logo logo
AI Search

معظمہ نام رکھنا کیسا؟

بسم اللہ الرحمن الرحیم

بیٹی کا نام معظمہ رکھنا

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

بیٹی کا نام ”معظمہ“ رکھ سکتے ہیں؟ اس کے درست معنی کیا ہیں؟

جواب

"مُعَظَّمَہ " (میم کے پیش، عین کے فتح، اور ظا کی تشدید اور اس کے فتح کے ساتھ)، اس کا معنی ہے: "تعظیم کی ہوئی خاتون۔ بُزرگ عورت۔ محترم عورت۔" لہذا یہ نام رکھا جا سکتا ہے۔

البتہ! بہتر یہ ہے کہ بچی کا نام نبی پاک صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات، بیٹیوں، صحابیات رضی اللہ عنہن اور نیک خواتین کے نام پر رکھا جائے کہ حدیث پاک میں اچھے لوگوں کے نام پرنام رکھنے کی ترغیب ارشاد فرمائی گئی ہے، نیز امید ہے کہ اچھے نام کی برکت اور ان بزرگ ہستیوں کی برکت بھی بچی کے شامل حال ہو گی۔

فیروز اللغات میں ہے " مُعَظَّمَہ: تعظیم کی ہوئی۔ بُزرگ عورت۔ محترم خاتون۔" (فیروز اللغات، 1326، فیروز سنز، لاہور)

الفردوس بماثور الخطاب میں ہے "تسموا بخياركم" ترجمہ: اچھوں کے نام پر نام رکھو۔ (الفردوس بماثور الخطاب، جلد 2، صفحہ 58، حدیث 2328، دار الكتب العلمية، بيروت)

صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: "بچہ کا اچھا نام رکھا جائے۔ ہندوستان میں بہت لوگوں کے ایسے نام ہیں، جن کے کچھ معنی نہیں یا اون کے برے معنی ہیں، ایسے ناموں سے احتراز کریں۔ انبیائے کرام علیہم الصلاۃ والسلام کے اسمائے طیبہ اور صحابہ و تابعین و بزرگان دِین کے نام پر نام رکھنا بہتر ہے، امید ہے کہ اون کی برکت بچہ کے شاملِ حال ہو۔" (بہار شریعت، جلد 3، حصہ 15، صفحہ 356، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

مفتی احمد یار خان نعیمی علیہ الرحمۃ مراٰۃ المناجیح میں فرماتے ہیں: "بہتر یہ ہے کہ انبیاء کرام یا حضور علیہ السلام کے صحابہ عظام، اہلبیت اطہار کے ناموں پر نام رکھے جیسے ابراہیم و اسمعیل، عثمان، علی، حسین و حسن وغیرہ عورتوں کے نام آسیہ، فاطمہ، عائشہ وغیرہ اور جو اپنے بیٹے کا نام محمد رکھے وہ انشاء بخشا جائے گا۔" (مراٰۃ المناجیح، جلد 5، صفحہ 30، نعیمی کتب خانہ، گجرات)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

مجیب: مولانا محمد نور المصطفیٰ عطاری مدنی

فتوی نمبر: WAT-5381

تاریخ اجراء:22 ربیع الاول 1448ھ/05 ستمبر 2026ء