عبدان نام رکھنا کیسا نیز اسکا مطلب؟
بسم اللہ الرحمن الرحيم
عبدان نام رکھنا کیسا؟
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
جواب
عبدان نام رکھنا، جائز ہے اس میں کوئی حرج نہیں ہے کیونکہ یہ صالحین اور نیک لوگوں کا نام ہے جیسا کہ عبدان نام کے کئی معتبر، ثقہ، متقی محدثین کرام گزر ے ہیں، اور حدیث پاک میں بھی نیک لوگوں کے ناموں پر نام رکھنے کا حکم ہے، لہٰذا عبدان نام رکھنا بالکل درست ہے۔ البتہ بہتر یہ ہے کہ اولاًبیٹے کا نام صرف محمد رکھیں، کیونکہ حدیث پاک میں محمد نام رکھنے کی فضیلت اور ترغیب ارشاد فرمائی گئی ہے اور ظاہر یہ ہے کہ یہ فضیلت تنہا نامِ محمدرکھنے کی ہے، پھر پکارنے کے لیے عبدان رکھ لیں۔
تاریخ الاسلام للذہبی میں ہے: عبدان بن زرين بن محمد، أبو محمد الأذربيجانی، الدوينی، المقرئ، الضرير. [المتوفى: 544 هـ] ۔ ۔ ۔ قالَ ابن عساكر: كان ثقة خيّرًا يسكن دويرة حمْد، و يصلی بالناس فی الجامع عند مرض البدليسی“ ترجمہ: عبدان بن زرین بن محمد، ابومحمد آذربائجانی دوینی مقری ضریر رحمۃ اللہ علیہ سن وفات 544 ہجری، ان کے بارے میں ابن عساکر نے کہا کہ یہ ثقہ اور بہترین انسان تھے، دویرہ حمد میں بدلیسی کی بیماری ہونے کے وقت وہاں جامع مسجد میں لوگوں کو نماز پڑھاتے تھے۔ (تاریخ الاسلام، جلد 11، ص 854، دار الغرب الإسلامی(
مختصر تاریخ دمشق میں ہے: عبدان بن محمد بن عيسى أبو محمد المروزی الحافظ الزاهد روى عن هشام بن عمار الدمشقی“ ترجمہ: عبدان بن محمد بن عیسی ابو محمد المزوری، حافظ ہیں، زاہد ہیں۔ ہشام بن عمار دمشقی سے حدیث روایت کی ہے۔ (مختصر تاریخ دمشق، ج 15، ص 289،دار الفکر، بیروت)
محمدنام رکھنے کی فضیلت:
کنز العمال میں روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا: من ولد له مولود ذكر فسماه محمدا حبا لی و تبركا باسمی كان هو و مولوده في الجنة“ ترجمہ: جس کے ہاں بیٹا پیدا ہو اور وہ میری محبت اور میرے نام سے برکت حاصل کرنے کے لئے اس کا نام محمد رکھے تو وہ اور اس کا بیٹا دونوں جنت میں جائیں گے۔ (کنز العمال، ج 16، ص 422، مؤسسة الرسالة، بیروت)
رد المحتار میں مذکورہ حدیث کے تحت ہے ” قال السيوطی: هذا أمثل حديث ورد فی هذا الباب و إسناده حسن“ ترجمہ: علامہ جلال الدین سیوطی علیہ الرحمہ نے فرمایا: جتنی بھی احادیث اس باب میں وارد ہوئیں، یہ حدیث ان سب میں بہتر ہے اور اس کی سند حسن ہے۔ (رد المحتار علی الدر المختار، کتاب الحظر و الاباحۃ، ج 6، ص 417،دار الفکر، بیروت)
الفردوس بماثور الخطاب میں ہے: تسموا بخياركم“ ترجمہ: اچھوں کے نام پر نام رکھو۔ (الفردوس بماثور الخطاب، جلد 2، صفحہ 58، حدیث 2329، دار الكتب العلمية، بيروت)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا سید مسعود علی عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: Web-2561
تاریخ اجراء: 23 ربیع الآخر 1447ھ / 17 اکتوبر 2025ء