بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
کیا الیاس نام رکھ سکتے ہیں؟
الیاس، اللہ تعالی کے ایک پیغمبر (علی نبینا و علیہ الصلوۃ و السلام) کا مقدس نام ہے، لہذا یہ نام رکھنا جائز بلکہ بہتر اور باعثِ برکت ہے۔
قرآن پاک میں ارشاد خداوندی ہے:
وَ اِنَّ اِلْیَاسَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَ
ترجمہ کنز الایمان: اور بےشک الیاس پیغمبروں سے ہے۔ (سورۃ الصٰفٰت، پ 23، آیت 123)
فیروز اللغات میں ہے اِلْیَاس: ایک پیغمبر علیہ الصلوۃ و السلام کا نام۔ (فیروز اللغات، صفحہ 125، فیروز سنز، لاہور)
رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ و آلہ و سلم نے ارشاد فرمایا:
تسموا باسماء الانبیاء
ترجمہ: تم انبیائے کرام علیہم الصلوۃ و السلام کے ناموں پر نام رکھو۔ (سنن ابی داود، جلد 4، صفحہ 288، حدیث: 4950، المکتبۃ العصریۃ، بیروت)
صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ الرحمۃ تحریر فرماتے ہیں: انبیائے کرام علیہم الصلاۃ و السلام کے اسمائے طیبہ اور صحابہ و تابعین و بزرگان دِین کے نام پر نام رکھنا بہتر ہے، امید ہے کہ اون کی برکت بچہ کے شاملِ حال ہو۔ (بہار شریعت، جلد 3، حصہ 15، صفحہ 356، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا محمد نوید چشتی عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4653
تاریخ اجراء: 27 رجب المرجب 1447ھ / 17 جنوری 2026ء