logo logo
AI Search

سحر نام رکھنا اور اس کا مطلب؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

بچی کا نام سَحَر رکھنا

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ کیا سَحر نام رکھ سکتے ہیں اور اس کے معنی کیا ہیں ؟

جواب

"سَحَر" کا مطلب ہے: صبح، فجر، طلوع آفتاب سے کچھ پہلے کا وقت وغیرہ۔ "ان معانی کے اعتبار سے یہ نام رکھنا جائز ہے، ا س میں کوئی حرج نہیں۔البتہ! بہتر یہ ہے کہ اپنی بیٹیوں کے نام نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات، صحابیات اور نیک خواتین رضوان اللہ علیھن کے ناموں پر رکھے جائیں؛ کہ حدیث پاک میں اچھوں کے نام پر نام رکھنے کی ترغیب دلائی گئی ہے۔ نیز امید ہےکہ ان کے نام پر نام رکھنے سے بچی کو ان نیک ہستیوں کی برکات نصیب ہوں گی۔

المنجد میں ہے: ”السَحَر: یعنی صبح سے کچھ پہلے۔“ (المنجد، صفحہ 362، خزینہ علم وادب، لاہور)

فیرو زاللغات میں ہے: ”سَحَر: صبح، فجر، تڑکا۔“ (فیروز اللغات، ص827، فیروز سنز، لاہور)

اردو لغت کی مشہور ویب سائٹریختہ پر سَحَرکے معنی ہیں: ”طلوع آفتاب سے کچھ پہلے کا وقت، وہ وقت جب رات کا چھٹا حصہ باقی ہو، تڑکا، بھور۔“

الفردوس بماثور الخطاب میں حدیث مبارک ہے: ”تسموا بخياركم“ ترجمہ: اچھوں کے نام پر نام رکھو۔ (الفردوس بماثور الخطاب، جلد 2، صفحہ 58، حدیث 2328، دار الكتب العلمية، بيروت)

صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ”بچہ کا اچھا نام رکھا جائے۔ ہندوستان میں بہت لوگوں کے ایسے نام ہیں، جن کے کچھ معنی نہیں یا اون کے برے معنی ہیں، ایسے ناموں سے احتراز کریں۔ انبیائے کرام علیہم الصلاۃ والسلام کے اسمائے طیبہ اور صحابہ و تابعین و بزرگان دِین کے نام پر نام رکھنا بہتر ہے، امید ہے کہ اون کی برکت بچہ کے شاملِ حال ہو۔“ (بہار شریعت، جلد 3، حصہ 15، صفحہ 356، مکتبۃ المدینۃ، کراچی)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا محمد فراز عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4959
تاریخ اجراء: 25 شوال المکرم1447ھ/14 اپریل 2026ء