logo logo
AI Search

امتیاز نام رکھنا کیسا نیز اسکا مطلب؟

بسم اللہ الرحمن الرحيم

امتیاز نام رکھنا

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

امتیاز نام رکھنا کیسا؟ نیز اس کا معنیٰ کیا ہے؟

جواب

امتیاز لفظ کا معنیٰ ہے: "فرق۔ تفریق۔ سمجھ۔ شعوروغیرہ۔" اورفرق و تفریق کے معنی کے اعتبار سے نام کا مطلب بن سکتا ہے: فرق / تفریق کرنے والا۔ یعنی مثلاحق وباطل کے درمیان فرق / تفریق کرنے والا۔ اور سمجھ، شعور کے اعتبار سے مطلب بن سکتا ہے: "بہت زیادہ سمجھ اور شعور والا۔"

پس یہ نام رکھنا درست ہے، تاہم! بہتر یہ ہے کہ اولاً بیٹے کا نام صرف "محمد" رکھیں، کیونکہ حدیث پاک میں "محمد" نام رکھنے کی فضیلت اور ترغیب ارشاد فرمائی گئی ہے، اور ظاہر یہ ہے کہ یہ فضیلت تنہا نام محمد رکھنے کی ہے، پھر پکارنے کے لیےلڑکے کا نام انبیائے کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَ السَّلامْ کے مبارک ناموں، اور صحابہ کرام و تابعین عظام اور بزرگانِ دین رِضْوَانُ اللہِ تَعَالیٰ عَلَیْھِمْ اَجْمَعِیْن، نیک لوگوں کے مبارک ناموں میں سے کسی نام پر رکھ لیجیے! کہ حدیث پاک میں اچھوں کے نام پر نام رکھنے کی ترغیب ارشاد فرمائی گئی ہے۔

فیروز اللغات میں ہے "(1) امتیاز: فرق۔ تمیز۔ ترجیح۔ (2) تفریق۔ (3) سمجھ۔ شعور۔" (فیروز اللغات، صفحہ 127، فیروز سنز، لاہور)

"الفتاوی الفقہیۃ الکبری لابن حجر" میں ہے ”المصدر قد يراد به اسم الفاعل“ ترجمہ: مصدر سے کبھی اسم فاعل مراد ہوتا ہے۔ (الفتاوی الفقہیۃ الکبری، ج 4، ص 162، المكتبة الإسلامية(

"حسن التنبہ لما ورد فی التشبہ" میں ہے ”العرب يخبرون بالمصدر عن الذات مبالغة كما قالوا: زيد رضي، و زيد عدل“ ترجمہ: عرب والے کبھی مصدر کے ذریعے ذات کے متعلق مبالغہ کی خبر بھی دیتے ہیں جیسا کہ زید رضی اور زید عدل۔ (حسن التنبہ لما ورد فی التشبہ، ج 6، ص 451، دار النوادر، سوريا)

محمد نام رکھنے کی فضیلت:

کنز العمال میں روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”من ولد له مولود ذكر فسماه محمدا حبا لي وتبركا باسمي كان هو و مولوده في الجنة“ ترجمہ: جس کے ہاں بیٹا پیدا ہو اور وہ میری محبت اور میرے نام سے برکت حاصل کرنے کے لئے اس کا نام محمد رکھے تو وہ اور اس کا بیٹا دونوں جنت میں جائیں گے۔ (کنز العمال، ج 16، ص 422، مؤسسة الرسالة، بیروت)

رد المحتار میں مذکورہ حدیث کے تحت ہے ”قال السيوطي: هذا أمثل حديث ورد في هذا الباب وإسناده حسن“ ترجمہ: علامہ جلال الدین سیوطی علیہ الرحمۃ نے فرمایا:جتنی بھی احادیث اس باب میں وارد ہوئیں،یہ حدیث ان سب میں بہتر ہے اور اس کی سند حسن ہے۔ (رد المحتار علی الدر المختار، کتاب الحظر و الاباحۃ، ج 9، ص 688، مطبوعہ: کوئٹہ)

الفردوس بماثور الخطاب میں ہے: ”تسموا بخياركم“ ترجمہ: اچھوں کے نام پر نام رکھو۔ (الفردوس بماثور الخطاب، جلد 2، صفحہ 58، حدیث 2328، دار الكتب العلمية، بيروت(

امام اہلسنت، امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں: "حدیث سے ثابت کہ محبوبانِ خدا، انبیاء و اولیاء علیہم الصلٰوۃ و الثناء کے اسمائے طیبہ پر نام رکھنا مستحب ہے جبکہ ان کے مخصوصات سے نہ ہو" (فتاوی رضویہ، ج 24، ص 685، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ”بچہ کا اچھا نام رکھا جائے۔ ہندوستان میں بہت لوگوں کے ایسے نام ہیں، جن کے کچھ معنی نہیں یا اون کے برے معنی ہیں، ایسے ناموں سے احتراز کریں۔ انبیائے کرام علیہم الصلاۃ والسلام کے اسمائے طیبہ اور صحابہ و تابعین و بزرگان دِین کے نام پر نام رکھنا بہتر ہے ، امید ہے کہ اون کی برکت بچہ کے شاملِ حال ہو۔ (بہار شریعت، جلد 3، حصہ 15، صفحہ 356، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

نوٹ: ناموں کے بارے میں تفصیلی معلومات حاصل کرنے کے لیے دعوتِ اسلامی کے مکتبۃ المدینہ کی کتاب ”نام رکھنے کے احکام“ پڑھیں۔ اس میں بچوں اور بچیوں کے بہت سے اسلامی نام بھی لکھے ہوئے ہیں ،وہاں سے دیکھ کر کوئی سا بھی اچھا نام رکھا جا سکتا ہے۔ یہ کتاب ڈاؤن لوڈ بھی کی جا سکتی ہے۔

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: ابو حفص مولانا محمد عرفان عطاری مدنی
فتوی نمبر: WAT-5397
تاریخ اجراء: 26 ربیع الاول 1448ھ / 09 ستمبر 2026ء