یونہی فتاوی بحر العلوم میں ہے: ”حضور علیہ السلام کو حاضر و ناظر کہنا جائز ہے، لیکن یہ مسئلہ ایسا نہیں کہ اس کے انکار کرنے والے پر فتوی صادر کیا جائے۔۔ گمراہ فرقے ہی اس کا انکار کرتے ہیں، تو اگر آپ کے وہاں انکار کرنے والے لوگ بھی ایسے ہی ہیں، تو وہ پہلے ہی گمراہ، بددین ہیں۔ (فتاوی بحر العلوم، ج 6، ص 187، مطبوعہ شبیر برادر، لاھور)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: ابو الفیضان عرفان احمد مدنی
مصدق: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: FSD-9925
تاریخ اجراء: 26 شوال المکرم 1447ھ / 15 اپریل 2026 ء