منیب نام رکھنا اور اس کا مطلب
بسم اللہ الرحمن الرحیم
بیٹے کا نام منیب رکھنا
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
بیٹے کا نام منیب رکھنا کیسا ہے؟
جواب
"منیب" کا معنی ہے: "اللہ تعالی کی طرف توبہ کے ساتھ رجوع کرنے والا۔" پس اس کا معنی اچھا ہے، اور یہ اسلامی ناموں میں سے ہے، لہذا آپ اپنے بچے کا یہ نام رکھ سکتے ہیں، بلکہ یہ نام رکھنا مستحب ہے، کیونکہ منیب نام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا ہے مثلا حضرت منیب ازدی رضی اللہ عنہ وغیرہ؛ اور حدیث پاک میں ہمیں اچھے اور نیک لوگوں کے ناموں پر نام رکھنے کی ترغیب دلائی گئی ہے، اور امید ہے کہ یہ نام رکھنے سے نیک لوگوں کی برکتیں بچے کے شامل حال ہوں گی۔
البتہ! بچوں کے نام رکھنے میں زیادہ بہتر طریقہ یہ ہے کہ لڑکے کا نام اولا صرف "محمد" رکھا جائے، تاکہ نام محمد رکھنے کی جو فضیلت احادیث مبارکہ میں بیان کی گئی ہے، وہ بھی حاصل ہو جائے، کہ ظاہر یہ ہے کہ یہ فضیلت تنہا نام محمد رکھنے کی ہے، اور اس کے بعد پکارنے کے لیے منیب وغیرہ کوئی سا اچھا نام رکھ لیا جائے۔
لفظ "منیب"، "الانابۃ" مصدر سے اسم فاعل کا صیغہ ہے اور "الانابۃ" کا معنی لسان العرب میں یوں مذکور ہے: "الإنابة: الرجوع إلى اللہ بالتوبة. وفي التنزيل العزيز: منيبين إليه" ترجمہ: انابہ کا مطلب ہے: اللہ تعالی کی طرف توبہ کے ذریعے رجوع کرنا اور قرآن مجید میں ہے: "اس کی طرف رجوع لاتے ہوئے۔ (لسان العرب، جلد 1، صفحہ 775، دار صادر، بيروت)
امام اہلسنت، امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے اپنے شہرہ آفاق ترجمہ بنام ترجمہ کنز الایمان میں لفظ "منیب" کا ترجمہ رجوع کرنے والا کیا ہے۔ چنانچہ ارشاد خداوندی ہے: (اِنَّ اِبْرٰهِیْمَ لَحَلِیْمٌ اَوَّاهٌ مُّنِیْبٌ) ترجمہ کنز الایمان: بے شک ابراہیم تحمُّل والا بہت آہیں کرنے والا رجوع لانے والا ہے۔ (پارہ 12، سورہ ہود، آیت 75)
الاصابۃ فی تمییز الصحابۃ میں ہے "منيب بن عبد السلميّ، وكان من الصّحابة" ترجمہ: منیب بن عبد السلمی، صحابہ میں سے تھے۔ علیہم الرضوان۔ (الاصابۃ فی تمییز الصحابۃ، ج 06، ص 179، دارالکتب العلمیۃ، بیروت)
الاستیعاب فی معرفۃ الاصحاب میں ہے: "منيب الأزدي: أبو أيوب. له صحبة، وهو معدود في أهل الشام" ترجمہ: مُنیب اَزدی ابو ایوب۔ ان کو صحابہ میں شمار کیا جاتا ہے اور یہ اہل شام میں سے ہیں۔ (الاستيعاب في معرفة الأصحاب، جلد 4، صفحہ 1486، دار الجيل، بيروت)
احادیث میں اچھے لوگوں کے ناموں پر نام رکھنے کی ترغیب دلائی گئی ہے، مسند الفردوس میں حدیث پاک ہے: "تسموا بخياركم" ترجمہ: اپنے اچھے لوگوں کے ناموں پر نام رکھو۔ (مسند الفردوس، جلد 2، صفحہ 58، دار الكتب العلمية، بيروت)
حضرت طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے دس بیٹوں کے نام انبیاء کے نام پر رکھے اور اس کی وجہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: "فعلت ذلك تبركًا بهم" ترجمہ: میں نے ان سے برکت حاصل کرنے کے لیے ایسا کیا ہے۔ (النجم الوھاج فی شرح المنھاج، جلد 9، صفحۃ 530، دار المنهاج، جدة)
صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: "بچہ کا اچھا نام رکھا جائے۔ ہندوستان میں بہت لوگوں کے ایسے نام ہیں، جن کے کچھ معنی نہیں یا اون کے برے معنی ہیں، ایسے ناموں سے احتراز کریں۔ انبیائے کرام علیہم الصلاۃ والسلام کے اسمائے طیبہ اور صحابہ و تابعین و بزرگان دِین کے نام پر نام رکھنا بہتر ہے، امید ہے کہ اون کی برکت بچہ کے شاملِ حال ہو۔" (بہار شریعت، جلد 3، حصہ 15، صفحہ 356، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
امام اہلسنت، امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں: "حدیث سے ثابت کہ محبوبان خدا انبیاء و اولیاء علیہم الصلوۃ والثناء کے اسمائے طیبہ پر نام رکھنا مستحب ہے جبکہ ان کے مخصوصات سے نہ ہو۔" (فتاوی رضویہ، جلد 24، صفحہ 685، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
محمد نام رکھنے سے متعلق کنز العمال میں روایت ہے کہ حضور نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: "من ولد له مولود ذكر فسماه محمدا حبا لي وتبركا باسمي كان هو ومولوده في الجنة" ترجمہ: جس کے ہاں بیٹا پیدا ہو اور وہ میری محبت اور میرے نام سے برکت حاصل کرنے کے لئے اس کا نام محمد رکھے تو وہ اور اس کا بیٹا دونوں جنت میں جائیں گے۔ (کنز العمال، ج 16، ص 422، مؤسسة الرسالة، بیروت)
فتاوٰی رضویہ میں ہے "بہتر یہ ہے کہ صرف محمد یا احمد نام رکھے ان کے ساتھ ’’جان‘‘ وغیرہ اور کوئی لفظ نہ ملائے کہ فضائل تنہا انھیں اسمائے مبارَکہ کے وارِد ہوئے ہیں۔" (فتاوٰی رضویہ، ج 24، ص 691، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: ابو حفص مولانا محمد عرفان عطاری مدنی
فتوی نمبر: WAT-5405
تاریخ اجراء:28 ربیع الاول 1448ھ/11 ستمبر 2026ء