عامرہ نام رکھنا کیسا نیز اسکا مطلب؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
بچی کا نام عامرہ رکھنا
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
عامرہ کا معنی کیا ہے؟
جواب
عامرہ، عامر کی مونث ہے، جس کا معنی ہے گھر کی رہنے والی (یعنی گھر کو آباد رکھنے والی)۔ اس اعتبار سے لڑکی کا یہ نام رکھنا جائز ہے، البتہ! بہتر یہ ہے کہ صحابیات اور نیک صالحین کے نام پر ان کا نام رکھ لیا جائے، جس سے امید ہے کہ ان کی برکت بچی کے شامل حال ہوگی۔
الفردوس بماثور الخطاب میں ہے "تسموا بخياركم" ترجمہ: اپنے اچھوں کے نام پر نام رکھو۔ (الفردوس بماثور الخطاب، جلد 2، صفحہ 58، رقم الحدیث: 2328، دار الكتب العلمية، بيروت)
صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں: انبیائے کرام علیہم الصلاۃ و السلام کے اسمائے طیبہ اور صحابہ و تابعین و بزرگان دِین کے نام پر نام رکھنا بہتر ہے، امید ہے کہ اون کی برکت بچہ کے شاملِ حال ہو۔ (بہار شریعت، جلد 3، حصہ 15، صفحہ 356، مکتبۃ المدینۃ، کراچی)
لغت کی مشہور کتاب المنجد میں ہے العامر: گھر کا رہنے والا ۔ ج عمار، مونث عامرۃ۔ (المنجد، صفحہ 586، مطبوعہ: لاہور)
یونہی مصباح اللغات میں ہے العامر: گھر کا رہنے والا ۔ ج عمار، مونث عامرۃ۔ (مصباح اللغات، 551، مطبوعہ: لاہور)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا احمد سلیم عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4964
تاریخ اجراء: 26 شوال المکرم 1447ھ / 15 اپریل 2026ء