کشف العین نام رکھنا کیسا نیز اسکا مطلب؟
بسم اللہ الرحمن الرحيم
کشف العین اورقرۃ العین نام رکھنا
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
جواب
بچی کا نام کشف العین رکھاجاسکتا ہے، کشف کا معنی ہے: "کھولنا، ظاہر کرنا" اور عین کے بہت سے معانی ہیں، جن میں دو بہت زیادہ مشہور ہیں: "(1) آنکھ اور (2) پانی کا چشمہ۔" آنکھ معنی ہو، تو مطلب ہوگا: "آنکھ کا کھولنا یا ظاہر کرنا۔" اور پانی کا چشمہ معنیٰ ہو، تو مطلب ہوگا: "چشمے کو ظاہر کرنا۔"
البتہ! بہتر یہ ہے کہ بچی کا نام نبی پاک صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم کی ازواج مطہرات،بیٹیوں، صحابیات رضی اللہ تعالی عنہن، اور نیک خواتین کے نام پر رکھا جائے،کہ حدیث پاک میں اچھے لوگوں کے نام پرنام رکھنے کی ترغیب ارشاد فرمائی گئی ہے، نیز امید ہے کہ اچھے نام کی برکت اور ان بزرگ ہستیوں کی برکت بھی بچی کےشامل حال ہو گی۔
نوٹ: اسی سے ملتاجلتا نام "قرۃ العین" ہے،جوکہ ایک صحابیہ رضی اللہ تعالی عنہا کا نام ہے، اگر چاہیں تو یہ رکھ لیں۔
فیروز اللغات میں ہے ”کشف: کھولنا، ظاہر کرنا، پردہ اٹھانا۔“ (فیروز اللغات، ص 1073، فیروز سنز، لاہور)
المنجد میں ہے ”العین: اہل شہر، اہل مکان، بد نظری، خالص، واضح، نفیس، عزت، جھنڈا، نالی کے پانی کے گرنے کی جگہ، کنویں کے پانی پھوٹنے کی جگہ، پانی کا چشمہ، گوشہ، نظر، دیکھنے کی جگہ۔“ (المنجد، ص 596، مطبوعہ: لاہور)
"قرۃ العین" ایک صحابیہ کا نام ہے، جیسا کہ طبقات ابن سعد میں ہے ”قرة العين بنت عبادةبن نضلة. ۔ ۔ ۔ تزوجت قرة العين الصامت بن قيس بن أصرم فولدت له عبادة بن الصامت. شهد العقبة و بدرا و كان نقيبا. . ۔ و أسلمت قرة العين و بايعت رسول اللہ - صلى اللہ عليه و سلم“ ترجمہ: قرۃ العین بنت عبادہ بن نَضلہ نے صامت بن قیس بن اَصرم سے نکاح کیا، ان کے بطن سے عبادہ بن صامت رضی اللہ تعالی عنہ پیدا ہوئے، عبادہ بن صامت رضی اللہ تعالی عنہ نے بیعتِ عقبہ اور غزوۂ بدر میں شرکت کی اور وہ نقیب بھی مقرر ہوئے۔ اور قرۃ العین رضی اللہ تعالی عنہا اسلام لائیں، اور رسول اللہ (عزوجل و صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم) کے دستِ مبارک پر بیعت کی۔ (الطبقات الکبری لابن سعد، ج 08، ص 279، دار الکتب العلمیۃ، بیروت)
خاتم الحفاظ علامہ جلال الدین سیوطی شافعی علیہ الرحمۃ لکھتےہیں: ”عبادة بن الصامت بن قيس الأنصاري الخزرجي أبو الوليد: شهد العقبتين، و كان أحد النقباءقال في التهذيب: مات بالشام في خلافة معاوية، و أمه أسلمت أيضا، و بايعت، و اسمها قرة العين بنت عباد بن فضلة الخزرجية؛ و ليس في الصحابيات من يسمى بهذا الاسم سواها“ ترجمہ: عبادہ بن صامت بن قیس انصاری خزرجی، کنیت ابو الولید ہیں، انہوں نے دونوں بیعتِ عقبہ میں شرکت کی اور وہ نقبامیں سے ایک تھے، تہذيب میں ہے کہ عبادہ بن صامت رضی اللہ تعالی عنہ کا انتقال شام میں حضرت معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کے دورِ خلافت میں ہوا، ان کی والدہ بھی اسلام لائی تھیں، اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم کے دستِ مبارک پر بیعت کی تھی، ان کا نام قرۃ العین بنت عباد بن فضلہ خزرجیہ تھا، صحابیات (رضی اللہ تعالی عنہن) میں ان کے علاوہ کسی دوسری خاتون کا نام "قرۃ العین "نہیں تھا۔ (حسن المحاضرۃ، ج 01، ص 211، دار احیاء الکتب العربیۃ، بیروت)
نیکوں کے نام پر نام رکھنے کے حوالے سے ترغیب:
الفردوس بماثور الخطاب میں ہے "تسموا بخياركم" ترجمہ: اچھوں کے نام پر نام رکھو۔ (الفردوس بماثور الخطاب، جلد 2، صفحہ 58، حدیث 2328، دار الكتب العلمية، بيروت)
صدر الشریعہ، مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: "بچہ کا اچھا نام رکھا جائے۔ ہندوستان میں بہت لوگوں کے ایسے نام ہیں، جن کے کچھ معنی نہیں یا اون کے برے معنی ہیں ، ایسے ناموں سے احتراز کریں۔ انبیائے کرام علیہم الصلاۃ والسلام کے اسمائے طیبہ اور صحابہ و تابعین و بزرگان دِین کے نام پر نام رکھنا بہتر ہے، امید ہے کہ اون کی برکت بچہ کے شاملِ حال ہو۔" (بہار شریعت، جلد 3، حصہ 15، صفحہ 356، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
مفتی احمد یار خان نعیمی علیہ الرحمۃمراٰۃ المناجیح میں فرماتے ہیں: "بہتر یہ ہے کہ انبیاء کرام یا حضور علیہ السلام کے صحابہ عظام، اہلبیت اطہار کے ناموں پر نام رکھے جیسے ابراہیم و اسمعیل، عثمان، علی، حسین و حسن وغیرہ عورتوں کے نام آسیہ، فاطمہ، عائشہ وغیرہ اور جو اپنے بیٹے کا نام محمد رکھے وہ انشاء اللہ بخشا جائے گا۔" ( مراٰۃ المناجیح، جلد 5، صفحہ 30، نعیمی کتب خانہ، گجرات)
نوٹ: ناموں کے بارے میں تفصیلی معلومات حاصل کرنے کے لیے دعوتِ اسلامی کے مکتبۃ المدینہ کی کتاب ”نام رکھنے کے احکام“ پڑھیں۔ اس میں بچوں اور بچیوں کے بہت سے اسلامی نام بھی لکھے ہوئے ہیں، وہاں سے دیکھ کر کوئی سا بھی اچھا نام رکھا جا سکتا ہے۔ یہ کتاب ڈاؤن لوڈ بھی کی جا سکتی ہے۔
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مفتی محمد حسان عطاری مدنی
فتوی نمبر: WAT-5378
تاریخ اجراء: 20 ربیع الاول 1445ھ / 07 اکتوبر 2023ء