logo logo
AI Search

جنت یا جنت الماویٰ نام رکھنا

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

بچی کا نام "جنت" یا "جنت الماویٰ" رکھنا

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

میں نے اپنی بیٹی کا نام "جنت" رکھا تھا، مگر اب میں اس کا نام بدل کر "جنت الماویٰ" رکھنا چاہتی ہوں۔ میرا سوال یہ ہے کہ کیا یہ نام رکھنا جائز ہے؟

جواب

بیٹی کا نام جنت یا جنت الماوی رکھا جا سکتا ہے، کہ جنت کالغت میں مطلب" باغ" ہے اور جنت الماوی کا لغت میں مطلب "آرام کاباغ" ہے، البتہ! جنت سے عام طور پر ذہن اس عظیم مقام کی طرف جاتا ہے، جو اللہ تعالی نے پرہیزگاروں کے لیے تیار کر رکھا ہے، اور جنت الماوی، جنت کے ایک اعلی طبقے کانام بھی ہے اور عام طور پرجب یہ نام بولا جاتا ہے، تو یہ نام سنتے ہی ذہن جنت کے اسی طبقے کی طرف ہی منتقل ہوتا ہے، لہذا اس اعتبار سے بچی کے یہ نام نہیں رکھنے چاہییں۔

اور پھر اس میں یہ خرابی بھی ہے کہ عام بول چال میں اس کے لیے نامناسب الفاظ بھی استعمال ہوں گے مثلاً کبھی طبیعت کا پوچھا جائے، تو کہا جائے گا کہ: جنت، یاجنت الماوی بیمار ہے، اسی طرح کوئی اس بچی کی برائی کرے گا تو جنت، یا جنت الماوی کہہ کر اس کی برائی بیان کرے گا، جو کہ مناسب نہیں۔

لہذا اس کی بجائے لڑکیوں کے نام نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کی ازواجِ مطہرات، صحابیات رضی اللہ تعالی عنہن اور نیک بیبیوں کے ناموں پر رکھے جائیں، کہ حدیث پاک میں اچھوں کے نام پر نام رکھنے کا حکم فرمایا گیا ہے، اور اس سے امید ہے کہ ان مقدس ہسیتوں کی برکت بھی بچی کے شامل حال ہوگی۔

قاموس الوحیدمیں ہے ”الجنۃ: باغ جس میں کھجور اور دیگر قسم کے درخت ہوں، مطلقاً باغ، جنت آخرت کی نعمتوں کا گھر۔“ (قاموس الوحید، صفحہ 288، مطبوعہ ادارہ اسلامیات)

فیروزاللغات میں ہے "جنت: باغ۔۔۔۔جنت الماوٰی: آرام کاباغ" (فیروز اللغات، ص 501، فیروزسنز، لاہور)

حدیث پاک میں ہے "عن سمرۃ بن جندب قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم:۔۔۔لا تسمين غلامك يسارا ولا رباحا ولا نجيحا ولا أفلح فإنك تقول أثم هو؟ فلا يكون، فيقول: لا" ترجمہ: حضرتِ سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ سرکارِ نامدار، مدینے کے تاجدار صلی اللہ تعالی علیہ واٰلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اپنے غلام کا نام نہ یَسَار ْرکھو، نہ رَبَاحْ، نہ نَجِیْحْ اور نہ اَفْلَحْ، کیونکہ تم پوچھو گے کہ کیا وہ یہاں ہے؟ نہیں ہوگا تو جواب آئے گا: نہیں۔ (صحیح مسلم، کتاب الآداب، صفحہ 849، رقم الحدیث 2137، دارالکتب العلمیۃ، بیروت)

الفردوس بماثور الخطاب میں ہے: ”تسموا بخياركم“ ترجمہ: اچھوں کے نام پر نام رکھو۔ (الفردوس بماثور الخطاب، جلد 2، صفحہ 58، دار الكتب العلمية، بيروت)

صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ”بچہ کا اچھا نام رکھا جائے۔ ہندوستان میں بہت لوگوں کے ایسے نام ہیں، جن کے کچھ معنی نہیں یا اون کے برے معنی ہیں، ایسے ناموں سے احتراز کریں۔ انبیائے کرام علیہم الصلاۃ والسلام کے اسمائے طیبہ اور صحابہ و تابعین و بزرگان دِین کے نام پر نام رکھنا بہتر ہے، امید ہے کہ اون کی برکت بچہ کے شاملِ حال ہو۔“ (بہار شریعت، جلد 3، حصہ 15، صفحہ 356، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

نوٹ: ناموں کے بارے میں تفصیلی معلومات حاصل کرنے کے لیے دعوتِ اسلامی کے مکتبۃ المدینہ کی کتاب ”نام رکھنے کے احکام“ پڑھیں۔ اس میں بچوں اور بچیوں کے بہت سے اسلامی نام بھی لکھے ہوئے ہیں، وہاں سے دیکھ کر کوئی سا بھی اچھا نام رکھا جا سکتا ہے۔

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

مجیب: مولانا احمد سلیم عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-5005
تاریخ اجراء: 26 ذو القعدۃ الحرام 1447ھ / 14 مئی 2026ء