logo logo
AI Search

جانبر نام رکھنا کیسا نیز اسکا مطلب؟

بسم اللہ الرحمن الرحيم

بیٹے کا نام جاں بر رکھنا

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

بیٹے کا نام "جاں بر" رکھنا کیسا؟

جواب

"جاں بر" کا معنی ہے: "محفوظ، زندہ سلامت اور صحیح سلامت۔" لہذا معنی کے اعتبار سے یہ نام رکھنا جائز ہے۔ البتہ! بہتر یہ ہے کہ اولاً بیٹے کا نام صرف محمد رکھا جائے؛ کہ حدیث پاک میں "محمد" نام رکھنے کی فضیلت ارشاد فرمائی گئی ہے اور بظاہر یہ فضیلت تنہا نامِ محمد رکھنے کی ہے۔ پھر پکارنے کے لیے لڑکے کا نام انبیائے کرام علیھم الصلاۃ و السلام، صحابہ کرام و تابعین عظام اور بزرگانِ دین رضوان اللہ علیھم اجمعین کے ناموں میں سے کوئی نام رکھ لیا جائے؛ کہ حضور علیہ الصلاہ و السلام نے نیک لوگوں کے نام پر نام رکھنے کی ترغیب ارشاد فرمائی ہے۔

اردو لغت کی مشہور کتاب فیروز اللغات میں جاں بر کے معنی کے متعلق یوں مذکور ہے "جاں بر:محفوظ، زندہ سلامت اور صحیح سلامت۔" (فیروز اللغات، صفحہ 474، فیروز سنز، لاہور)

محمد نام رکھنے کی فضیلت:

کنز العمال میں روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا: ”من ولد له مولود ذكر فسماه محمدا حبا لي وتبركا باسمي كان هو و مولوده في الجنة“ ترجمہ: جس کے ہاں بیٹا پیدا ہو پھروہ میری محبت اور میرے نام سے برکت حاصل کرنے کے لئے اس کا نام محمد رکھے تو وہ اور اس کا بیٹا دونوں جنت میں جائیں گے۔ (کنز العمال، ج 16، ص 422، مؤسسة الرسالة، بیروت)

رد المحتار میں مذکورہ حدیث کے تحت ہے ”قال السيوطي: هذا أمثل حديث ورد في هذا الباب و إسناده حسن“ ترجمہ: علامہ جلال الدین سیوطی علیہ الرحمۃ نے فرمایا: جتنی بھی احادیث اس باب میں وارد ہوئیں، یہ حدیث ان سب میں بہتر ہے اور اس کی سند حسن ہے۔ (رد المحتار علی الدر المختار، کتاب الحظر و الاباحۃ، ج 9، ص 688، مطبوعہ: کوئٹہ)

امامِ اہلِسنت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: "بہتر یہ ہے کہ صرف محمد یا احمد نام رکھے، اس کے ساتھ جان وغیرہ اور کوئی لفظ نہ ملائے کہ فضائل تنہا اِنہیں اَسمائے مبارَکہ کے واردہوئے ہیں۔" (فتاوی رضویہ، ج 24، ص 691، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

نیکوں کے نام پر نام رکھنے کی ترغیب:

الفردوس بماثور الخطاب میں ہے "تسموا بخياركم" ترجمہ: اچھوں کے نام پر نام رکھو۔ (الفردوس بماثور الخطاب، جلد 2، صفحہ 58، حدیث 2328، دار الكتب العلمية، بيروت)

امام اہلسنت امام احمد رضا خان قادری رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں: "حدیث سے ثابت کہ محبوبانِ خدا، انبیاء و اولیاء علیہم الصلٰوۃ و الثناء کے اسمائے طیبہ پرنام رکھنا مستحب ہے جبکہ ان کے مخصوصات سے نہ ہو۔" (فتاوی رضویہ، ج 24، ص685، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : "بچہ کا اچھا نام رکھا جائے۔ ہندوستان میں بہت لوگوں کے ایسے نام ہیں، جن کے کچھ معنی نہیں یا اون کے برے معنی ہیں ، ایسے ناموں سے احتراز کریں۔ انبیائے کرام علیہم الصلاۃ والسلام کے اسمائے طیبہ اور صحابہ و تابعین و بزرگان دِین کے نام پر نام رکھنا بہتر ہے، امید ہے کہ اون کی برکت بچہ کے شاملِ حال ہو۔" (بہار شریعت، جلد 3، حصہ 15، صفحہ 356، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

نوٹ: ناموں کے بارے میں تفصیلی معلومات اور بچوں اور بچیوں کے اسلامی نام حاصل کرنے کے لیے مکتبۃ المدینہ کی جاری کردہ کتاب ’’نام رکھنے کے احکام‘‘کا مطالعہ کیجئے۔ نیچے دئیے گئے لنک سے آپ اس کتاب کو ڈاؤن لوڈ کر سکتے ہیں۔

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: ابو حفص مولانا محمد عرفان عطاری مدنی
فتوی نمبر: WAT-5416
تاریخ اجراء: 29 ربیع الاول 1448ھ / 12 ستمبر 2026ء