حیض کی وجہ سے طوافِ زیارت میں تاخیر پر دم لازم ہوگا؟
بسم اللہ الرحمن الرحیم
حیض کی وجہ سے طواف زیارت میں تاخیر کرنے سے دم کا حکم
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائےدین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک خاتون کو دوران حج وقوف عرفہ کے بعد حیض آگیا، حیض کی وجہ سے انہوں نےطواف زیارت نہیں کیا، لیکن دیگر افعال حج جیسےرمی وغیرہ اداکرلیے، پھر پندرہ ذو الحجۃ الحرام کو وہ پاک ہوگئیں اور اس کے بعد انہوں نے طواف زیارت ادا کرلیا، تو ایسی صورت میں کیا اس خاتون پر طواف زیارت میں تاخیر کرنے کی وجہ سے دم وغیرہ کوئی کفارہ لازم ہوگا یا نہیں؟
جواب
صورتِ مسئولہ میں اس خاتون پر طواف زیارت میں تاخیر کرنے کی وجہ سے دم وغیرہ کچھ لازم نہیں ہوگا۔
اس مسئلے کی تفصیل یہ ہے کہ ایام نحر میں طواف زیارت کی ادائیگی واجب ہے، بلاعذر شرعی طواف زیارت کو ایام نحر سے مؤخر کرنا مکروہ تحریمی وگناہ ہے، ایسی صورت میں دم لازم ہوگا اور ساتھ میں توبہ بھی کرنی ہوگی، البتہ اگر کسی عذر شرعی کی بنا پر طواف زیارت کو مؤخر کیا جیسے عورت کو ایام نحر سے پہلے حیض آگیا اور وہ ایامِ نحر کے بعد پاک ہوئی تو ایسی صورت میں اس پر طوافِ زیارت کو مؤخر کرنے کی وجہ سے کوئی دم وغیرہ کفارہ لازم نہیں ہوگا، ہاں ! اگر عورت کو ایام نحر شروع ہونے کے بعد حیض آیا اور اسے اتنا وقت ملا تھا کہ وہ طواف زیارت کے کم از کم چار پھیرے ادا کرلے یا ایام نحر شروع ہونے سے پہلے حیض آیا اور ایام نحر ختم ہونے سے پہلے پاک ہوگئی اور بارہ ذو الحجۃ الحرام کے غروب آفتاب ہونے سے پہلے اتنا وقت ملا تھا کہ طواف کے کم از کم چار پھیرے کرلے ، پھر بھی اس نے طواف نہ کیا تو ان دونوں صورتوں میں وہ گناہگار ہوگی اور اس پر دم بھی لازم ہوگا۔
در مختار میں ہے: و طواف الزیارۃ اول وقتہ بعد طلوع الفجر یوم النحر و ھو فیہ ای الطواف فی یوم النحر الاول افضل ، ویمتد وقتہ الیٰ آخر العمر۔ ۔ ۔ فان اخرہ عنھا ای ایام النحر ولیالیھا منھا کرہ تحریما و وجب دم لترک الواجب ، وھذا عند الامکان ، فلو طھرت الحائض ان قدر اربعۃ اشواط ، ولم تفعل لزم دم ، والا لا، ملتقطا" طواف زیارت کا وقت یوم نحر (دس ذو الحجۃ الحرام) کی طلوع فجر کے بعد شروع ہوتا ہے ، اور قربانی کے پہلے دن (دس ذو الحجۃ الحرام کو ) طواف زیارت کرنا افضل ہے ،اور اس کا وقت عمر کے آخری حصے تک وسیع ہے ، لیکن اگر اس کو ایام نحر اور ان راتوں سے مؤخر کیا ، تو یہ مکروہ تحریمی ہے اور واجب کے ترک کی وجہ سے دم لازم ہوگا ، اور یہ حکم امکان کے وقت ہے، جیسے اگر کوئی حائضہ عورت پاک ہوگئی اگرچہ چار پھیروں کی مقدار کے برابر، اور اس نے وہ ادا نہ کئے ، تو دم لازم ہوگا، ورنہ نہیں (یعنی اگر اتنا بھی وقت نہ ملا، تو دم لازم نہ ہوگا)۔ (در مختار ج 3، ص 615، 616، مطبوعہ: کوئٹہ)
یونہی مناسک ملاعلی قاری میں ہے: (فقولھم) ای مجملا (لا شیء علی الحائض) و کذ النفساء (لتاخیر الطواف)، ای طواف الزیارۃ کما فی فتاوی السراجیۃ و غیرھا (مقید بما اذا حاضت فی وقت لم تقدر علی اکثر الطواف) ای قبل الحیض (او حاضت قبل ایام النحر ولم تطھر الا بعد مضی ایام النحر) ای جمیعھا، و حاصلہ ما فی البحر الزاخر من ان المرأۃ اذا حاضت اونفست قبل ایام النحر فطھرت بعدمضیھافلاشئی علیہ" فقہائے کرام کا یہ مجمل قول کہ حائضہ اور نفاس والی عورت پر طواف زیارت میں تاخیر کرنے کی وجہ سے کچھ لازم نہیں ہوگا جیساکہ فتاویٰ سراجیہ وغیرہ میں ہے، یہ اس تفصیل کے ساتھ مقید ہے کہ عورت کو ایسے وقت حیض آیا کہ وہ حیض سے پہلے طواف (زیارت) کے اکثر پھیرے ادا کرنے پر بھی قادر نہیں تھی، یا اس کو ایام نحر سے پہلے حیض آیا اور وہ تمام ایام نحر گزرنے کے بعد پاک ہوئی ، اور اس کا حاصل کہ جو بحر زاخر میں ہے وہ یہ ہے کہ عورت کوجب ایام نحر سے پہلے حیض یا نفاس آجائے، اوروہ ایام نحرگزرنےکےبعدپاک ہو (اور پھر طوافِ زیارت کرے)، تو اس پر (طوافِ زیارت کو مؤخر کرنے کی وجہ سے) کچھ لازم نہیں۔ (مناسک ملاعلی قاری، ص 350، مطبوعہ: کراچی)
بہار شریعت میں ہے: جو گیارہویں کو نہ جائے بارھویں کو کرلے اس کے بعد بلا عذر تاخیر گناہ ہے، جرمانہ میں ایک قربانی کرنی ہوگی۔ ہاں مثلاً عورت کو حیض یا نفاس آگیا تو ان کے ختم کے بعد طواف کرے مگر حیض یا نفاس سے اگر ایسے وقت پاک ہوئی کہ نہا دھو کر بارھویں تاریخ میں آفتاب ڈوبنے سے پہلے چار پھیرے کرسکتی ہے تو کرنا واجب ہے، نہ کرے گی گنہگار ہوگی۔ یوہیں اگر اتنا وقت اُسے ملا تھا کہ طواف کرلیتی اور نہ کیا اب حیض یا نفاس آگیا تو گنہگار ہوئی۔ (بہار شریعت ج 1، ص 1145، مطبوعہ: مکتبۃ المدینہ، کراچی)
نوٹ: اوپر فتوے میں جہاں دم کی ادائیگی کا ذکر ہوا اس سے مراد ایک بکری یا بھیڑہے جو قربانی کی شرائط کے مطابق ہو اوراس کو حدود حرم میں ذبح کرنا ضروری ہے۔ جیساکہ صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں: اس بیان میں جہاں دم کہیں گے اس سے مراد ایک بکری یا بھیڑ ہوگی اور بدنہ اونٹ یا گائے یہ سب جانور انھیں شرائط کے ہوں جو قربانی میں ہیں ۔ ۔ ۔ ۔ کفارہ کی قربانی یا قارن و متمتع کے شکرانہ کی غیر حرم میں نہیں ہوسکتی۔ غیر حرم میں کی تو ادا نہ ہوئی۔ ملخصا (بہارشریعت، ج 01، ص 1162، مطبوعہ: مکتبۃ المدینہ، کراچی)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مفتی محمد نوید رضا عطاری مدنی
فتوی نمبر: Har-6870
تاریخ اجراء: 24 ذوالحجۃ الحرام 1446ھ / 21 جون 2025ء