logo logo
AI Search

عجوہ نام رکھنا کیسا؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

لڑکی کا نام "عجوہ" رکھنا

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

لڑکی کا عجوہ نام رکھنا کیسا؟

جواب

عجوہ، مدینہ شریف بلکہ دنیا کی سب سے اعلیٰ کھجور کی ایک قسم کا نام ہے، اس نسبت سے لڑکی کا عجوہ نام رکھنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ لسان العرب میں ہے: ”والعجوة: ضرب من التمر يقال هو مما غرسه النبي صلی اللہ علیہ وسلم بيده، ويقال: هو نوع من تمر المدينة أكبر من الصيحاني يضرب إلى السواد من غرس النبي صلی اللہ علیہ وسلم. قال الجوهري: العجوة ضرب من أجود التمر بالمدينة ونخلتها تسمى لينة“ ترجمہ: عجوہ: کھجور کی ایک قسم ہے، کہا جاتا ہے کہ یہ ان درختوں میں سے ہے، جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے لگائے تھے، اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ یہ مدینہ کی کھجور کی ایک قسم ہے جو "صیحانی" سے بڑی ہوتی ہے، اور اس کا رنگ سیاہی مائل ہوتا ہے، اور یہ بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لگائے ہوئے درختوں میں سے ہے۔ جوہری نے کہا: عجوہ مدینہ کی بہترین کھجوروں کی ایک قسم ہے، اور اس کے درخت کو "لینۃ" کہا جاتا ہے۔ (لسان العرب، جلد15، صفحہ31، دار صادر، بيروت)

"امیر اہلسنت سے نام رکھنے کے بارے میں سوال وجواب" نامی کتاب میں ہے: ”عجوہ مدینے پاک بلکہ دینا کی سب سے اعلیٰ کھجور ہے، اس نسبت سے نام رکھنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔“ (امیر اہلسنت سے نام رکھنے کے بارے میں سوال و جواب ، صفحہ10، مکتبۃ المدینۃ، کراچی)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا محمد ابو بکر عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4902
تاریخ اجراء:28 شوال المکرم 1447ھ/17 اپریل 2026 ء