logo logo
AI Search

محمد حریص نام رکھنا کیسا؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

بچے کا نام محمد حریص رکھنا

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

میرے بھائی کا نام "محمد حَرِيص امام" ہے، جس کی عمر 26 سال ہے ، کیا یہ نام درست ہے ؟ "امام" نام آخر میں بابا کے نام کی وجہ سے ہے؛ کیونکہ میرے بابا کا نام امام بخش ہے، تو اس وجہ سے میرے بھائی کا نام محمد حريص امام بنا، تو اب بھی کیا نام غلط ہے، اور عموما ہم اسے حریص کہہ کر پکارتے ہیں۔

جواب

"محمد حریص" نام رکھنا درست نہیں؛ اس لیے کہ حریص، حرص سے نکلا ہے اور اس کا معنی ہے: "لالچ، بدنیتی، بخل "تو یوں حریص کا معنی ہوا: "لالچی، بدنیت والا، بخیل" جس سے واضح ہے کہ اس کے معانی اچھے نہیں ہیں، اور جس کے معنی اچھے نہ ہوں، ایسا نام نہیں رکھنا چاہیے، نبی پاک صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ایسے ناموں کو تبدیل فرما دیا کرتے تھے، پھر اس کے ساتھ لفظ "محمد" لگانے سے معنی میں قباحت (برائی) مزید بڑھ جاتی ہے، لہذا یہ نام رکھنا درست نہیں ہے، اس کے بجائے، انبیاے کرام علیہم الصلوۃ والسلام یا صحابہ کرام علیہم الرضوان یا اولیاے عظام علیہم الرحمہ کے ناموں پر نام رکھیں۔اور بہتر یہ ہے کہ اولاً بیٹے کا نام صرف "محمد" رکھیں، کیونکہ حدیث پاک میں"محمد" نام رکھنے کی فضیلت اور ترغیب ارشاد فرمائی گئی ہے اور ظاہر یہ ہے کہ یہ فضیلت تنہا نام محمد رکھنے کی ہے، پھر پکارنے کے لیے لڑکے کا نام انبیائے کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلامْ کے اسمائے مبارکہ اور صحابہ کرام و تابعین عظام اور بزرگانِ دین رِضْوَانُ اللہِ تَعَالیٰ عَلَیْھِمْ اَجْمَعِیْن نیک لوگوں کے ناموں میں سے کوئی نام رکھ لیجیے کہ حدیث پاک میں اچھوں کے نام پرنام رکھنے کی ترغیب ارشاد فرمائی گئی ہے۔

نوٹ: اگر آپ کے ذہن میں یہ بات ہے کہ قرآن پاک میں تو حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے حریص کا لفظ استعمال کیا گیا ہے تو پھر محمد حریص نام کیوں نہیں رکھ سکتے ؟

تو اس کا جواب یہ ہے کہ:

قرآن پاک میں نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کے لیے یہ لفظ "عَلٰی" کے صلہ یعنی” علیکم “کے ساتھ استعمال ہوا ہے ، اور "عَلٰی" کے صلہ کے ساتھ اس کے یہ معانی ہیں: "کسی پر مہربان ہونا ، نفع پہچانے کی کوشش کرنا اور اچھی طرح خیال رکھنا ۔" یہ معانی حضور صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کی شان رحمت کو ظاہر کرتے ہیں، جبکہ "عَلٰی" کے صلہ کے بغیر جو معانی ہیں، وہ حضور صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کی شان اقدس کے خلاف ہیں، یہی وجہ ہے کہ قرآن پاک کے اس مقام کی تلاوت کرتے وقت، لفظ "حریص" پر وقف کرنا، ناجائز و ممنوع ہے۔

نبی پاک صَلَّی اللہ تَعَالیٰ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ بُرے ناموں کو تبدیل فرما دیا کرتے تھے، جیسا کہ سنن ترمذی میں ہے "عن عائشة، أن النبي صلى اللہ عليه وسلم کان یغیر‌ الاسم القبيح" ترجمہ: حضرت سیدہ عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہ تَعَالیٰ عَنْھَا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالیٰ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ بُرے نام تبدیل فرما دیا کرتے تھے۔ (سنن الترمذی، جلد 4، صفحہ 523، رقم الحدیث 2839، دار الغرب الإسلامي، بيروت)

بہار شریعت میں ہے"بچہ کا اچھا نام رکھا جائے۔ ہندوستان میں بہت لوگوں کے ایسے نام ہیں، جن کے کچھ معنی نہیں یا اون کے برے معنی ہیں، ایسے ناموں سے احتراز کریں۔" (بہار شریعت، جلد 3، حصہ 15، صفحہ 356، مکتبۃ المدینہ)

القاموس الوحید میں ہے: "الحرص: لالچ، بدنیتی، بخل" (القاموس الوحید، ص 328، ادارہ اسلامیات، لاہور)

"علی" کے صِلہ کے ساتھ اس کا معنی بیان کرتے ہوئے القاموس الوحید میں ہے: "حرص علی الشئی: کسی چیز کی بے انتہاء خواہش رکھنا، انتہائی توجہ دینا۔ حرص علی الرجل: کسی پر مہربان ہونا" (القاموس الوحید، ص 328، ادارہ اسلامیات، لاہور)

مفتی وقار الدین علیہ الرحمہ سے سوال ہوا: "سورہ توبہ، آیت 128 میں لفظ "حریص" آتا ہے اس لفظ پر وقف کرنا جائز ہے یا نہیں ؟"

تو اس کے جواب میں فرمایا: "حریص" پر رکنا جائز نہیں، "علیکم" پر وقف کرنا چاہیے۔ "حریص علیکم" کے معنی ہیں : "وہ تمھاری بھلائی کے نہایت چاہنے والے ہیں۔ "اور اگر "حریص" پر جب وقف کیا جائے گا تو اس کا معنی یہ ہو گا کہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام حریص یعنی لالچی ہیں (نعوذ باللہ) یہ بات غلط ہے اور شان نبوت کے خلاف ہے۔" (وقار الفتاوی، ج 2، ص 86، بزم وقار الدین، کراچی)

جہان مفتی اعظم ہند میں ہے ”سراج العارفین حضرت علامہ مولانا غلام آسی رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں کہ انھوں نے اپنے نام کے شروع میں برکت کے لیے لفظ محمد شامل کر لیا تھا۔ اس پر سیدی حضرت مفتی اعظم رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے تنبیہ فرمائی کہ یہاں اسم رسالت نہیں ہونا چاہیے۔ علامہ فرماتے ہیں کہ میں نے فورا عرض کیا کہ حضور پھر محمد عبد الحئی کا کیا حکم ہوگا۔ اس کے جواب میں حضرت نے فرمایا، کجا عبد الحی و کجا غلام آسی؟ علامہ فرماتے ہیں، یہ جواب سن کر میں حیرت زدہ رہ گیا اور حضرت کے نفقہ فی الدین کی عظمت دل میں خوب خوب رچ بس گئی۔

حضرت مفتی اعظم علیہ الرحمہ نے اپنے ارشاد سے یہ رہنمائی فرمائی ہے کہ جس نام کے شروع میں لفظ محمد لایا جائے، اگر اس نام کا اطلاق لفظ "محمد" پر درست ہو تو وہاں لفظ "محمد" لانا درست ہو گا، اور اگر نام کا اطلاق لفظ "محمد" پر درست نہ ہو تو وہاں لفظ "محمد" شروع میں لانا درست نہ ہوگا۔ حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم عبدالحی ہیں لہذا محمد عبد الحی کہنا درست ہے لیکن غلام آسی نہیں ہیں، اس لیے محمد غلام آسی کہنا نا مناسب ہے۔"(جہان مفتی اعظم ہند، ص 451، 452، شبیر برادرز، لاہور)

محمد نام رکھنے کی فضیلت:

کنز العمال میں روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”من ولد له مولود ذكر فسماه محمدا حبا لي وتبركا باسمي كان هو ومولوده في الجنة“ ترجمہ: جس کے ہاں بیٹا پیدا ہو اور وہ میری محبت اور میرے نام سے برکت حاصل کرنے کے لئے اس کا نام محمد رکھے تو وہ اور اس کا بیٹا دونوں جنت میں جائیں گے۔ (کنز العمال، ج 16، ص 422، مؤسسة الرسالة، بیروت)

رد المحتار میں مذکورہ حدیث کے تحت ہے ”قال السيوطي: هذا أمثل حديث ورد في هذا الباب وإسناده حسن“ ترجمہ: علامہ جلال الدین سیوطی علیہ الرحمۃ نے فرمایا: جتنی بھی احادیث اس باب میں وارد ہوئیں، یہ حدیث ان سب میں بہتر ہے اور اس کی سند حسن ہے۔ (رد المحتار علی الدر المختار، کتاب الحظر والاباحۃ، ج 6، ص 417، دار الفکر، بیروت)

امامِ اہلِسنت سیدی اعلیٰ حضرت الشاہ امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: "بہتریہ ہے کہ صرف محمد یا احمد نام رکھے، اس کے ساتھ جان وغیرہ اور کوئی لفظ نہ ملائے کہ فضائل تنہا اِنہیں اَسمائے مبارَکہ کے واردہوئے ہیں۔" (فتاوی رضویہ، ج 24، ص 691، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

نیکوں کے نام پر نام رکھنے کی ترغیب:

الفردوس بماثور الخطاب میں ہے:  ”تسموا بخياركم“ ترجمہ: اچھوں کے نام پر نام رکھو۔ (الفردوس بماثور الخطاب، جلد 2، صفحہ 58، حدیث 2328، دار الكتب العلمية، بيروت)

صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: "بچہ کا اچھا نام رکھا جائے۔ ہندوستان میں بہت لوگوں کے ایسے نام ہیں، جن کے کچھ معنی نہیں یا اون کے برے معنی ہیں، ایسے ناموں سے احتراز کریں۔ انبیائے کرام علیہم الصلاۃ والسلام کے اسمائے طیبہ اور صحابہ و تابعین و بزرگان دِین کے نام پر نام رکھنا بہتر ہے، امید ہے کہ اون کی برکت بچہ کے شاملِ حال ہو۔" (بہار شریعت، جلد 3، حصہ 15، صفحہ 356، مکتبۃ المدینۃ، کراچی)

مفتی احمد یار خان نعیمی علیہ الرحمۃ مراٰۃ المناجیح فرماتے ہیں: "بہتر یہ ہے کہ انبیاء کرام یا حضور علیہ السلام کے صحابہ عظام، اہلبیت اطہار کے ناموں پر نام رکھے جیسے ابراہیم و اسمعیل، عثمان، علی، حسین و حسن وغیرہ عورتوں کے نام آسیہ، فاطمہ، عائشہ وغیرہ اور جو اپنے بیٹے کا نام محمد رکھے وہ انشاء ﷲ بخشا جائے گا۔" (مراٰۃ المناجیح، جلد 5، صفحہ 30، نعیمی کتب خانہ، لاہور)

نوٹ: ناموں کے بارے میں تفصیلی معلومات اور بچوں اور بچیوں کے اسلامی نام حاصل کرنے کے لیے مکتبۃ المدینہ کی جاری کردہ کتاب ’’نام رکھنے کے احکام‘‘ کا مطالعہ کیجئے۔

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

مجیب: مولانا محمد بلال عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4985
تاریخ اجراء: 19 ذو القعدۃ الحرام 1447ھ / 07 مئی 2026ء