قبر میں فرشتے سوالات کب شروع کرتے ہیں؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
قبر میں فرشتے سوالات کس وقت شروع کرتے ہیں؟
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس بارے میں کہ قبر میں فرشتے کس وقت سوالات شروع کرتے ہیں؟
جواب
مرنے کے بعد کے معاملات یعنی سوالاتِ قبر و عذابِ قبر وغیرہ تمام امور برحق ہیں اور یہ کثیر احادیث سے ثابت ہیں، بالخصوص سوالاتِ قبر کے متعلق احادیث تو حدِ تواتر کو پہنچی ہوئی ہیں۔ البتہ قبر کے احوال اسرارِ الہیہ میں سے ہیں اور پھر سب قبر والوں کے ساتھ ایک جیسا معاملہ نہیں ہوتا، بلکہ ہر مردے کی حالت مختلف ہونے کے اعتبار سے اس کے لیے احوال قبر بھی مختلف ہوتے ہیں، اسی وجہ سے قبر کے احوال و کیفیات بیان کرنے میں روایات میں کافی اختلاف ملتا ہے، سوالاتِ قبر کا معاملہ بھی کچھ ایسا ہی ہے، بعض اشخاص ایسے ہیں، جن سے سوالاتِ قبر ہی نہیں ہوتے اور پھر جن سے سوالات ہوتے ہیں، ان میں بھی ہر ایک کی حالت و کیفیت کے مطابق سوالات کا طریقہ جدا ہوتا ہے، اسی طرح میت کے مؤمن و کافر ہونے کے اعتبار سے قبر میں فرشتوں کے آنے کی کیفیت اور سوال پوچھنے کا انداز بھی جدا ہوتا ہے۔ البتہ جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ سوالاتِ قبر کب شروع ہوتے ہیں، تو اس کا جواب یہ ہے کہ عمومی طور پر سوالاتِ قبر کے حوالے سے جو روایات وارد ہوئی ہیں، ان سے یہ ظاہر ہے کہ جب مردے کو قبر میں رکھ دیاجاتا ہے اور اس کی تدفین سے فارغ ہونے کے بعد تمام یا اکثر لوگ وہاں سے چلے جاتے ہیں، توفرشتے سوالاتِ قبر شروع کرتے ہیں اور علمائے کرام نے بھی سوالاتِ قبر کے وقت کے بارے میں اسی طرح کی صراحت فرمائی ہے۔
سوالاتِ قبربرحق ہیں، اس پر وارد شدہ روایات حدِ تواتر تک پہنچی ہوئی ہیں۔ شرح الصدور میں علامہ جلال الدین سیوطی علیہ الرحمہ لکھتے ہیں:
باب فتنة القبر و سؤال الملكين :قد تواترت الأحاديث بذلك مؤكدة من رواية أنس و البراء و تميم الداري و بشير بن الكمال و ثوبان و جابر بن عبد اللہ و عبد اللہ بن رواحة و عبادة بن الصامت و حذيفة و ضمرة بن حبيب و إبن عباس و إبن عمر و إبن مسعود و عثمان بن عفان و عمر بن الخطاب و عمرو بن العاص و معاذ بن جبل و أبي أمامة و أبي الدرداء و أبي رافع و أبي سعيد الخدري و أبي قتادة و أبي هريرة و أبي موسى و أسماء و عائشة رضي اللہ عنهم أجمعين
ترجمہ: قبر کی آزمائش اور منکر نکیر کے سوال کے متعلق باب: اس معاملے میں متواتر درجے تک موکد احادیث وارد ہوئی ہیں، حضرت انس، براء، تمیم داری، بشیر بن کمال، ثوبان، جابر بن عبد اللہ، عبد اللہ بن رواحہ، عبادہ بن صامت، حذیفہ، ضمرہ بن حبیب، ابن عباس، ابن عمر، ابن مسعود، عثمان غنی، عمر فاروق، عمر وبن عاص، معاذ بن جبل، ابو امامہ، ابو درداء، ابو رافع، ابو سعید خدری، ابو قتادہ، ابو ہریرہ، ابو موسی، اسماء اور حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہم اجمعین کی روایات سے۔ (شرح الصدور بشرح حال الموتى و القبور، صفحہ 121، دار المعرفۃ، بیروت)
احوال قبر اسرارِ الہٰیہ میں سے ہیں۔ چنانچہ قبر کھودنے کے حرام ہونے کی ایک وجہ یہ بھی بیان کی گئی ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کے رازوں میں دخل اندازی کرنا ہے ۔ چنانچہ امامِ اہلسنت الشاہ امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمٰں نے ارشاد فرمایا: نبش(قبر کھودنا) حرام، حرام، سخت حرام، اور میّت کی اشد توہین وہتک سرّ رب العٰلمین ہے۔ (فتاوی رضویہ، جلد 9، صفحہ 405، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن، لاھور)
کچھ ایسے اشخاص بھی ہیں، جن سے قبر کے سوالات نہیں ہوتے۔ چنانچہ محدث کبیر علامہ ملا علی قاری علیہ الرحمہ ارشاد فرماتے ہیں:
و استثنی من عموم سؤال القبر الانبیاء علیھم السلام و الاطفال و الشھداء ففی صحیح مسلم انہ علیہ الصلوۃ و السلام سئل عن ذلک؟ فقال: کفی ببارقۃ السیوف شاھداً ففی الکفایۃ انہ لا سؤال للانبیاء علیھم السلام
ترجمہ: سوالاتِ قبر کے عموم میں سے انبیاء علیہمُ السّلام، بچے اور شہداء مستثنی ہیں چنانچہ صحیح مسلم شریف کی روایت میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے اس کے متعلق پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا: سوالاتِ قبر نہ ہونے کے لیے تلواروں کے سائے تلے شہید ہونا ہی کافی ہے۔ کفایہ میں ہے کہ انبیائے کرام علیہم السلام سے سوالاتِ قبر نہ ہوں گے۔ (شرح الفقہ الاکبر، ص 181، 182، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
علامہ فضل رسول بدایونی رحمۃ اللہ علیہ ارشاد فرماتے ہیں:
و الاصح ان الانبیاء لا یُسئَلون۔۔۔و کذا اطفال المؤمنین و اختلف فی سؤال اطفال المشرکین و فی دخولھم الجنۃ و النارو الاخبار متعارضۃ فالسبیل التفویض الی اللہ تعالی اذ معرفۃ احوالھم فی الآخرۃ لیست من ضروریات الدین و لیس فیھا دلیل قطعی
یعنی زیادہ صحیح قول یہ ہے کہ انبیائے کرام علیہم السلام سے قبر میں سوالات نہیں ہوں گے یوہیں مسلمانوں کے بچوں سے بھی سوالاتِ قبر نہیں ہوں گے۔ البتہ مشرکین کے بچوں سے سوالاتِ قبر ہونے اور ان کے جنتی یا دوزخی ہونے میں علمائے کرام کا اختلاف ہےاورروایات اس باب میں ایک دوسرے کے خلاف ہیں، لہٰذا عافیت اس میں ہے کہ اس معاملے کو اللہ پاک کے حوالے کیا جائے کیونکہ آخرت میں کس کے ساتھ کیا ہوگا؟ اس کی معرفت (جاننا) ضروریاتِ دین میں سے نہیں ہے اور اس معاملے میں کوئی قطعی دلیل بھی نہیں ہے۔
اس کے تحت امام اہلسنت الشاہ امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ ارشاد فرماتے ہیں:
(قول: کذا اطفال المومنین)و قیل یسالھم الملکان و یلقنان فیقولان من ربک ثم یقولون: قل اللہ و ھکذا
یعنی ماتن کا فرمان کہ مسلمانوں کے بچوں سے سوالات نہیں ہوں گے، دوسرا قول یہ ہے کہ منکر نکیر ان سے سوالات کریں گےاور ان کو جواب کی تلقین کریں گے، اس طرح کہ پہلے پوچھیں گے: تمہارا رب کون ہے؟ پھر خود ہی جواب بتائیں گے کہ کہو: اللہ اورایسا ہی دیگر سوالات میں بھی ہوگا۔ (المعتقد المنتقدمع حاشیتہ المستند المعتمد بناءنجاۃ الابد، ص 233، نوریہ رضویہ پبلشنگ کمپنی)
جب مردے کو قبر میں رکھ دیاجاتا ہے اور اس کی تدفین سے فارغ ہونے کے بعد لوگ وہاں سے جاتے ہیں، تو فرشتے سوالاتِ قبر شروع کرتے ہیں۔ چنانچہ حضرت سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی مکرم صلی اللہ علیہ و الہ و سلم نے ارشاد فرمایا:
إن العبد إذا وضع في قبره وتولى عنه أصحابه و إنه ليسمع قرع نعالهم أتاه ملكان فيقعدانه فيقولان الخ
ترجمہ: جب بندے (میت) کو قبر میں رکھ دیا جاتا ہے اور اس کے ساتھی لوٹتے ہیں ، تو وہ ان کے جوتوں کی آواز سنتا ہے۔ پھر دو فرشتے آتے ہیں، پس وہ اسے اسے بٹھا دیتے ہیں، پھر (سوالات قبر شروع کرتے ہوئے) پوچھتے ہیں الخ۔ (صحیح بخاری، ج 2، ص 287، رقم الحدیث: 1383،دار التاصیل، قاھرۃ)
جامع الاصول لابن الاثیر میں یہ روایت کچھ یوں منقول ہے:
إن العبد إذا وضع في قبره، وتولى عنه أصحابه، إنه ليسمع قرع نعالهم، إذا انصرفوا: أتاه الملكان، فيقعدانه، فيقولان له
ترجمہ: جب بندے(میت) کو قبر میں رکھ دیا جاتا ہے اور اس کے ساتھی لوٹتے ہیں، تو وہ ان کے جوتوں کی آواز سنتا ہے۔ جب لوگ منہ پھیر کر جاتے ہیں، تو دو فرشتے آتے ہیں، پس وہ اسے اسے بٹھادیتے ہیں، پھر (سوالات قبر شروع کرتے ہوئے) پوچھتے ہیں۔ (جامع الاصول لابن الاثیر ، ج 11 ، ص 173 ، مکتبۃ دار البیان )
محدث کبیرحضرت ملا علی قاری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
(إذا وضع في قبره): شرط و «أتاه» جوابه، و الجملة خبر إن (و تولى): أي: أدبر و أعرض (عنه أصحابه): أي: عن قبره، و العبرة بالأكثر أو عن وضعه، و المعنى دفنوا و التعبير عنهم بالأصحاب نظرا للغالب، و الأول هو الأظهر لقوله: يسمع قرع نعالهم
ترجمہ: (إذا وضع في قبره:جب بندے کو قبر میں رکھ دیا جاتا ہے) یہ شرط ہے اور (أتاه: دو فرشتےآتے ہیں) اس کی جزاء ہے اور پورا جملہ إن کی خبر ہے۔(وتولى: پیٹھ پھیر کر چلے جاتے ہیں) یعنی وہ پیٹھ پھیر جاتے ہیں اور منہ موڑ کر چلے جاتے ہیں۔ (عنه أصحابه: اس کے ساتھی) یعنی اس کی قبر سے چلے جاتے ہیں اور (سوالاتِ قبر شروع ہونے میں) اعتبار اکثریت کےوہاں سے چلے جانے کا ہے یا قبر میں رکھنے یعنی لوگوں کے میت کو دفن کرنے کا اعتبار ہے اور دفنانے والوں کو اصحاب (ساتھی) سے تعبیر کیا، اس لیے کہ غالب طور پر وہ اس کے ساتھ ہوتے ہیں۔ اور پہلا معنیٰ(یعنی سوالاتِ قبر کی ابتداء اکثریت کےوہاں سے چلے جانے سے ہو گی۔) زیادہ ظاہر ہے، اس وجہ سے کہ آگے یہ الفاظ ہیں:
يسمع قرع نعالهم
یعنی وہ ان کے جوتوں کی آواز سنتا ہے۔ (مرقاۃ المفاتیح، ج 1، ص 204، دار الفکر، بیروت)
علامہ شہاب الدين النفراوی المالكی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
اختلاف الرواة باختلاف حال المسئولين و هو المختار ووقت السؤال أول يوم بعد تمام الدفن و عند الانصراف عنه
ترجمہ: راویوں کا اختلاف مسئولین (مردوں) کی حالت کےاختلاف کی وجہ سے ہے اور یہی مختار ہے اور پہلے دن سوالاتِ قبر کا وقت تدفین کے بعد اور لوگوں کے اس کے پاس سے جانے کےوقت ہوتا ہے۔ (الفواکہ الدوانی، ج 1، ص 98، دار الفکر، بیروت)
حکیم الامت حضرت علامہ مفتی احمد یار نعیمی رحمۃ اللہ علیہ مراۃ المناجیح میں اوپر بیان کردہ حدیث کے تحت فرماتے ہیں: اس عبارت سے دو مسئلے معلوم ہوئے: ایک یہ کہ حسابِ قبر سب لوگوں کے لوٹ آنے کے بعد شروع ہوتا ہے۔ (مرآۃ المناجیح، ج 1، ص 127، نعیمی کتب خانہ گجرات)
اشکال: بعض روایات سے بظاہر یہ ثابت ہوتا ہے کہ تدفین کے بعد سوالاتِ قبر کا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے، اگرچہ وہاں لوگ موجود ہوں جیسا کہ بڑی مشہور روایت ہے کہ نبی پاک صلی اللہ علیہ و الہ و سلم تدفین کے بعد قبر کے پاس ٹھہرنے اور میت کے لیے استقامت و ثابت قدمی کی دعاکرنے کا حکم فرماتے اور ارشاد فرماتے کہ اب میت سے سوالات ہو رہے ہیں۔ اس کا کیا جواب ہو گا؟
رفعِ اشکال: آپ نے جس روایت کا ذکر کیا، اس میں موجود الفاظ فإنه الآن يسأل سے مراد یہ نہیں کہ سوالاتِ قبر شروع ہو چکے ہیں، بلکہ اس کا معنیٰ یہ ہے کہ سوالات ہونے والے ہیں، اس وجہ سے کہ عربی میں ”الآن“ ماضی اور مضارع میں حدِ فاصل کے طور پر یعنی ماضی کی انتہاء اور مستقبل کی ابتداء کے لیے استعمال ہوتا ہے اور اس کے مطابق اس کا ترجمہ یہ بنے گا کہ اب سوالات شروع ہونے والے ہیں۔
اشکال میں جس حدیث کا ذکر کیا گیا، وہ حدیث اور اس پر کلام درج ذیل ہے:
ابوداؤد شریف میں ہے:
كان النبي صلی اللہ علیہ و الہ و سلم إذا فرغ من دفن الميت وقف عليه فقال: استغفروا لأخيكم ثم سلوا له بالتثبيت فإنه الآن يسأل
ترجمہ: نبی پاک صلی اللہ علیہ والہ وسلم جب میت کی تدفین سے فارغ ہو جاتے، تو قبر کے پاس ٹھہر کر فرماتے کہ اپنے بھائی کے لئے مغفرت طلب کرو، پھر اللہ تعالیٰ سے اس کے لیے ثابت قدمی کا سوال کرو کہ اب اس سے سوال ہو رہے ہیں۔ (سنن ابی داؤد، ج 3، ص 209، رقم الحدیث: 3221، مطبوعہ الہند)
الفتوحات الربانیہ میں ہے:
(فإنه الآن) أي الزمان الذي نحن فيه أو قريب منه قال الواحدي الآن الوقت الذي أنت فيه و هو حد الزمانين حد الماضي من آخره و المستقبل من أوله
ترجمہ: (فإنه الآن) یعنی جس زمانے میں ہم موجود ہیں یا اس سے قریب کا زمانہ۔ امام واحدی نے فرمایا: الآن اس وقت کو کہتے ہیں، جس میں تم موجود ہو اور یہ لفظ دو زمانوں ، ماضی کی انتہا اور مستقبل کی ابتدا کے درمیان کے وقت کو جدا کرنے والا ہے۔ (الفتوحات الربانیۃ، ج 4، ص 193، دار احیاء التراث العربی، بیروت)
ان الفاظ کی شرح میں مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: یعنی (اب سوالاتِ قبر) ہونے ہی والے ہیں، کیونکہ حساب قبر لوگوں کے لوٹنے کے بعدشروع ہوتا ہے۔ (مرآۃ المناجیح، ج1، ص 139، نعیمی کتب خانہ، گجرات)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: FAM-1003
تاریخ اجراء: 05 رمضان المبارک 1447ھ / 23 فروری 2026ء