logo logo
AI Search

اواب نام رکھنا کیسا نیز اسکا مطلب؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

محمد اوّاب نام رکھنا

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

بیٹے کا نام محمد اواب رکھنا کیسا ہے؟

جواب

اَوَّاب کے معنی ہے: بہت رجوع کرنے والا۔ لہذا بچے کا نام محمد اواب رکھ سکتے ہیں۔ البتہ! بہتر یہ ہے کہ بیٹے کا نام اسم مبارک سے برکت لیتے ہوئے، صرف محمد یا احمد رکھا جائے، پھر پکارنے کے لئے الگ سے کوئی نام مثلا: اواب وغیرہ رکھ لیا جائے۔

اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے:

وَ وَهَبْنَا لِدَاوٗدَ سُلَیْمٰنَؕ- نِعْمَ الْعَبْدُؕ- اِنَّهٗۤ اَوَّابٌ(30)

ترجمہ کنز العرفان: اور ہم نے داؤد کوسلیمان عطا فرمایا، وہ کیا اچھا بندہ ہے بیشک وہ بہت رجوع کرنے والا ہے۔ (القرآن، پارہ 23، سورۃص، آیت:30)

لسان العرب میں ہے

قال اھل اللغۃ: الاواب الرجاع الذی یرجع الی التوبہ و الطاعۃ

ترجمہ: اہلِ لغت نے بیان کیا کہ اوّاب، بہت زیادہ رجوع کرنے والا ہے، جو توبہ اور اطاعت کی طرف رجوع کرے۔ (لسان العرب، جلد 1، صفحہ 219، مطبوعہ: بیروت)

کنز العمال میں روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا:

من ولد له مولود ذكر فسماه محمدا حبا لي و تبركا باسمي كان هو و مولوده في الجنة

ترجمہ: جس کے ہاں بیٹا پیدا ہو اور وہ میری محبت اور میرے نام سے برکت حاصل کرنے کے لئے اس کا نام محمد رکھے تو وہ اور اس کا بیٹا دونوں جنت میں جائیں گے۔ (کنز العمال، جلد 16، صفحہ 422، حدیث: 45223، مؤسسة الرسالة، بیروت)

رد المحتار میں مذکورہ حدیث کے تحت ہے

قال السيوطي: هذا أمثل حديث ورد في هذا الباب و إسناده حسن

ترجمہ: علامہ جلال الدین سیوطی علیہ الرحمہ نے فرمایا: جتنی بھی احادیث اس باب میں وارد ہوئیں، یہ حدیث ان سب میں بہتر ہے اور اس کی سند حسن ہے۔ (رد المحتار علی الدر المختار، کتاب الحظر و الاباحۃ، جلد 9، صفحہ 688، مطبوعہ: کوئٹہ)

فتاوی رضویہ میں ہے بہتر یہ ہے کہ صرف محمد یا احمد نام رکھے اس کے ساتھ جان وغیرہ اور کوئی لفظ نہ ملائے کہ فضائل تنہا انھیں اسمائے مبارَکہ کے وارِد ہوئے ہیں۔ (فتاوی رضویہ، جلد 24، صفحہ 691، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا ذاکر حسین عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4805
تاریخ اجراء: 14رمضان المبارک1447ھ / 04مارچ2026ء