logo logo
AI Search

کیا مردے سنتے ہیں؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

کیا مردے سنتے ہیں؟ قرآن و حدیث کی روشنی میں تفصیلی فتویٰ

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلہ کےبارے میں کہ کیا مردے سنتے ہیں؟ ایک شخص کہتا ہے کہ مُردے نہیں سن سکتے اور دلیل کے طور پر یہ آیات پیش کرتا ہے؛

(1) اِنَّكَ لَا تُسْمِــعُ الْمَوْتٰىترجمہ: یقینا تم مردوں کو نہیں سناسکتے۔ (النمل: 80)

(2) وَ مَاۤ اَنْتَ بِمُسْمِـعٍ مَّنْ فِی الْقُبُوْرِ ترجمہ: آپ ان کو نہیں سناسکتے جو قبروں میں ہیں۔ (فاطر: 22)

(3) اَمْوَاتٌ غَیْرُ اَحْیَآءٍۚ- وَ مَا یَشْعُرُوْنَۙ- اَیَّانَ یُبْعَثُوْنَترجمہ: مردہ زندہ نہیں، انہیں تو یہ بھی شعور نہیں کہ دوبارہ زندہ کرکے کب اٹھائے جائیں گے۔ (النحل: 21)

جواب

اہلِ سنت کا عقیدہ ہے کہ مرنے کے بعد روح فنا نہیں ہوتی، بلکہ روح کا تعلق جسم کے ساتھ باقی رہتا ہے اور اس کے افعال و ادراکات جیسے سننا، دیکھنا، سمجھنا وغیرہ بدستور باقی رہتے ہیں، بلکہ مرنے کے بعد یہ صلاحیتیں بڑھ جاتی ہیں۔ مُردوں کا سننا برحق ہے اور یہ عقیدہ کوئی قیاسی یا خود ساختہ نہیں، بلکہ قرآنِ کریم اور رسولِ اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ و آلہ و سلم کی متعدد احادیث سے ثابت ہے، جن میں سے چند ایک درج ذیل ہیں؛

(1) چنانچہ حضرت صالح علیہ السلام اور حضرت شعیب علیہ السلام جب عذاب یافتہ قوم کی مردہ نعشوں پر گزرے تو ان سے خطاب کیا، جیسا کہ حضرت شعیب علیہ السلام کے بارے میں قرآن پاک میں ارشاد ربانی ہے:

فَتَوَلّٰى عَنْهُمْ وَ قَالَ یٰقَوْمِ لَقَدْ اَبْلَغْتُكُمْ رِسٰلٰتِ رَبِّیْ وَ نَصَحْتُ لَكُمْۚ- فَكَیْفَ اٰسٰى عَلٰى قَوْمٍ كٰفِرِیْنَ

ترجمہ کنز العرفان: تو شعیب نے ان سے منہ پھیر لیا اور فرمایا، اے میری قوم! بیشک میں نے تمہیں اپنے رب کے پیغامات پہنچا دئیے اور میں نے تمہاری خیرخواہی کی تو کافر قوم پر میں کیسے غم کروں۔ (القرآن، پارہ 9، سورۃ الاعراف، آیت 93) (القرآن، پارہ 9، سورۃ الاعراف، آیت 79)

اس آیت کے تحت امام ابو البرکات عبد اللہ بن احمد نَسَفِی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 710ھ / 1310ء) لکھتے ہیں:

{فَتَوَلّٰى عَنْهُمْ} بعد ان نزل بھم العذاب

یعنی عذاب نازل ہونے کے بعد ان سےمنہ پھیرا اور کہا۔ (تفسیر نسفی، سورۃ الاعراف، جلد 1، صفحہ 417، مطبوعہ دار الکتب العلمیہ، بیروت)

اسی طرح تفسیر نعیمی میں مفتی احمد یار خان نعیمی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 1391ھ / 1971ء) لکھتےہیں: مردے سنتے ہیں، ان سے کلام کرنا جائز ہے، بلکہ مومنوں کے قبرستان میں جاؤ، تو انہیں سلام کرو، جو سنتا نہ ہو اسے سلام کرنا ممنوع ہے، جیسے سوتا ہوا اور بیہوش آدمی، یہ فائدہ قَالَ یٰقَوْمِ کی دوسری تفسیر سے حاصل ہوا۔ (تفسیر نعیمی،سورۃ الاعراف، جلد 9، صفحہ 32، نعیمی کتب خانہ، گجرات)

(2) صحیح بخاری، صحیح مسلم، سنن نسائی، مسند ابی یعلی، السنن الکبری میں ہے:

و النظم للاول: عن أبي طلحة: أن نبي اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم أمر يوم بدر بأربعة و عشرين رجلا من صناديد قريش، فقذفوا في طوي من أطواء بدر خبيث مخبث، وكان إذا ظهر على قوم أقام بالعرصة ثلاث ليال، فلما كان ببدر اليوم الثالث أمر براحلته فشد عليها رحلها، ثم مشى و اتبعه أصحابه و قالوا: ما نرى ينطلق إلا لبعض حاجته، حتى قام على شفة الركي، فجعل يناديهم بأسمائهم و أسماء آبائهم: يا فلان بن فلان، و يا فلان بن فلان، أيسركم أنكم أطعتم الله ورسوله، فإنا قد وجدنا ما وعدنا ربنا حقا، فهل وجدتم ما وعد ربكم حقا. قال: فقال عمر: يا رسول اللہ، ما تكلم من أجساد لا أرواح لها؟ فقال رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم: و الذي نفس محمد بيده، ما أنتم بأسمع لما أقول منهم

ترجمہ: حضرت ابو طلحہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بدر کے دن چوبیس سرداران قریش کے متعلق حکم دیا تو وہ بدر کے کنوؤں میں سے ایک گندے اور پلیدکنویں میں ڈال دیئے گئے اور جب حضور کسی قوم پر غالب آتے تھے تو میدانِ جنگ میں تین شب قیام فرماتے تھے، چنانچہ جب بدر میں تیسرا دن ہوا تو اپنی سواری کے متعلق حکم دیا تو اس پر پالان باندھ دیا گیا، پھر حضور چلے اور حضور کے صحابہ پیچھے پیچھے گئے حتی کہ کنوئیں کے کنارے پر کھڑے ہوئے، تو انہیں ان کے اور ان کے باپ داداؤں کے نام سے پکارنے لگے کہ اے فلاں ابن فلاں اور اے فلاں ابن فلاں کیا اب تم کو یہ پسند ہے کہ تم نےاللہ رسول کی اطاعت کی ہوتی، ہم نے تو وہ حق پایا جو ہم سے ہمارے رب نے وعدہ کیا تھا، تو تم نے بھی وہ حق پالیا جو تم سے تمہارے رب نے وعدہ کیا، تو حضرت عمر نے عرض کیا یارسول اللہ آپ ان جسموں سے کلام فرماتے ہیں جن میں جان نہیں۔ نبی پاک صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا اس کی قسم جس کے قبضہ میں محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کی جان ہے میرے فرمان کو تم لوگ ان سے زیادہ نہیں سنتے۔ (صحیح بخاری، جلد 5، صفحہ 76، مطبوعہ دار طوق النجاة، بيروت)

اس حديث پاک کے تحت ارشاد الساری شرح صحیح بخاری میں ہے:

لما ثبت سماع أهل القليب كلامه عليه الصلاة و السلام، و توبيخه لهم دل على إدراكهم الكلام بحاسة السمع

ترجمہ: اس حدیث سے جب یہ ثابت ہو گیا کہ اہلِ قلیب نے رسولِ اکرم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کا کلام اور آپ کا انہیں ملامت کرنا سنا، تو اس سے یہ بات واضح ہو گئی کہ وہ حاسۂ سماعت کے ذریعے کلام کا ادراک کرتے ہیں۔ (ارشاد الساری شرح صحیح بخاری، جلد 3، صفحہ 471، مطبوعہ دار الكتب العلمية، بيروت)

(3) اسی طرح صحیح مسلم میں حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم نے ارشاد فرمایا:

إن العبد إذا وضع في قبره، و تولى عنه أصحابه إنه ليسمع قرع نعالهم

ترجمہ: آدمی کو جب قبر میں رکھا جاتا ہے اور لوگ اسے دفن کرکے واپس آتے ہیں، تو مردہ ان کے جوتوں کی آہٹ سنتا ہے۔ (صحیح مسلم، جلد 4، صفحہ 2200، مطبوعہ دار إحياء التراث العربي، بيروت)

سوال میں مذکور آیات مبارکہ کا درست معنی و محمل: سوال میں مردوں کے نہ سننے پر قرآن پاک کی جو آیات پیش کی گئی ہیں، ان سے استدلال باطل ہے، نیز یہ قرآن پاک کی غلط اور من مانی تاویل ہے، جوکہ جائز نہیں، پس ان آیات کا درست معنی و مفہوم درج ذیل ہے: (1) قرآن پاک میں ارشاد باری تعالی ہے:

اِنَّكَ لَا تُسْمِــعُ الْمَوْتٰى وَ لَا تُسْمِــعُ الصُّمَّ الدُّعَآءَ اِذَا وَلَّوْا مُدْبِرِیْنَ

ترجمہ کنز العرفان: بیشک تم مردوں کو نہیں سناسکتے اور نہ تم بہروں کو پکار سناسکتے ہو جب وہ پیٹھ دے کرپھر رہے ہوں۔ (القرآن، پارہ 20، سورۃ النمل، آیت 80)

اس آیت سے مُردوں کے نہ سننے پراستدلال غلط ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہاں مردوں اور بہروں سے مراد دل کے مردے اور بہرے یعنی کفار ہیں، جو نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم کی تبلیغ کو مفید طور پر نہیں سنتے اور اُن سے بھی مطلقا ہر کلام سننے کی نفی مراد نہیں ہے، بلکہ وعظ و نصیحت اور کلامِ ہدایت قبول کرنے کیلئے سننے کی نفی ہے اور مراد یہ ہے کہ کافر مردہ دل ہیں کہ نصیحت سے کوئی فائدہ نہیں اٹھاتے۔

چنانچہ تفسیر نسفی، تفسیر طبری، تفسیر قرطبی اور تفسیر خازن میں ہے:

و النظم للآخر: إنك لا تسمع الموتى يعني موتى القلوب و هم الكفار

ترجمہ: یعنی جن لوگوں کے دل مردہ ہیں آپ انہیں نہیں سنا سکتے اور وہ لوگ کفار ہیں۔ (تفسیر خازن، جلد 3، صفحہ 352، مطبوعہ دار الكتب العلمية، بيروت)

علامہ علی قاری حنفی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 1014ھ / 1605ء) لکھتے ہیں:

فإن المراد من الموتى الكفار و النفي منصب على نفي النفع لا على مطلق السمع كقوله تعالى﴿صُمٌّۢ بُكْمٌ عُمْیٌ فَهُمْ لَا یَعْقِلُوْنَ﴾

یعنی مردوں سے مراد کفار ہیں اور (یہاں) مطلق سننے کی نفی نہیں بلکہ معنی یہ ہے کہ ان کاسننا نفع بخش نہیں ہوتا، جیسا کہ ارشاد باری تعالی ہے کہ (یہ کفار) بہرے، گونگے، اندھے ہیں تو یہ سمجھتے نہیں۔ (مرقاۃ المفاتیح، جلد 6، صفحہ 2554، مطبوعہ دار الفكر، بيروت)

اعلیٰ حضرت، امامِ اہلِ سُنَّت، امام اَحْمد رضا خان رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 1340ھ / 1921ء) لکھتے ہیں: نفیِ سماع ہی مانو تو یہاں سے سماع قطعاً بمعنی سمعِ قبول و انتفاع ہے۔ باپ اپنے عاقل بیٹے کو ہزار بار کہتا ہے: وہ میری نہیں سنتا۔ کسی عاقل کے نزدیک اس کے یہ معنی نہیں کہ حقیقۃً کان تک آواز نہیں جاتی، بلکہ صاف یہی کہ سنتا تو ہے، مانتا نہیں اور سننے سے اسے نفع (فائدہ) نہیں ہوتا، آیۂ کریمہ میں اسی معنی کے ارادہ پر ہدایت شاہد کہ کفار سے انتفاع ہی کا انتفا ہے نہ کہ اصلِ سماع کا۔ خود اسی آیہ کریمہ

اِنَّكَ لَا تُسْمِعُ الْمَوْتٰى

کے تتمہ میں ارشاد فرماتا ہے:

اِنْ تُسْمِعُ اِلَّا مَنْ یُّؤْمِنُ بِاٰیٰتِنَا فَهُمْ مُّسْلِمُوْنَ

یعنی تم نہیں سناتے مگر انھیں جو ہماری آیتوں پریقین رکھتے ہیں تو وہ فرمانبردار ہیں۔ اور پر ظاہر کہ پند ونصیحت (یعنی وعظ و نصیحت) سے نفع حاصل کا وقت یہی زندگی دنیا ہے۔ مرنے کے بعد نہ کچھ ماننے سے فائدہ نہ سننے سے حاصل، قیامت کے دن سبھی کافر ایمان لے آئیں گے، پھر اس سے کیا کام الاٰن وقد عصیت قبل (کیا اب، جبکہ اس سے پہلے نافرمان رہے) تو حاصل یہ ہوا کہ جس طرح اموات (مُردوں) کو وعظ سے انتفاع (کوئی فائدہ) نہیں، یہی حال کافروں کا ہے کہ لاکھ سمجھائیے نہیں مانتے۔ (فتاوی رضویہ، جلد 9، صفحہ 701، رضا فاؤنڈیشن، لاھور)

(2) اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے:

وَ مَاۤ اَنْتَ بِمُسْمِـعٍ مَّنْ فِی الْقُبُوْرِ(22) اِنْ اَنْتَ اِلَّا نَذِیْرٌ(23)

ترجمہ کنز العرفان:اور تم انہیں سنانے والے نہیں جو قبروں میں پڑے ہیں۔ تم تو یہی ڈر سنانے والے ہو۔ (القرآن، پارہ 22، سورۃ الفاطر، آیت 22، 23)

اس آیت سے مُردوں کے نہ سننے پر اِستدلال بھی صحیح نہیں، کیونکہ آیت میں قبر والوں سے مراد بھی کفار ہیں کہ جس طرح مردے سنی ہوئی بات سے نفع نہیں اُٹھا سکتے اور نصیحت قبول نہیں کر سکتے، بد انجام کفار کا بھی یہی حال ہے کہ وہ ہدایت و نصیحت سے فائدہ نہیں اٹھاتے اور سننے سے مراد وہ سننا ہے جس پر ہدایت کا نفع مرتب ہو، اور جہاں تک مُردوں کے سننے کا تعلق ہے تو یہ کثیر احادیث سے ثابت ہے، جن میں بعض کا بیان اوپر گزر چکا۔ چنانچہ تفسیر بغوی، تفسیر خازن اور تفسیر سمر قندی میں ہے:

و النظم للاول: وَ مَاۤ اَنْتَ بِمُسْمِـعٍ مَّنْ فِی الْقُبُوْرِ يعني: الكفار، شبههم بالأموات في القبور حين لم يجيبوا

ترجمہ: اور تم انہیں سنانے والے نہیں جو قبروں میں پڑے ہیں یعنی کفار، انہیں (یعنی کفار کو) قبروں میں پڑےمردوں سے تشبیہ دی گئی ہے اس لیے کہ مُردوں کی طرح یہ (سن کر) جواب نہیں دیتے۔ (تفسیر بغوی، جلد 6، صفحہ 418، مطبوعہ دار طيبة للنشر و التوزيع)

اسی طرح تفسیر جلالین میں ہے:

وَ مَاۤ اَنْتَ بِمُسْمِـعٍ مَّنْ فِی الْقُبُوْرِ

أي الكفار شبههم بالموتى ترجمہ: اور تم انہیں سنانے والے نہیں جو قبروں میں پڑے ہیں یعنی کفار کہ انہیں مردوں سے تشبیہ دی گئی ہے۔ (تفسیر جلالین، صفحہ 574، مطبوعہ دار الحديث، القاهرة)

(3) اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے:

اَمْوَاتٌ غَیْرُ اَحْیَآءٍ وَ مَا یَشْعُرُوْنَ اَیَّانَ یُبْعَثُوْنَ

ترجمہ کنز العرفان: مُردے ہیں زندہ نہیں اور انہیں خبر نہیں لوگ کب اٹھائے جائیں گے۔ (القرآن،پارہ14،سورۃ النحل،آیت21)

اس آیت میں اَمْوَاتٌ غَیْرُ اَحْیَآءٍ سے مراد بت ہیں نہ کہ قبر والے مردے اور مراد یہ ہے کہ اگر یہ بت معبود ہوتے جیسا کہ بت پرستوں کا گمان ہے تو یہ ضرور زندہ ہوتے انہیں کبھی موت نہ آتی، کیونکہ جو معبود عبادت کا مستحق ہے وہ ہمیشہ سے زندہ ہے اور اسے کبھی موت نہ آئے گی اور بت چونکہ مردہ ہیں زندہ نہیں اور انہیں تو یہ بھی شعور نہیں کہ وہ کب اٹھائے جائیں گے، لہٰذا یہ عبادت کے مستحق نہیں۔

چنانچہ تفسیر طبری، تفسیر ابن ابی حاتم، تفسیر در منثور اور تفسیر کبیر میں ہے:

و النظم للطبری: و هى هذه الأوثان التي تعبد من دون اللہ، أموات لا أرواح فيها، و لا تملك لأهلها ضرا و لا نفعا

یعنی یہ بت جن کی اللّٰہ تعالیٰ کے علاوہ عبادت کی جاتی ہے بے جان ہیں، ان میں روحیں نہیں اور نہ ہی یہ اپنی عبادت کرنے والوں کو کوئی نفع پہنچانے کی قدرت رکھتے ہیں۔ (تفسیر طبری، جلد 14، صفحہ 196، مطبوعہ دار هجر للطباعة و النشر و التوزيع و الإعلان، القاهرة)

اسی طرح امام علاؤ الدین محمد بن علی المعروف امام خازن رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 741ھ) لکھتے ہیں:

و المعنى لو كانت هذه الأصنام آلهة كما تزعمون لكانت أحياء غير جائز عليها الموت لأن الإله الذي يستحق أن يعبد هو الحي الذي لا يموت و هذه أموات غير أحياء، فلا تستحق العبادة

ترجمہ: (اس آیت کا) معنی یہ ہے کہ اگر یہ بت معبود ہوتے جیسا کہ تمہارا گمان ہے تو یہ ضرور زندہ ہوتے انہیں کبھی موت نہ آتی، کیونکہ جو معبود عبادت کا مستحق ہے وہ ہمیشہ سے زندہ ہے اور اسے کبھی موت نہ آئے گی اور بت چونکہ مردہ ہیں زندہ نہیں، لہٰذا یہ عبادت کے مستحق نہیں۔ (تفسیر خازن، جلد 3، صفحہ 72، مطبوعہ دار الكتب العلمية، بيروت)

نوٹ: مُردوں کے سننے سے متعلق مسئلے کی مزید تفصیل جاننے کے لئے فتاویٰ رضویہ کی 9ویں جلد میں موجود رسالہ حَیَاتُ الْمَوَاتْ فِیْ بَیَانِ سِمَاعِ الْاَمْوَاتْ (مردوں کی سماعت کے بیان میں مفید رسالہ) کا مطالعہ فرمائیں۔

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: OKR-0217
تاریخ اجراء: 20 شعبان المعظم1447ھ / 09 فروری 2026 ء