logo logo
AI Search

آئرہ، اُشنا یا اُشنہ نام رکھنا کیسا؟

بسم اللہ الرحمن الرحیم

بیٹی کا نام آئرہ، اُشنا یا اُشنہ رکھنا کیسا؟

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

بیٹی کا نام آئرہ، اُشنہ یا اُشنا نام رکھنا کیسا اور ان کے معنی بھی بتا دیں؟

جواب

لفظ آئرہ اور اشنا کا معنیٰ کسی مستند کتاب سے نہ مل سکا، لہٰذا یہ نام نہ رکھے جائیں۔ البتہ اُشنہ (الف کے پیش کے ساتھ) عربی زبان کا لفظ ہے، اس کا معنی ہے: ایک قسم کی جڑی بوٹی جو چٹانوں اور پتھروں پر اُگتی ہے، اس معنی کے لحاظ سے اُشنہ نام رکھ سکتے ہیں۔ لیکن بہتریہ ہے کہ بچی کا نام نبی اکرم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی ازواج، شہزادیوں، صحابیات اور دیگر نیک خواتین وغیرہ کے ناموں پر رکھا جائے کہ ان کی برکتیں حاصل ہوں۔

حدیث پاک میں اچھے نام رکھنے کی ترغیب ارشاد فرمائی گئی ہے، چنانچہ حضرت سیِّدُنا ابو دَرداء رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مَروی ہے کہ نبی پاک صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: ”انکم تدعون یوم القیامۃ باسماءکم واسماء اباءکم فاحسنوا اسماء کم“ یعنی قیامت کے دن تم اپنے اور اپنے آباء کے ناموں سے پکارے جاؤ گے، لہٰذا اپنے اچھے نام رکھا کرو۔ (ابو داود، جلد 4، صفحہ 374، حدیث: 4948، دار احیاء التراث، بیروت)

نوٹ: ناموں کے بارے میں تفصیلی معلومات حاصل کرنے کے لیے مکتبۃ المدینہ کی شائع کردہ کتاب نام رکھنے کے احکام کا مطالعہ کیجیے۔

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

مجیب: مولانا رضا محمد عطاری مدنی

فتوی نمبر: Web-2538

تاریخ اجراء: 23ربیع الثانی 1447ھ/17 اکتوبر 2025ء