فصیح الرسول نام رکھنا کیسا نیز اسکا مطلب؟
بسم اللہ الرحمن الرحيم
فصیح الرسول نام رکھنا
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
جواب
فصیح الرسول نام رکھنا جائز ہے کہ فصیح کا معنی ہے: صاف وشستہ کلام کرنےوالا، فصیح الکلام، خوش گفتار، کلام میں اچھے برے کی تمیز کرنے والا۔ اور لفظ رسول یہاں پر اضافت کے لیے ہے جیسا کہ ہمارے یہاں نام رکھنے میں عموماً اضافت ہی ملحوظ ہوتی ہے، اس صورت میں فصیح الرسول کا معنی ہوگا: وہ شخص جس کی زبان، فصاحت اور کلام کا ہنر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات پاک (ان کی مدح و ثنا، ان کے احکامات کی تبلیغ وغیرہ) کے لیے ہو۔ اس کی نظیر یہ ہے کہ ایک صحابی رسول کو خطیب رسول اللہ کہا جاتا ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ بارگاہ رسالت میں حاضر ہونے والے وفود کے خطبا اور ان کے فصیح و بلیغ کلام کا جواب دیا کرتے تھے۔ لہٰذا اس معنی کے اعتبار سے فصیح الرسول نام رکھنے میں کوئی حرج نہیں۔ البتہ! بہتر یہ ہے کہ اولاًبیٹے کانام صرف محمد رکھیں، کیونکہ حدیث پاک میں محمد نام رکھنے کی فضیلت اور ترغیب ارشاد فرمائی گئی ہے اور ظاہر یہ ہے کہ یہ فضیلت تنہا نام محمد رکھنے کی ہے، پھر پکارنے کے لیے لڑکے کا نام انبیائے کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَ السَّلامْ کے اسمائے مبارکہ اور صحابہ کرام و تابعین عظام اور بزرگانِ دین رِضْوَانُ اللہِ تَعَالیٰ عَلَیْھِمْ اَجْمَعِیْن نیک لوگوں کے ناموں میں سے کوئی نام رکھ لیجیے کہ حدیث پاک میں اچھوں کے نام پرنام رکھنے کی ترغیب ارشاد فرمائی گئی ہے۔
فصیح کے معنی کے متعلق القاموس الوحید میں ہے الفصیح: صاف و شستہ کلام کرنے والا، فصیح الکلام، خوش گفتار، کلام میں اچھے برے کی تمیز کرنے والا۔ (القاموس الوحید، صفحہ 1234، مطبوعہ: لاہور)
صحابی رسول حضرت ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ کو خطیب رسول کہا جاتا تھا ۔ چنانچہ المصباح المضی میں ہے ’’كان ثابت خطيب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم و خطيب الأنصار كما أن حسانا شاعر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم‘‘ ترجمہ: حضرت ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ خطیبِ رسول اور خطیب انصار تھے جیسا کہ حضرت حسان رضی اللہ عنہ ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے شاعر تھے۔ (المصباح المضي لابن حديدة، جلد 1، صفحہ 78، مطبوعہ: بیروت)
آپ رضی اللہ تعالی عنہ کو خطیب رسول کہنے کی وجہ بیان کرتے ہوئے امام نووی علیہ الرحمہ لکھتے ہیں: قال العلماء كان ثابت بن قيس خطيب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم يجاوب الوفود عن خطبهم و تشدقهم‘‘ ترجمہ: علماء کرام فرماتے ہیں کہ حضرت ثابت بن قیس رضی اللہ تعالی عنہ، رسول اللہ (عزوجل و صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم) کے خطیب تھے جو کہ بارگاہ رسالت میں حاضر ہونے والے وفود کے خطبات اور فصیح کلام کا جواب دیا کرتے تھے۔ (شرح النووی علی صحیح مسلم، جلد 8، صفحہ 39،دار الحدیث، قاہرہ)
محمدنام رکھنے کی فضیلت:
کنز العمال میں روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا: من ولد له مولود ذكر فسماه محمدا حبا لي و تبركا باسمي كان هو و مولوده في الجنة“ ترجمہ: جس کے ہاں بیٹا پیدا ہو اور وہ میری محبت اور میرے نام سے برکت حاصل کرنے کے لئے اس کا نام محمد رکھے تو وہ اور اس کا بیٹا دونوں جنت میں جائیں گے۔ (کنز العمال، ج 16، ص 422، مؤسسة الرسالة، بیروت)
رد المحتار میں مذکورہ حدیث کے تحت ہے ”قال السيوطي: هذا أمثل حديث ورد في هذا الباب وإسناده حسن“ ترجمہ: علامہ جلال الدین سیوطی علیہ الرحمۃ نے فرمایا: جتنی بھی احادیث اس باب میں وارد ہوئیں، یہ حدیث ان سب میں بہتر ہے، اور اس کی سند حسن ہے۔ (رد المحتار علی الدر المختار، کتاب الحظر و الاباحۃ، ج 9، ص 688، مطبوعہ: کوئٹہ)
امامِ اہلِسنت، امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: بہتر یہ ہے کہ صرف محمد یا احمد نام رکھے، اس کے ساتھ جان وغیرہ اور کوئی لفظ نہ ملائے کہ فضائل تنہا اِنہیں اَسمائے مبارَکہ کے واردہوئے ہیں۔ (فتاوی رضویہ، ج 24، ص 691، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
نیکوں کے نام پر نام رکھنے کی ترغیب:
الفردوس بماثور الخطاب میں ہے "تسموا بخياركم" ترجمہ: اچھوں کے نام پر نام رکھو۔ (الفردوس بماثور الخطاب، جلد2، صفحہ 58، حدیث 2328، دار الكتب العلمية، بيروت(
امام اہلسنت، امام احمد رضا خان قادری رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں: حدیث سے ثابت کہ محبوبانِ خدا، انبیاء و اولیاء علیہم الصلٰوۃ و الثناء کے اسمائے طیبہ پرنام رکھنا مستحب ہے جبکہ ان کے مخصوصات سے نہ ہو۔ (فتاوی رضویہ، ج 24، ص 685، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
صدر الشریعہ، مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں: بچہ کا اچھا نام رکھا جائے۔ ہندوستان میں بہت لوگوں کے ایسے نام ہیں، جن کے کچھ معنی نہیں یا اون کے برے معنی ہیں، ایسے ناموں سے احتراز کریں۔ انبیائے کرام علیہم الصلاۃ و السلام کے اسمائے طیبہ اور صحابہ و تابعین و بزرگان دِین کے نام پر نام رکھنا بہتر ہے، امید ہے کہ اون کی برکت بچہ کے شاملِ حال ہو۔ (بہار شریعت، جلد 3، حصہ 15، صفحہ 356، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
نوٹ: ناموں کے بارے میں تفصیلی معلومات اور بچوں اور بچیوں کے اسلامی نام حاصل کرنے کے لیے مکتبۃ المدینہ کی جاری کردہ کتاب نام رکھنے کے احکام کا مطالعہ کیجئے۔ آپ اس کتاب کو ڈاؤن لوڈ کر سکتے ہیں۔
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مفتی محمد حسان عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-5205
تاریخ اجراء: 06 صفر المظفر 1448ھ / 21 جولائی 2026ء